اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

وزیرخزانہ نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں میں اضافے پر اعتراض کو مسترد کردیا

وزیرخزانہ نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں میں اضافے پر اعتراض کو مسترد کردیا

وزیرخزانہ نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں میں اضافے پر اعتراض کو مسترد کردیا

اسلام آباد : وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے تنخواہ دارطبقے پرٹیکسوں میں اضافے پراعتراض کومسترد کرتے ہوئے کہا تنخواہ دارطبقے پرٹیکس لگائے بغیرآگے نہیں بڑھ سکتے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ محمداورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ بنیادی اصولوں پر پیش کیاگیا، ٹیکس ٹو جی ڈ ی پی کو اگلے 3 سال میں 13فیصدپرلیکرجاناہے، کوئی ملک بتا دیں جو ساڑھے9فیصدٹیکس ٹوجی ڈی پی پرمینٹینبل ہے۔

محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ زیادہ آمدن والوں پرزیادہ ٹیکس کانفاذہوگا، اور نان فائلرز کیلئے کاروبار کرنے پر ٹیکس میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

– Advertisement –
تنخواہ دارطبقے پرٹیکس لگائے بغیرآگے نہیں بڑھ سکتے، نان فائلرزکیلے ٹیکس کی شرح بڑھا کرپینتالیس فیصد اس لیے کی تاکہ وہ سوچے فائلرزکی اصطلاح بھی ہے، معیشت کی ڈیجیٹائزیشن ترجیح ہے، سب کوٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکسزکادائرہ کاربڑھاناہے، ایف بی آر کی انفورسمنٹ جس طرح ہونی چاہئے تھی ایسی نہیں ہے ایف بی آر ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت آئے گی کرپشن ختم ہوگی۔

انھوں نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی فوری نہیں لگائی جارہی، عالمی مارکیٹ کو مانیٹر کریں گے ، پیٹرولیم لیوی میں بتدریج اضافہ ہوگا پہلے ہی دن نہیں لگایا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ہول سیلرز اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کےاقدامات کئےہیں،31ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں ،ٹیکس کا اطلاق جولائی سے ہوگا،ہول سیلرز اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں 2022میں ہی لانا چاہیےتھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ای او بی آئی پنشنرز کی پنشن نہیں بڑھی ، سوشل سیفٹی کے حوالے سے صوبوں سے بات کر رہے ، صوبوں کو جانے والی وزارتوں کو بند کردینا چاہئے تھا جو نہیں کیا گیا، اس حوالے سے وزیراعظم فیصلہ کریں گے ، جتنی چیزوں سے حکومت کو نکالتے جائیں گے مالی گنجائش بڑھتی جائے گی۔

آئی ایم ایف مذاکرات کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کامشن پاکستان سےہوکرگیاہے، آئی ایم ایف سےبجٹ کے سلسلے میں ورچوئل ڈسکشن چل رہی ہے، آئی ایم ایف کےحوالےسےاب تک مثبت پیش رفت ہے، جب تک اسٹاف لیول ایگریمنٹ نہ ہو جائے کچھ بتا نہیں سکتا،امید ہےآئی ایم ایف کیساتھ جولائی تک اسٹاف لیول ایگریمنٹ ہوجائےگا.

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومتی اخراجات کم کرنے کیلئےاقدامات کررہےہیں ، ہم نقصان والی منسٹریز کے بندکرنے پر کام کررہے ہیں، کسی کی سم غلط بند ہوئی تو میں اسکی معافی مانگتا ہوں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481