اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑے ٹیکس فری سرپلس بجٹ آ گیا

ff2301c3 bb3d 4cfa a2d2 10de23c70754

وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے آ ئندہ مالی سال کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں منظور ی کے لیے پیش کر دیا۔پنجاب کابینہ نے صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹیکس فری سرپلس بجٹ کی منظوری دے دی جس کے بعد بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کردیا گیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 تا 25 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ پنجاب کا بجٹ اسمبلی میں پیش کردیا گیا جس کے نکات وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے پیش کئے ہیں۔

بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 کے بجٹ کا مجموعی حجم 5,446 ارب روپے ہے جبکہ صوبے کی کل آمدن کا تخمینہ 4,643 ارب 40 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ NFC ایوارڈ کے تحت وفاق کے قابل تقسیم محاصل سے پنجاب کو 3,683 ارب 10 کروڑ روپے ملیں گے۔ صوبائی محصولات کی مد میں گزشتہ سال سے 54 فیصد اضافے کے ساتھ 960 ارب 30 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی پروگرام کا حجم 842 ارب روپے ہے۔ جو ماضی کے تمام ترقیاتی پروگرامز سے زیادہ کہیں زیادہ ہے ۔ ترقیاتی بجٹ کا 33 فیصد سوشل سیکٹر، 29 فیصد انفراسٹرکچر، 13 فیصد پروڈکشن سیکٹر اور 5 فیصد سروسز سیکٹر پر مشتمل ہے جبکہ ترقیاتی پروگرام کا 20 دیگر پروگرامز اور خصوصی اقدامات کیلئے مختص کیا گیا ہے۔

6d84e448 0e5e 47ff b081 b331c1c07e14
شعبہ تعلیم کیلئے آئندہ مالی سال میں مجموعی طور پر 669 ارب 74 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال سے 13 فیصد اضافی ہیں ۔ شعبہ تعلیم کے مجموعی بجٹ میں سے 65ارب 50 کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کیلئے مختص کیے گئے ہیں جو کہ رواں مالی سال کی نسبت 14 فیصد زیادہ ہیں۔عام آدمی کی صحت کی سہولیات تک آسان رسائی کے لیےشعبہ صحت کے لیے مجموعی طور پر 539 ارب 15 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جو رواں مالی سال سے 14 فیصد زیادہ ہے ۔ہماری حکومت نے زرعی شعبے میں پرانے اور آزمودہ طریقوں کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ نہ صرف کسان کے استحصال کا سبب بنتے تھے بلکہ مجموعی طور پر زراعت اور معیشت کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہورہے تھے۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا کسان دوست پیکج متعارف کروایا جارہا ہے ۔

 

آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں شعبہ زراعت کیلئے 64 ارب 60 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جو کہ رواں مالی سال سے 127 فیصد زیادہ ہے۔ پنجاب حکومت مہنگائی پر کنٹرول کے لیے موثر اقدامات کے ساتھ تنخواہ دار طبقہ کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے گریڈ 1 سے 16 تک کے صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد، 17سے 22 گریڈ تک کے لیے 20 فیصد اور پینشن کی مد میں 15فیصد اضافہ تجویز کر رہی ہے.

مزید برآں کم سے کم ماہانہ تنخواہ کو 32000 روپے سے بڑھا کر 37000 روپے کیا جا رہا ہے ۔ آ ئند ہ مالی سال میں 32سے زائد اہم منصوبہ جات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا جن میں 9 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے چیف منسٹر روشن گھرانہ پروگرام اور 10 ارب روپے کی لاگت سے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام ، 80 ارب روپے کی لاگت سے چیف منسٹر ڈسٹرکٹ SDGs پروگرام شامل ہیں اس کے علاؤہ کسان پیکج کے تحت پنجاب کسان کارڈ کا اجراء ، فری وائی فائی ، نواز شریف انسٹیٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ ،کلینک ان ویل، سموگ ایکشن پلان اور پنجاب انفارمنٹ اتھارٹی کا قیام شامل ہیں.پنجاب کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹیکس فری سرپلس بجٹ

 

The largest tax free surplus budget of Punjab,پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑے ٹیکس فری سرپلس بجٹ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481