اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مری کے جنگلات میں آگ کیوں لگتی ہے؟ بچاؤ کیسے ممکن ہے ؟

b71df34a 62c4 4e92 b35c 49b028af2569

 مری میں جنگل بھی دو طرح کے ہیں!
کیل اور پڑتل کے جنگلات جو بانسرہ گلی سے اوپر بھوربن تک جاتے ہیں
کلڈنہ کا ٹھنڈا جنگل اس کی ایک مثال ہے۔
ان جنگلات میں پانی کے چشموں کی بہتات اور زمین کی نمی زیادہ ہے۔
نمو پذیری اس قدر ہے کہ پرانے درخت کے تنے پہ بھی کسی دوسرے درخت کا بیج گرے تو اگ آتا ہے۔ طفیلی پودے بہت زیادہ ہیں۔ سارا سال ان جنگلات میں موسم سرد رہتا ہے۔
یہاں آگ نہیں لگتی، کوئ لگا دے تو متعلقہ درخت تک ہی محدود رہتی ہے، پھیلنے کے مواقع شاذ ہی ہوتے ہیں۔

دوسرے چیڑھ کے جنگلات جو مری کی زیریں یونین کونسلز میں ہیں

یہ بانسرہ گلی سے نیچے تریٹ تک اور ایکسپریس وے کے گرد لکوٹ وغیرہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی طرح لوئر بیلٹ میں بھی چیڑھ کے جنگلات ہیں ۔ اکا دکا چھوٹے رقبے پہ چیڑھ کے  چھوٹےجنگل بانسرہ گلی تا بھوربن والی یوسیز کے نشیبی علاقوں میں بھی  موجود ہیں ۔
موسم گرما کی آگ کا شکار بننے والے یہی ثانی الذکر چیڑھ کے جنگلات ہیں۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ علاقے نسبتا گرم ہیں اور یہ جنگلات گرمیوں میں سخت دھوپ کی وجہ سے قدرتی نمی کھو بیٹھتے ہیں ۔
چیڑھ کے خشک باریک اور نوکدار پتے نہ صرف خشک ہوتے بلکہ دھوپ سے گرم ہو جاتے ہیں اور آگ کےلیئے پٹرول کا کام کرتے ہیں۔
اس علاقے کے جنگلات اور جنگلی حیات کو بچانے کے لیئے لانگ ٹرم پلاننگ کی ضرورت ہے یہ نہیں کہ آگ بے قابو ہونے کے بعد ریسکیو کے فائر فائٹرز کو آگے کردیا کہ جاؤ لڑو مرو ہماری بلا سے…

ساتھ چند ریکروٹ کر دئیے جنہوں نے کبھی چیڑھ دیکھی، شعلے دیکھے نہ پہاڑی جنگل اور وہ ڈنڈوں سے آگ کو پیٹ رہے ہیں
مقامی کمیونٹی کی آگاہی، انہیں آن بورڈ لینے اور ان کی مناسب تربیت کے بغیر یہ کام ناممکن ہے۔

جنگل میں مناسب وقفے سے چیڑھ کے پتے، جھاڑیاں صاف کر کے ہر ایریا میں پگڈنڈیاں بنا دی جائیں جو فائر کنٹرول زون کا کام کریں، اس کے لیئے اگر کچھ درخت بھی کاٹنا پڑیں تو کوئ حرج نہیں ہے۔

جنگل کے ایریا میں سگریٹ پینے پہ سخت پابندی ہونی چاہیے۔ اکتوبر سے دسمبر تک ان جنگلات میں گشت بڑھا دینا چاہیے اور اس کے لیئے محکمے کو چاہیے کہ مقامی آبادی میں سے ” ہائ وے ڈیپارٹمنٹ ” کی طرز پہ عارضی عملہ ہائر کرے جو نظر رکھے اور آگ کے پھیلنے سے پہلے موثر اقدامات کرے۔

جن جنگلات میں ایک سال تک آگ نہ لگے وہاں تعینات عملے کو اضافی بونس ملنا چاہیے۔
علاقے کے نوجوان اور فلاحی تنظیمیں بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔
جنگل میں آگ لگانے کے جرم پہ باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیے اور اس کی سخت سزا متعین کی جانی چاہیے۔
جانوروں اور پرندوں کی فریاد اور چیخ و پکار پہ مبنی فوٹیج نے ہر دردمند انسان کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔

Why do fires occur in Murree forests? ، مری کے جنگلات میں آگ کیوں لگتی ہے؟ بچاؤ کیسے ممکن ہے ؟ 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481