اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آپریشن عزم استحکام آپریشن عدم استحکام ثابت ہوگا، فضل الرحمان

آپریشن عزم استحکام آپریشن عدم استحکام ثابت ہوگا، فضل الرحمان

آپریشن عزم استحکام آپریشن عدم استحکام ثابت ہوگا، فضل الرحمان

 

کوئٹہ: جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام درحقیقت آپریشن عدم استحکام ثابت ہوگا۔

 

 

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ، اصغر اچکزئی ، خوشحال خان کاکڑ، عبد الخالق ہزارہ سے ملاقات کے بعد کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو ہر شعبے میں اپنی بالادستی کو ختم کرنا ہوگا،  یہ آپریشن عزم استحکام نہیں بلکہ آپریشن عدم استحکام ہے جو پاکستان کو مزید کمزور کرے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ جس شناختی کارڈ کی بنیاد پر آرمی چیف پاکستانی ہے اسی بنیاد پر میں بھی پاکستانی ہوں، ہم سب اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، لیکن ایک طبقہ سمجھے کہ اس نے حاکم اور باقی سب نے غلام رہنا ہے، واضح کرنا چاہتے ہیں ہمارے قبیلوں کی یہ قسم نہیں، ہماری 300 سالہ تاریخ غلامی کے خلاف جنگ لڑنے کی ہے، انگریزوں کیخلاف 50 ہزار سے زائد مجاہدین کو شہید کیا گیا، کیا پاکستان جرنیلوں کی غلامی کےلیے حاصل کیا گیا تھا اور جانوروں کی طرح وہ ہمیں ہانکیں گے، ایسا کبھی نہیں ہوگا؟

 

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ملک میں ریاستی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے، خیبرپختونخوا میں سورج غروب ہوتے ہی پولیس تھانوں میں بند ہوجاتی ہے، ملک کے چپے چپے پر فوج اور پولیس موجود ہے، کیوں بے بس ہے؟

 

 

ان کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی کیا ہے؟ جب تحصیل لیول پر ہوتی ہے تو وہاں میجر بیٹھتا ہے، ضلعی سطح پر کرنل بیٹھتا ہے، صوبے کی سطح پر کور کمانڈر اور جب وفاق کی سطح پر آرمی چیف بیٹھتا ہے، جب کسی اجلاس میں وردی والا ہوگا تو فیصلہ وہ کرے گا یا باقی لوگ کریں گے؟ ذمہ داری ہم پر ڈال دیں گے، شہباز شریف خوشی سے ذمہ داری قبول کرے گا، لیکن شہباز شریف وزیراعظم نہیں ہے، بس کرسی پر بیٹھا ہے، اسی میں خوش ہے۔

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481