اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

گاؤں میں عید الاضحیٰ ….محمد نعیم کی دل کو چھوتی تحریر

3c763785 a8b5 4f56 8004 80d3f9353c54

گاؤں میں تقریباً بکریاں بکرے ہر کسی کے پاس ہوتے ہیں ۔ مگر عید الاضحیٰ پر قربانی کے لئے گائے یا بیل کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔ بہت ہی کم گھروں میں پٹ یا بکرے کی قربانی ہوتی۔ وجہ کیا ہے آج تک سمجھ نہیں سکا۔ پڑوسی یا رشتہ دار آپس میں مشاورت کر کے جب پیسے اور حصے پورے کر لیتے ہیں تو جانور خرید لاتے ہیں۔ میری زندگی کا جتنا حصہ گاؤں میں گزرا کبھی یہ نہیں دیکھا کہ کوئی قصائی جانور ذبح کرنے یا گوشت بنانے آیا ہو۔ قربانی میں جو افراد شامل ہوتے ہیں ، جانور گرانے سے لے کر ذبح کرنے اور گوشت کے حصے لگانے تک سارا کام انھیں خود ہی انجام دینا ہوتا ہے۔ ایسے میں عموماً مشترکہ قربانی میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس گھر میں جانور ذبح کرنے کا تجربہ رکھنے والے زیادہ افراد ہیں انھیں حصہ دار بنانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بچپن کی اولین یاداشتوں کے مطابق پہلے پہلے جب ہم قربانی کا جانور گرتا ہوا دیکھنے جاتے تھے۔ تو وہ دو محلوں گڑاکائی اور ترپیڑ کے درمیان ایک پہاڑی نالہ (کسی) تھی۔ اس وقت محلہ گڑاکائی اور ترپیڑ کے عموماً پانچ چھ جانور ہوتے تھے قربانی کے۔ وہ سب اسی جگہ لا کر ذبح کیے جاتے۔ ایک ہی جگہ پر قربانی کے کئی فوائد تھے۔ سب پڑوسی ایک دوسرے کا ہاتھ بٹا دیتے۔ صاف پانی وافر مقدار میں قریب ہوتا۔ تھوڑی تنگ جگہ ہونے کی وجہ سے جانور کے بے قابو ہو کر بھاگنے کا چانس کم ہوتا۔ درختوں کے سائے میں بیٹھ کر کھال اتارنے اور گوشت بنانے میں آسانی ہوتی۔ اور کھالیں جس کو دینی ہوتیں وہ ایک ہی جگہ سے لے جاتا۔

bffd8f28 e240 4e25 bdf2 9b9dfbada9c3
ہمارے استاد اور امام و خطیب مولانا مسعود الرحمٰن صاحب (جندر والے) رحمہ اللہ نماز عید پڑھا کر قربان گاہ میں آ جاتے اور ہر جانور پر قربانی کی دعا پڑھتے ہوئے چھری پھیر کر چلے جاتے۔ امام صاحب جانور کو ذبح کر لیتے تو ان تمام افراد کو باری باری بلایا جاتا جس کا ایک جانور میں حصہ ہوتا تھا اور وہ کٹے ہوئے جانور کے گلے پر علامتی قسم کی چھری پھیر دیتے۔ کئی بار یہ کام میرے حصے میں بھی آیا۔ اس کے علاوہ قربانی کا جانور گرانے میں مدد کرنا بھی ہم بچوں کے حصے کچھ نہ کچھ آ جاتا۔ جیسے جانور گرتے ہی جب اس کی چاروں ٹانگوں کو بنگا ڈال کر باندھ دیا جاتا تھا تو اس کی دم کو بھی بندھی ہوئی ٹانگوں میں سے گزار کر کھینچ لیا جاتا۔ کبھی ہمارے حصے میں یہ کام آتا اور کبھی جانور گرنے کے بعد اس کی کوہان (دیسی بیلوں کے دنوں کندھوں کے درمیان ابھرا ہوا گوشت, شاید اسے بھی کوہان ہی کہا جاتا ہے) اور اگلی ٹانگوں پر کئی لوگ اپنا وزن ڈال دیتے تاکہ وہ چھری پھرتے وقت زیادہ ہل جل نہ کرے۔ ایک بار میرے بڑے بھائی ابراہیم اسی طرح جانور گرانے میں مدد کر رہے تھے اور گرے ہوئے بیل کی ٹانگیں رسی سے کسی جا رہی تھیں کہ بیل نے زور لگا کر رسی کو ڈھیلا کر لیا۔ اور اپنی آپس میں بندھی ہوئی پچھلی دنوں ٹانگوں کو ایک زور سے جھٹکا دیا۔ ابراہیم بھائی اس کی زد میں آئے اور اس کک کی وجہ سے کافی دور جا کر گرے۔

پھر کچھ وقت جانوروں کو نیچے نالے (کسی) میں لے جانے کے بجائے محلے میں ہی حاجی میر حسن صاحب کے گھر کے پیچھے ذبح کیے جانے لگے اور گوشت بنانے کے لیے چچا لعل اکبر اور حاجی میر حسن صاحب کی چھت پر ہی سب بیٹھ جاتے۔ اس دور میں مسجد بہت ہی چھوٹی تھی اور مسجد کے بعد کوئی بڑا گراؤنڈ قریب قریب نہیں تھا۔ اس لیے نماز عید جاوید بھائی اور یوسف بھائی کے مکانوں کی چھت پر ہی پڑھتے تھے۔ نماز عید کے بعد سب اہنی چھریاں وغیرہ ساتھ لائے ہوئے ہوتے تھے۔ وہیں سے قربان گاہ چلے جاتے ۔ عموماً ظہر کی نماز سے پہلے پہلے سب قربانی کرنے والوں کے گھروں میں ان کا گوشت پہنچ جاتا۔ اجتماعی قربانی والی جگہ حصے لگاتے وقت سات حصوں میں سے برابر برابر تھوڑا گوشت الگ کر لیا جاتا۔ اس گوشت کو ( مسکینی بنڈا) کہا جاتا تھا۔ یہ گوشت محلے کے غریب گھروں اور وہاں آئے چھوٹے چھوٹے بچوں میں تقسیم کیا جاتا۔

یہی وجہ ہے کہ میرے سمیت اکثر بچے عید پڑھنے جاتے وقت جیب میں ایک شاپر بھی رکھ لیتے۔ قربانی کا گوشت گھر پہنچنے کے بعد محلہ کے ان گھروں میں دوبارہ تھوڑا تھوڑا حصہ بھیجا جاتا جو قربانی نہیں کر سکے تھے۔ وہ انتہائی غربت کا دور تھا۔ ایسے نہیں تھا کہ شہروں کی طرح ایک ایک گھر میں کئی کئی قربانیاں ہوئی ہوں۔ بلکہ خاندان کا سربراہ تمام اہل خانہ کی جانب سے ایک ہی قربانی کر پاتا۔ باقی ماندہ گوشت میں سے گھر میں کوئی سالن بنا لیا جاتا تھا۔ میں تازہ گوشت میں سے بغیر ہڈی کے سرخ سرخ بوٹیاں نکالتا اور سلور کے موٹے تار کو سیدھا کر کے اس کی سیخ بناتا ، اس میں بوٹیاں پروتا اور انھیں چولہے میں جلتی آگ کے جب دہکتے کوئلے رہ جاتے تو ان پر رکھ کر بھون لیتا۔ کبھی صرف نمک اور کبھی نمک کے ساتھ ہلکی سے لال مرچ لگا کر کھا جاتا بہت اچھا لگتا وہ گوشت ۔ یہی ہوتا تھا اس دور کا باربی کیو بھی اور اسٹیک بھی۔ کبھی کبھی گوشت اوپر سے تو بھن جاتا مگر اندر سے کچا رہ جاتا۔ ایسی بوٹی کو چیونگم کی طرح اچھے خاصے وقت تک منہ میں چباتے رہتا۔

اس دور میں گاؤں میں فریج، فریزر نہیں آئے تھے۔ قربانی کے بچے ہوئے گوشت کو سکھا کر تاروں میں پرو کر ہار سے بنا لیے جاتے۔ اور اسے کسی چھت کی کڑی کے ساتھ لٹکا دیا جاتا۔ یوں یہ لمبے عرصے تک قابل استعمال رہتا۔ شکاری کبابوں کی طرح کا یہ گوشت بھی ایک الگ ذائقہ رکھتا تھا۔ اپنے ندیدے پن کی وجہ سے میں وقتاً فوقتاً تار میں سے کھینچ تان کر کوئی بوٹی نکال لیتا اور اس خشک گوشت کو کھا لیتا۔ کئی دفعہ چار پائی یا اور کسی اونچی چیز پر سے یہ گوشت اتارتے وقت گرا بھی تھا۔ مگر وہ وقت ایسا ہوتا ہے جب نہ چوٹ کی تکلیف یاد رہتی ہے۔ نہ گرنے کے بعد زیادہ دیر رونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اب شاید ہی ہمارے علاقے میں کوئی گوشت کو یوں محفوظ کرتا ہو۔ پرانے بزرگ دنیا سے گئے ہیں تو سنا ہے اب لوگ جانور بھی ایک مشترکہ جگہ لے کر نہیں جاتے بلکہ اپنے گھروں کے سامنے ہی ذبح کر لیتے ہیں۔ میں نے آخری بار بڑی عید گاؤں جا کر کب کی، کچھ یاد نہیں۔ اب کیا صورتحال ہوتی ہے وہاں کے مقامی دوست بہتر طور پر بتا سکتے ہیں۔ پرانے اور سمجھ دار لوگوں کے چلے جانے سے اب دیہی علاقوں میں بھی اجتماعیت بہت متاثر ہوئی ہے۔ وگرنہ گاؤں میں رہنے والوں کو دکھ سکھ سانجھے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کہ سب ایک دوسرے کے لیے دل میں وسعت اور محبت رکھیں۔ اور سب آپس میں اب بھی اتحاد و اتفاق کے ساتھ شیر و شکر ہو کر رہیں۔

10 جون 2024


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481