اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کا ٹیرف نہ بڑھانے کا فیصلہ

200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کا ٹیرف نہ بڑھانے کا فیصلہ

200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کا ٹیرف نہ بڑھانے کا فیصلہ
غریب بجلی صارفین کی سنی گئی ، حکومت نے ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بنیادی ٹیرف نہ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے ماہانہ 200 یونٹ تک صارفین کیلئے بجلی کا بنیادی ٹیرف بڑھانےکافیصلہ واپس لینے کی تیاری شروع کر دی ،ماہانہ200 یونٹ کے پروٹیکیٹڈ، نان پروٹیکیڈصارفین کےلیےٹیرف میں اضافہ واپس لینے کی تجویز آئی ،وزیراعظم نےہنگامی بنیادوں پر سمری کی وفاقی کابینہ سے منظوری لینے کی ہدایت کردی،جولائی تاستمبر2024 کے لیےماہانہ 200 یونٹ تک والےصارفین کوریلیف دینے کی تجویز دی گئی ہے ۔

وفاقی حکومت ٹیرف پرریلیف دینے کے لیےتقریبا 50 ارب روپے کی سبسڈی دے گی،وفاقی کابینہ نےبجلی کےفی یونٹ بنیادی ٹیرف میں7 روپے 12 پیسے تک اضافہ منظورکیا تھا،اس سےقبل کابینہ نے200یونٹ تک پروٹیکیٹڈ،نان پروٹیکٹیڈصارفین کے لیےاضافہ منظور کیا تھا،ایک سے100 یونٹ تک پروٹیکیٹڈ صارفین کےٹیرف میں 3.95 روپے اضافہ منظور کیا گیا تھا، ماہانہ101سے200 یونٹ تک پروٹیکیٹڈ صارفین کا ٹیرف4.10 روپے بڑھانے کی منظوری دی گئی تھی۔

ماہانہ ایک سے100 یونٹ نان پروٹیکیٹڈصارفین کےٹیرف میں 7.11روپے اضافہ منظور کیا گیا تھا،ماہانہ101سے200 یونٹ نان پروٹیکیٹڈ صارفین کے ٹیرف میں 7.12 روپے اضافہ منظور کیا گیا تھا،بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2024 سے کرنے کی تجویز ہے،ماہانہ50یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف 3.95 روپے برقرار رہے گا،ماہانہ51سے100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف7.74 روپے برقرار رہے گا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481