اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پونچھ کی تہذیب و ثقافت

landscape 3 2 1718213970810 1

پونچھ کی تہذیب و ثقافت

تہذیب وثقافت… ایک بسیط اور ہمہ پہلو اصطلاح ہے، جس کے مفاہیم کی تعبیر و تشریح کے لئے اہل فکر نے دفتروں کے دفتر لکھ بھر ڈالے ہیں۔ مختلف صاحبانِ دانش کی کہی تعریفوں میں سے مجھے وقت کے بہترین افسانہ نگار و ادیب آغا بابر کے کہے الفاظ بہت بھلے اور دل کے قریب لگتے ہیں۔ آغا بابر کا کہنا ہے کہ ’’تہذیب وثقافت سے مراد وہ چیز ہے جو مالک اور نوکر میں مشترک ہوتی ہے‘‘۔

’’تہذیب و ثقافت‘‘ کو کہیں باہم ساتھ کہا اور سمجھا جاتا ہے تو کہیں الگ الگ۔ بعضوں کا خیال ہے کہ ’’تہذیب‘‘ شہروں میں پائی جاتی ہے تو ’’ثقافت‘‘ دیہات میں۔ تہذیب و ثقافت کے ایک اصطلاح ’’کلچر‘‘ (Culture) بھی برتی جاتی ہے۔ اہل ایران نے ’’کلچر‘‘ کی وضاحت کے لیے ’’آہنگ‘‘ کا لفظ چنا ہے۔ ’’تہذیب‘‘ کے ایک معنی ’’تراش خراش‘‘ کے بھی لیے جاتے ہیں۔

’’تہذیب و ثقافت‘‘ کو اگر اختصار مگر جامعیت سے بیان کرنے کی سعی کی جائے تو میری نظر میں یہ کسی مخصوص خطہ زمین میں صدیوں سے باہم مل جل کر رہنے والے لوگوں کے ’’طرزِزیست‘‘ کا دوسرا نام ہے۔ وضاحتاً ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ کسی خطہ زمین میں طویل عرصے تک خوشدلی سے باہم مل جل کے رہنے والے لوگوں کی زندگی کا انداز، رویے، اطوار، رسم و رواج، پہناوا، طرزِتعمیر، رہن سہن، اخلاقیات، اقدار، تہوار، لوک ادب، مقامی، معاشی، پیداواری ذرائع اور مشترک لسانی ربط و سرمایہ دراصل اس خطہ کی تہذیب و ثقافت کہلا سکتی ہے۔ تہذیب و ثقافت کی پیروی، نگہداشت اور ترویج، خوداختیاری و خوشدلی کے جذبوں کے تحت انفرادی اور اجتماعی طور پر یوں کی جاتی ہے کہ اس میں صبر کا عنصر ہرگز شامل نہیں ہوتا۔
تہذیب و ثقافت کسی بھی علاقے کے مکینوں کو ایک قوم کے سانچے میں ڈھالنے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہوتاہے کہ کسی ایک خطے میں رہنے والے لوگ مختلف نسلی، لسانی، گروہی اور قبیلائی پس منظر رکھنے کے باوجود مشترک تہذیب کی لڑی میں یوں پرو جاتے ہیں کہ ان کا وجود ایک دوسرے کے لیے قابل تکریم اور لازم ہو جاتا ہے۔
’’تہذیب و ثقافت‘‘ کے مفہوم کی مختصر سی وضاحت کے بعد اگر ہم ’’پونچھ‘‘… جی ہاں ’خطہ پونچھ‘ کی بات کریں تو سوچوں کی ملاوٹ، فکر کو شیرینی اور زبان کو ایک خاص طرح کی مٹھاس معلوم ہوتی ہے۔
’’پونچھ‘‘ ایک طویل تاریخی پس منظر کا حامل علاقہ ہے۔ اس کی تاریخی حیثیت گرچہ وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے لیکن اپنے خوبصورت محل وقوع کے باعث اس کی اہمیت ہمیشہ مسلمہ ہی رہی ہے۔ کچھ ’’مورخین‘‘ کے خیال میں ’’پونچھ‘‘ سنسکرت کا لفظ ہے جس کے معنی دور دراز اور دشوار علاقے کے ہیں۔ بعضوں کی رائے میں پونچھ ’’Satellite Town‘‘ کے معنی رکھتا ہے جبکہ بہتوں کے مطابق ’’پونچھ‘‘ دراصل صدیوں پہلے یہاں کے حکمران کے ایک دیہاتی بکروال لڑکی سے ہونے والے عشق اور اس کے نام پر بسائے گئے شہر کا قصہ ہے جو دریا کنارے مدتوں سے آج تک موجود ہے۔ ’’پونچھ‘‘ کی وجہ تسمیہ جو بھی ہے بہرحال یہ علاقہ پیرپنجال کے اس آرپایا جانا پہاڑی و دشوار گزار وہ خطہ ہے جس کی اپنی تاریخ اور حیثیت ہر دور میں نمایاں رہی ہے۔ ہرے بھرے کھیتوں، درختوں سے آٹے بنوں سے سجا وہ قطعہء ارضی ہے جو اپنی خاص تہذیب و ثقافت رکھتا ہے۔

پونچھ کی تہذیب و ثقافت کو اختصار سے چوکھٹے میں بند کرنے کی سبیل کی جائے تو ہم اسے ’’دیہی اور زرعی‘‘ تہذیب کا نام دے سکتے ہیں۔ دیہاتوں پر مشتمل اس علاقے کی زندگی اور اس کے تمام مظاہر زرعی عمل سے جڑے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی روٹی روزی کا انحصار کھیت کھلیانوں اور مال مویشیوں پر رہا ہے۔ اسی طرح یہاں کے مکانات صدیوں سے صدیوں تک مٹی گارے اور مقامی طور پر پیدا ہونے والی لکڑی سے بنتے تھے۔ ان مکانات اور اس سے جڑے طرزِتعمیر کا یہ خاصہ رہا ہے کہ یہ یہاں کے موسم کے لحاظ سے بہترین تھے بلکہ حق یہ ہے کہ اسی میٹریل اور طرزِتعمیر کو اگر جدت آمیز کیا جائے تو بلاشبہ ان سے بننے والے گھر، گھروندے، مکان و محل آج بھی ’’خاصے کی چیزیں‘‘ ہوں گی لیکن بدقسمتی سے ہم ہر شعبہ ہائے زندگی کی طرح اس باب میں بھی بیرونی یلغار کا شکار ہو چکے ہیں جس کے باعث بدلتے موسم کے انداز اور تیور ہمیں مسلسل پریشان کیے جا رہے ہیں۔ بھلے وقتوں میں اور مدت مدید سے صدیوں تک یہاں کا باوقار پیشہ اور ذریعہ آمدن ’’زمینداری‘‘ ہی تھا۔ لوگ اپنے ڈوغوں، لڑوں، ہلوں اور ٹینڈیوں سے اناج کے حصول کے لیے سال بھر محنت کرتے اور انہی سے اناج پاتے تھے۔ ان ہی لوگوں کے لیے کہا جاتا تھا کہ ’’جنیں نے کہھر دانے انیں نے کملے وی سیانے‘‘۔ مٹی سے حاصل ہونے والے اناج کی اس دولت کو مٹی سے بنی ’’کولوٹیوں‘‘، ’’کوٹھاروں‘‘ اور ’’سناں کالوں‘‘ میں محفوظ رکھا جاتا تھا اور ان کی پیمائش کے لیے مقامی طور پر بنائے پیمانوں ’’پتھ‘‘، ’’خپبوار‘‘، ’’رنلی‘‘ وغیرہ برتے جاتے تھے۔

اس طرح مویشی جہاں گوشت مہیا کرنے کا ذریعہ تھے وہاں ان میں سے کئی بار برداری اور زمینداری کے لیے بھی کام آتے تھے۔ زمینداری کے لئے دیگر اوزار ’’ہل‘‘، ’’جندرا‘‘، ’’مج‘‘، ’’سلانگا‘‘ وغیرہ بھی Handmade ہوتے تھے۔ ان وقتوں میں گھریلو دستکاریاں بھی یہاں بہت کثرت سے بنائی جاتی تھیں۔ چانگیر، پنکھی، اونہوں، چھج، جائے نماز، پھوڑی، کھیڑا، پیڑا، توورے، چہوا، ہتھ نلی، کھاری سمیت سبھی کچھ مقامی خام مال سے دیسی ہاتھ خود بناتے تھے۔

وہ Climate Change سے پہلے کا زمانہ تھا، لہٰذا موسم ’’بے موسمی‘‘ کا شکار نہیں تھے۔ سو سردیوں میں برف باری ضرور ہوتی تھی اور خوب ہوتی تھی۔ کچے مکانوں کی چھتوں اور صحنوں سے برف ہٹانے کے لیے ’’ترہمچوڑ‘‘ اور ’’پھیو‘‘ بھی لوگ یہاں بناتے تھے اور ’’لت پالا‘‘ بلکہ عام استعمال کے لیے گھاس کے چپل یعنی ’’پولیں‘‘ بھی مقامی ہنرمندوں کی مہارت کا ثبوت ہوتی تھیں۔
دیہی تہذیب کی ایک خاص نشانی گائے، بھینس، بکری وغیرہ سے حاصل ہونے والا دودھ اور اس کی By products ہیں۔ دودھ سے جہاں لسی، گھی، مکھن بنتا تھا وہاں ’’کلاڑی‘‘ اور ’’ٹھبلو‘‘ بھی بنتے تھے۔ ان وقتوں میں دودھ غذا بھی تھا اور دوا بھی۔ دودھ رکھنے دوہنے کے لیے ڈولا، ڈبی، کوری، گلنا، کڑ اور مدہانی بھی مقامی تہذیبی ضرورت اور نشانی ہیں۔ اس سادہ مشین لوگوں کا لباس بھی سادہ سا ہوتا تھا۔ شلوار قمیض چہنگی اور کوٹ کے علاوہ چادر (لوئی) اور صافہ اور پگڑی اس لباس کا اہم ترین حصہ تھے۔ اس حوالے سے ’’چرخہ‘‘ بہت اہم ’’صنعت‘‘ کا درجہ رکھتا تھا۔
پونچھ کا تقریباً تمام علاقہ ’’پہاڑی‘‘ ہے اسی لئے یہاں کی تہذیب زرعی و دیہی تہذیب کہلاتی ہے، وہاں ہی اسے ’’پہاڑی تہذیب‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ اس علاقے کی ساری آبادی پہاڑی بولتی اور سمجھتی ہے۔ اگرچہ یہاں گوجری اور کشمیری بولنے والے بھی کسی قدر موجود ہیں لیکن پہاڑی بولنے والوں کی واضح اکثریت ہے نیز گوجری اور کشمیری بولنے والے بھی عمومی طور پر پہاڑی ہی کو ذریعہ اظہار بناتے ہیں۔ یوں وہ ’’پہاڑی‘‘ بولنے والوں میں پورے طور پر ’’گنے منے‘‘ جا سکتے ہیں۔ پہاڑی لوک ادب یعنی پہاڑی کہانیاں، داستانیں، لوک گیت (چن، ماہیا، قینچی، ڈھولا، وار، سٹھونی، شادی بیاہ کے گیت، ہجر فراق کے گیت، پیار محبت کے گیت، جن کی کئی قسمیں ہیں)، آخان اور بنجاراں (بجھارتیں) وغیرہ اس تہذیب کا اہم ترین حصہ اور قابل قدر اثاثہ ہیں۔ پہاڑی تہذیب میں ’’موسیقی‘‘ کا رنگ موجود ہی نہیں بلکہ کافی گہرا بھی ہے۔ ڈھول، باجا، سرنائی، بچنگ، بانسری، جوڑی وغیرہ یہاں کے منفرد اور مشترک ساز و اوزار ہیں۔
پہاڑی تہذیب سے متعلق روائتی کھیلوں میں کتکا، بجئیں، ہڑوکہڑو، بچی، پنج گیٹے، چیچاں، بازوگیری (بینی پکڑنا)، ڈنٹر بیلنا، پتھر اٹھانا (ویٹ لفٹنگ)، پتھر پھینکنا بھی شامل ہیں تو ساتھ ہی ’’کبڈی‘‘ یہاں مدتوں پرانا کھیلا جانے والے کھیل رہا ہے۔ اسی طرح کوئی صدی بھر سے ’’والی بال‘‘ یہاں کھیلا جاتا رہا ہے تو ساتھ ہی ’’فٹ بال‘‘ بھی قریب قریب 60، 70 سال پہلے سے مروّج ہے، جبکہ یہاں ’’ہاکی‘‘ کی عمر بھی نصف صدی سے کہیں زیادہ ہے۔
اب اگر ہمیں پونچھ کی تہذیب و ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے تو ہمیں اس کی روح کو سمجھنا ہو گا۔ اس تہذیب کی بنیاد، برادری کو قبیلے کے علاوہ ایثار، ہمدردی، قربانی باہم مل کر کام کرنے، ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹنے اور ایسے بہت سے مثبت جذبوں سے ترتیب پاتی ہے۔ پہاڑی تہذیب باہمی تعاون اور بھائی چارے کا دوسرا نام ہے۔ متذکرہ بالا عناصر کے علاوہ شادی بیاہ، موت مرگ، ہلاڑا، کہائی، کڑیاں لانا، لادی اوچھائی سمیت درجنوں مظاہر ایسے ہیں جو اپنے اندر بے حد معنویت، خوبصورتی اور مثبت پیغام رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پہاڑی تہذیب (پونچھ کی تہذیب و ثقافت) کو پوری طرح پہلے سمجھا اور برتا جائے اور پھر اسے اس کی اصل روح اور پوری خوب صورتی کے ساتھ سب کے سامنے لایا جائے۔

تحریر: ڈ اکٹر محمد صغیر خان (راولاکوٹ)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481