اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ٹی ٹی پی کی اندرونی لڑائی میں ایک اور دہشت گرد سرغنہ مارا گیا

ٹی ٹی پی کیلئے بھتہ لینے والے ملزمان کے ہوشربا انکشافات

ٹی ٹی پی  کی اندرونی لڑائی میں دہشت گردوں کا ایک اور اہم سرغنہ عبدالمنان عرف حکیم اللہ افغانستان کے علاقے کنڑ میں مارا گیا.

تفصیلات کے مطابق ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک دہشتگرد گروپوں میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں اور

افغانستان میں ٹی ٹی پی کی آپس کی لڑائی اور انتشار کے نتیجے میں آئے روز ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈرپراسرار طور پر مارے جا رہے ہیں.

تازہ واقعے کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کے حلقوں میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب افغانستان کے ضلع اسد آباد، کنڑ میں ٹی ٹی پی شوریٰ ملاکنڈ کے رکن، عبدالمنان عرف حکیم اللہ کو اندرونی انتشار کے نتیجے میں ٹھکانے لگا دیا گیا.

 

عبدالمنان عرف حکیم اللہ کی فائل فوٹو

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اہم دہشتگرد سرغنہ کی ہلاکت ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی کا واضح ثبوت ہے.واضح رہے کہ

دہشت گرد عبدالمنان باجوڑ میں ٹارگٹ کلنگ، بارودی سرنگ کے دھماکوں، چیک پوسٹوں پر فائرنگ اور بھتہ خوری سمیت متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا. عبدالمنان ٹی ٹی پی لیڈر عظمت اللہ محسود (عظمت لالہ)، ولی مالاکنڈ، کا دست راست تھا

جبکہ اس کا باجوڑ میں دہشت گردی کی کاروائیاں تشکیل دینے میں کلیدی کرداربھی تھا۔

عبدالمنان نے 2007 میں ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی اور سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کے خلاف متعدد کارروائیوں میں حصہ لیا.

2014میں دہشتگرد عبدالمنان کو افغان حکومت نے صوبہ ننگر ہار سے گرفتار کیا لیکن 2021 میں افغان طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد دہشت گرد عبدالمنان کو باقی دہشت گردوں کے ساتھ رہا کر دیا گیا.دہشتگرد عبدالمنان کے بھائی طارق عرف اسد کا تعلق بھی ٹی ٹی پی سے ہے اور وہ بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔

ٹی ٹی پی کے اہم سرغنہ عبدالمنان کی ہلاکت ٹی ٹی پی کے لئے بڑا دھچکا قرار دی جا رہی ہے۔ دشت گردوں کی سرکوبی میں مصروف ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالمنان عرف حکیم اللہ کی افغانستان میں ہلاکت سے ایک بار پھر  واضح ہو گیا کہ؛ ”افغانستان کی سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہےاور افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خوارجیوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیاء کر رہے ہیں”

واضح رہے کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے والی تنظیموں میں  کالعدم ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور بلوچ دہشتگرد تنظیمیں سر فہرست ہیں.ٹی

پاکستان پر حملہ آور افغان دہشتگردوں کی آماجگاہیں افغانستان کے علاقے کنڑ، نورستان، پکتیکا، خوست و دیگر علاقوں میں موجود ہیں

متعدد بار دہشتگردی کے بے شمار واقعات میں افغانستان کی سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں نے پاکستان میں خون کی ہولی کھیلی. پاکستان افغان سرزمین سے دہشت گردی کا معاملہ متعدد بر کابل حکومت کے سامنے اٹھا چکا ہے مگر اس پر کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا.

Another terrorist leader was killed in TTP infighting,ٹی ٹی پی کی اندرونی لڑائی میں ایک اور دہشت گردہلاک


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481