اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آئی ایم ایف پاکستان کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے، خواجہ آصف

آئی ایم ایف پاکستان کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے، خواجہ آصف

آئی ایم ایف پاکستان کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو پاکستان کی خود مختاری کےلیے خطرہ قرار دے دیا۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے اپنی ہی حکومت کے بجٹ پر اعتراض داغ دیا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں ٹیکس آئی ایم ایف کے دباؤ پر لگایا گیا ہے، آئی ایم ایف پاکستان کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ان کا شہر سیالکوٹ ایکسپورٹ کا مرکز ہے، ایکسپورٹرز پر جو ٹیکس لگایا گیا اس سے ایف بی آر کے کرپٹ مافیا کو فائدہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ غلام سرور قومی مجرم ہیں، ان کے ایک بیان کی وجہ سے ہماری پروازوں کے روٹس بند ہوگئے، جس سے کئی سو ارب کا نقصان ہوچکا ہے۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ ایوی ایشن منسٹری میں اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی ہے، پیٹرول کی قیمتیں بین الاقوامی سطح پر بڑھی ہیں اس لیے بڑھائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پر آئی ایم ایف کا پریشر تھا، ایکسپورٹرز ڈیڑھ فیصد دینے کو تیار تھے، ایکسپورٹرز کےلیے میں 15 سے 20 دن سے احتجاج کر رہا ہوں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے آپریشن عزم استحکام پر نہیں سندھ کی حد تک اختلافات ہیں، جسے ختم کرنے میں وزیراعظم شہباز شریف کو کردار ادا کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن عزم استحکام میں کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی، ہمیں دہشت گردی کی اطلاعات مل رہی ہیں جبکہ آپریشن مخصوص جگہوں پر ہوگا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات کے فیصلے میں جے یو آئی اور اے این پی دونوں شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی جب سے اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھ میں آئی ہے، اس کے اعلیٰ اصول کمپرومائز ہوگئے، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ پرویز مشرف کے ساتھ کھڑے تھے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481