اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

امریکہ کی اسٹین فورڈ یونی ورسٹی کی کہانی

e06b44b6 2e5b 460f a57f 102046085aec

 

یہ امریکا کی معروف اسٹین فورڈ یونی ورسٹی ہے جو کیلی فورنیا میں واقع ہے۔
اس یونی ورسٹی کے بارے میں ایک کہانی مشہور ہے کہ یہ یونی ورسٹی لیلینڈ اور جین اسٹین فورڈ نے اپنے متوفی بیٹے لیلینڈ اسٹین فورڈ جونیئر کی یاد میں بنانے کا فیصلہ کیا جو نوجوانی میں انتقال کر گیا تھا۔ کہانی کے مشہور ورژن کے مطابق اسٹینفورڈز ہارورڈ کے صدر چارلس ایلیٹ کے پاس ایک بڑا عطیہ دینے کے لیے گئے تھے، کیوں کہ ان کا بیٹا ہارورڈ یونی ورسٹی میں پڑھتا تھا، لیکن ان کے سادہ لباس کی وجہ سے چارلس نے ان سے سیدھے منہ بات تک کرنا پسند نہیں کی، اس لیے سٹین فورڈز نے اپنے بیٹے کی یاد میں پوری یونی ورسٹی بنانے کا فیصلہ کیا اور اپنے سرنیم پر اسٹین فورڈ یونی ورسٹی قائم کی۔ تاہم، اس کہانی کی تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے۔ البتہ اس کہانی کے افسانہ ہونے کے ثبوت موجود ہیں مثلاً یہ کہ اسٹین فورڈز اتنے امیر اور با اثر تھے کہ وہ اپنے بیٹے کی یادگار بنانے کا فیصلہ خود کر سکتے تھے۔ اور سب سے اہم یہ کہ لیلینڈ اسٹین فورڈ جونیئر نے کبھی ہارورڈ یونی ورسٹی میں داخلہ نہیں لیا اور نہ ہی وہاں سے تعلیم حاصل کی۔
اب اس یونی ورسٹی کے قیام کی اصل کہانی کی طرف آتے ہیں۔ یہ کہانی بصیرت، المیہ، اور استقامت کی ایک یادگار ہے۔ یہ یونی ورسٹی لیلینڈ اور جین سٹین فورڈ نے اپنے اکلوتے بچے لیلینڈ سٹین فورڈ جونیئر کی یاد میں قائم کی۔ لیلینڈ اسٹین فورڈ کیلی فورنیا کے سابق گورنر اور امریکی سینیٹر تھے، جب کہ ان کی بیوی جین اسٹین فورڈ انسان دوست خاتون تھیں۔ اس خوش حال گھرانے کو 1884ء میں اس وقت شدید صدمے کا سامنا کرنا پڑا جب لیلینڈ اسٹین فورڈ جونیئر، جو ان کا اکلوتا بیٹا تھا، 15 سال کی عمر میں ٹائیفائیڈ سے انتقال کر گیا۔ ظاہر ہے اکلوتے بیٹے کی عین نوجوانی میں اچانک موت نے والدین پر گہرا اثر کیا اور انہوں نے سوچا کہ اپنے اکلوتے بیٹے کی یاد منانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ پالو آلٹو، کیلی فورنیا میں اپنی جائیداد پر ایک نئی یونی ورسٹی قائم کی جائے۔ اس فیصلے کی بنیاد یہ یقین، یہ خوب صورت احساس تھا کہ "کیلی فورنیا کے بچے ہمارے بچے ہوں گے۔”

اسٹین فورڈ یونیورسٹی باضابطہ طور پر 1885ء میں قائم ہوئی اور یونیورسٹی نے 1891ء میں طلباء کو داخلہ دینا شروع کر دیا۔ ڈیوڈ اسٹار اردن کو اس یونی ورسٹی کاپہلا صدر مقرر کیا گیا۔ اس نے ایک غیر فرقہ وارانہ، مخلوط تعلیمی ادارے پر زور دیا، جو اس وقت کے لیے غیر معمولی فیصلہ تھا۔ یہ یونی ورسٹی 15 فیکلٹی ممبران اور 555 طلباء کے ساتھ کھولی گئی تھی۔

اس یونی ورسٹی پر کڑا وقت بھی آیا۔ جب 1893ء میں لیلینڈ سٹین فورڈ کی موت کے بعد یونی ورسٹی کو شدید مالی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مشکل وقت میں جین سٹین فورڈ نے ذاتی قربانی دی اور خاندانی اثاثے بیچ کر یونی ورسٹی کو بچائے رکھنے میں کامیاب ہو گئیں۔
اسی طرح 1906ء میں جب سان فرانسسکو میں زلزلے آیا تو اس زلزلے نے کیمپس کو خاصا نقصان پہنچایا۔ اس وقت یونی ورسٹی کی تعمیر نو کی کوششوں میں اس وقت کے صدر ڈیوڈ سٹار جورڈن اور یونی ورسٹی کے دیگر رہنماؤں نے بڑی محنت کی۔

آج Stanford دنیا کے معروف تحقیقی اداروں میں سے ایک ہے۔ یہ متعدد نوبل انعام یافتہ، ٹیورنگ ایوارڈ یافتہ اور دیگر ممتاز علماء کا مادر علمی رہا ہے۔ اسٹین فورڈ فیکلٹی اور اس کے سابق طلباء نے کمپیوٹر سائنس، طب، قانون، کاروبار، اور ہیومینٹیز جیسے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ سٹین فورڈ یونی ورسٹی وہی یونی ورسٹی ہے جس نے سلیکون ویلی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس یونی ورسٹی کے فیکلٹی ممبران اور سابق طلباء نے ہیولٹ پیکارڈ، گوگل اور یاہو جیسی کمپنیوں کی بنیاد رکھی ہے یا ان میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

آج اسٹین فورڈ اپنے تعلیمی پروگراموں، تحقیقی کارناموں، اور ٹیکنالوجی اور کاروبار میں اپنی کارکردگی کے لیے مشہور ہے۔ اس یونی ورسٹی کو پوری دنیا سے آئے طلباء کے سبب ایک بڑا اور متنوع طلباء کا ادارہ مانا جاتا ہے۔ اسٹین فورڈ کا کیمپس ریاست ہائے متحدہ کے سب سے بڑے کیمپس میں سے ایک ہے، جو 8,180 ایکڑ پر محیط ہے۔ یہاں ہوور ٹاور، اسٹین فورڈ میموریل چرچ، اور روڈن سکلپچر گارڈن سب سے زیادہ قابلِ ذکر مقامات سمجھے جاتے ہیں۔ اسٹین فورڈ دنیا کی سب سے بڑی یونی ورسٹی سمجھی جاتی ہے جو وسیع تحقیق، اسکالرشپس، اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو فنڈ دینے کی اجازت دیتی ہے۔ یہاں ذہین بچوں کو داخلہ مل جاتا ہے خواہ وہ کسی طبقے سے ہوں تاہم عمدہ رزلٹ کے بغیر اس یونی ورسٹی میں داخلہ لینے کی استطاعت کسی کسی کی ہی ہو سکتی ہے۔
غور کیجیے تو اسٹین فورڈ یونیورسٹی کی کہانی جذبے، جدت اور انتھک محنت کی جیتی جاگتی کہانی ہے۔ اپنے کھوئے ہوئے بیٹے کی یاد میں سب بچوں کو اپنا سمجھنا اور اپنے غم کو اپنی طاقت بنا لینا انسانیت اور عزم کا خوب صورت درس ہے۔
اور ہاں! اسٹین فورڈ یونی ورسٹی کا پاکستان سے ایک تعلق بہرحال یہ ہے کہ ہمیں بتایا گیا کہ یہاں پرویز مشرف کے بیٹے نے تعلیم حاصل کی ہے۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں یہ یونی ورسٹی تفصیل سے دیکھنے کا موقع ملا۔
واقعی زندگی خوب صورت ہے اور موت بھی اگر ہم دونوں کا مطلب سمجھ سکیں ❤️

Stanford University of USA...امریکہ کی اسٹین فورڈ یونی ورسٹی کی کہانی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481