اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سوزوکی ،ہنڈا اور ٹویوٹا کی جعلسازی۔ تہلکہ خیز اسکینڈل سامنے آگیا

286c396d f078 4a7e ba3f 5ca7d6aca08b

دنیا بھر کی آٹو موبائل انڈسٹری پر برس ہا برس سے راج کرنے والی تین بڑی کمپنیوں سوزوکی، ہونڈا اور ٹویوٹا کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس کے مطابق مذکورہ کمپنیاں گاڑیوں کے سیفٹی ٹیسٹ میں جعلسازی میں ملوث پائی گئی ہیں جس پر جاپان میں ان کے خلاف بھرپور تحقیقات جاری ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کے سیفٹی ٹیسٹ سے متعلق اس بڑے سکینڈل نے اس وقت جاپان کی آٹو انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ یہ معاملہ اس قدر سنگین ہے کہ دنیا میں گاڑیوں کی سب سے بڑی کمپنی ٹویوٹا کے سربراہ نے اپنا سر جھکا کر پوری دنیا سے معافی مانگی ہے جس کی تصویر عوامی سطح پر جاری کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہونڈا ،ٹویوٹا اور سوزوکی سمیت مختلف جاپانی کار کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی گاڑیوں کے کئی ماڈلز کی بڑے پیمانے پر تیاری اور پروڈکشن سے پہلے سرٹیفیکیشن کے حصول کے لیے پرفارمنس سیفٹی ٹیسٹ کا جعلی ڈیٹا ظاہر کیا یعنی اس معاملے میں مذکورہ کمپنیاں جعل سازی میں ملوث پائی گئیں جس کے نتیجے میں انہوں نے عمومی طور پر عوام کو اور خاص طور پر ان گاڑیوں کے خریداروں کو گمراہ کیا۔

ٹویوٹا کمپنی کے چیئرمین سے جھکا کر معافی مانگتے ہوئے

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جاپان کی وزارت ٹرانسپورٹ نے آٹو سیکٹر کی 8 سے زائد کمپنیوں کو یہ ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ ماضی میں سیفٹی ٹیسٹ کے نتائج میں کس قدر بے ضابطگیاں کی گئی ہیں چنانچہ اس حوالے سے جاپانی حکام مختلف آٹو کمپنیوں کے دفاتر میں جا کر تفتیش کر رہی ہیں۔

اس دوران جاپان کی وزارت ٹرانسپورٹ کے حکام نے گزشتہ روز یعنی 10 جون کو ہونڈا کمپنی کے دفاتر پر چھاپہ مارا جبکہ اس سے قبل ڈیٹا میں بےضابطگیوں کے حوالے سے یاماہا، سوزوکی اور ٹویوٹا کے دفاتر پر بھی چھاپے مارے جا چکے ہیں۔
جب دنیا کی سب سے بڑی آٹو کمپنی ٹویوٹا کے ہیڈ کوارٹرز پر چھاپہ مارا جا رہا تھا تو اس کے سربراہ نے سیفٹی سرٹیفیکیٹیشن ٹیسٹ میں جعل سازی اور رد و بدل کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر معافی مانگ لی تھی تاہم اس کے باوجود مذکورہ کمپنی کے خلاف تحقیقات جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹویوٹا کے چیئرمین ایکیو ٹویوڈا نے اپنا سر جھکایا اور صارفین سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ہم نے سرٹیفیکیشن کے طے شدہ طریقہ کار کو نظر انداز کیا اور سیفٹی اقدامات پر عمل کیے بغیر گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر پروڈکشن کی۔تاہم کمپنی کے جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ اس وقت سڑکوں پر چلنے والی ٹویوٹا کی گاڑیوں کی سیفٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔

 

یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2023 کے دوران ٹویوٹا کمپنی نے ایک کروڑ 10 لاکھ گاڑیاں فروخت کی ہیں جو اس حوالے سے ایک ریکارڈ ہے۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جاپانی کار کمپنیوں نے اپنی گاڑیوں کے کن سیفٹی ٹیسٹوں میں جعلی ڈیٹا ظاہر کیا اور اس کے کیا ممکنہ نقصانات ہو سکتے ہیں؟

تین جون کو جاپانی وزارت ٹرانسپورٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کم از کم پانچ کار کمپنیوں نے،جن میں ٹویوٹا، مزڈا، یا ماہا ،ہنڈا اور سوزوکی شامل ہیں، سرٹیفیکیشن کے حصول کے لیے پرفارمنس ٹیسٹ کا جعلی ڈیٹا ظاہر کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔
چنانچہ جاپانی حکام ٹیسٹ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مذکورہ کمپنیوں کے ذمہ داران سے تفتیش کر رہے ہیں کہ یہ جعلسازی کس پیمانے پر اور کب سے جاری ہے۔
جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ سوزوکی کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ 2014 میں آلٹو کار کے ایک ماڈل کے جعلی بریک ٹیسٹ ظاہر کیے گئے تھے تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ اب یہ گاڑی پروڈکشن میں نہیں ہے۔

اسی طرح ٹویوٹا کمپنی نے اپنے تین ماڈل جن میں کرولا فیلڈر، کرولا ایگزیو اور یارس کراس شامل ہیں ،ان کی پروڈکشن روک دی ہے تاہم کمپنی کے مطابق اس سے غیر ملکی پروڈکشن پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا۔اسی طرح مزڈا کو بھی اپنے پلانٹس میں مرزا ٹو نامی کار کے ماڈلز کی پروڈکشن کا سلسلہ بند کرنا پڑا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جاپان کی وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ ہونڈا نے ماضی کی کاروں کے 22 ماڈلز کے نوائز ٹیسٹ میں بے ضابطگی کی جبکہ ٹیسٹ رپورٹ میں ظاہر نہیں کیا گیا کہ گاڑیوں کا وزن مختص کردہ رینج سے بڑھ گیا تھا۔

وزارت کا مزید کہنا ہے کہ ہونڈا نے کچھ ماڈلز کے انجن آؤٹ پٹ ٹیسٹ کا غلط ڈیٹا ظاہر کیا۔

دوسری جانب ایک اور بڑی کمپنی ٹویوٹا نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے تین برسوں یعنی 2014، 15 اور 20 کے دوران سرٹیفیکیشن کے لیے مقامی سطح پر فروخت ہونے والے سات ماڈلز کے سیفٹی ٹیسٹ کے حوالے سے جعلی نتائج ظاہر کیے۔
کمپنی کا موقف ہے کہ اس نے کولیژن یعنی ٹکراؤ کے نتیجے میں ایئر بیگ اور پچھلی سیٹ پر نقصان کے سیفٹی ٹسٹوں میں پرانا یا پھر غلط ڈیٹا استعمال کیا ۔
اس کی ایک مثال یہ بتائی جاتی ہے کہ حادثے کی صورت میں نقصان کا اندازہ گاڑی کے بونٹ کے دونوں اطراف سے لگانے کے بجائے صرف ایک طرف سے لگایا گیا ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کار کے ایگزٹ ٹیسٹ میں بھی جھوٹ سے کام لیا گیا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بعض ماڈل جن کے سیفٹی ٹیسٹ کے جعلی نتائج ظاہر کیے گئے تھے ان کی پروڈکشن پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔
ایک اور بڑی کمپنی مزڈا نے اعتراف کیا کہ اس نے ماضی کے ماڈلز کے انجن کنٹرول سافٹ ویئر اور کریش ٹیسٹ میں قواعد کی خلاف ورزی کی تھی جبکہ روڈ سٹر اور مزڈا ٹو کی پروڈکشن روک دی گئی ہے۔

16c6f941 b1d3 410e 98b9 db123b0df9c9تحقیقات میں مصروف جاپانی حکام 

ایک اور بڑی آٹو موبیل کمپنی ہونڈا کا کہنا ہے کہ اس نے آٹھ برسوں کے دوران ماضی کی درجنوں کاروں کے نوائز یعنی شور اور آؤٹ پٹ ٹیسٹ رزلٹ میں غلط بیانی سے کام لیا۔
یا ماہا کمپنی، جس کے موٹرسائیکل عالمی سطح پر بہت کریڈیبل سمجھے جاتے ہیں، اس نے بھی اعتراف کیا کہ موٹرسائیکل کے کم از کم تین ماڈلز میں نوائز لیول کا غلط ڈیٹا ظاہر کیا گیا۔
اسی طرح ایک اور بڑی کمپنی ڈائی ہیٹسو نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی 28 ہزار چھوٹی گاڑیوں پر کیے گئے سائیڈ کولیژن سیفٹی ٹیسٹ میں بے قاعدگیاں اور بےضابطگیاں پائی گئی ہیں۔

جاپانی حکومت جہاں ایک طرف بڑی ذمہ داری اور ایمانداری کے ساتھ جعل سازی اور بے قاعدگی میں ملوث کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے وہیں اس نے کار کمپنیوں کی ان بد اعمالیوں کے معاشی اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کیونکہ یہ مسئلہ جاپانی کار مینوفیکچررز کی ساکھ کو بھی متاثر کرے گا جو اپنی مصنوعات ، سیفٹی اور معیار کے حوالے سے عالمی سطح پر جانے اور مانے جاتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس اچانک سر اٹھانے والے بحران نے ٹویوٹا کمپنی کے چیئرمین ایکیو ٹویوڈا پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کے لیے اگلے الیکشن میں شیئر ہولڈرز سے ووٹ حاصل نہیں کر پائیں گے۔

6f1b036b d8f3 4c4a 969e 38020a5f7481
دوسری طرف یہ خبریں سامنے آنے کے نتیجے میں جاپان کی بڑی کار کمپنیوں کے شیئرز بھی مندی کا شکار ہو گئے ہیں۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دنیا کی سب سے بڑی آٹوموبیل کمپنی ٹویوٹا کے شیئرز کی قدر میں 5.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس سے ایک ہی ہفتے میں مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے کمپنی کو تقریبا”ساڑھے پندرہ ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔
اسی طرح جاپان کی دوسری سب سے بڑی کمپنی مزڈا کے شیر کی قدر 7.7 فیصد گر گئی ہے جس سے کمپنی کو 80 ارب ین کا نقصان ہو چکا ہے۔اسی طرح دیگر بڑی کمپنیوں یعنی ہونڈا ،یا ماہا اور سوزوکی وغیرہ کو بھی اسٹاک مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

 

Counterfeiting of Suzuki, Honda and Toyota. A dangerous scandal came to light


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481