اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں ۔۔۔”

f851b7d7 3375 406d aaa5 155e2ef18f48

آج جس "خیابان” کا ذکر خیر ہونے جا رہا ہے وہ کیپٹن حسین خان شہید پوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ کا ادبی مجلہ ہے جس کا پہلی بار اجراء 1968 میں ہوا ۔ اس کے بعد یہ کالج میگزین چند برسوں کے تعطل کے بعد اس سال منصہ شہود پر آیا ، تو خوب آیا کہ 500 سے زائد صفحات پر مشتمل اہل علم کے رشحات قلم نے صحیح معنوں میں دیر آید درست آید کی مثال قائم کی ہے ۔

صاحبو ! یہ وہ مانوس اجنبی ہے جو مجھے تو حیران کر گیا ہے ۔ اس کے صفحات پہ قوس قزح کے سارے رنگ بکھرے ہوئے ملتے ہیں ۔
اول اول دینی تعلیمات پر مبنی مضامین میں”سیرت” کے زیر عنوان پروفیسر عبدالجبار شاکر ، ڈاکٹر محمد کامران خان ، اظہر محمود اور ڈاکٹر محمد نصیر خان کے قلم نے ضوافشانی کی ہے ۔ ازاں بعد اقبالیات کے عنوان تلے پروفیسر فتح محمد ملک جیسے نابغہ روزگار اقبال کے افکار و نظریات کی بھرپور ترجمانی کرتے ہیں ۔ اس کے بعد چناروں کا دیس میں ارشاد محمود ، پروفیسر ڈاکٹر عبدالحق دہلی یونی ورسٹی ، افتخار گیلانی ، عامر حیات اور خونی لکیر کے اس پار سے امن دوست کے – ڈی مینی چناروں کی چھاؤں میں برسہا برس سے چھائی ہوئی تاحد نگاہ گہری دھند کے پردوں کے پرے کچھ دیکھتے بھی ہیں اور دوسروں کو دکھلاتے بھی ہیں ۔

سفر نامے کے عنوان کے تحت یعقوب نظامی اور مہتاب حسین خان کی طبع آزمائی خوب سے خوب تر ہے ۔ اس سے آگے چلیں تو کشمیر کے دل پونچھ کی ثقافت ، تاریخ و جغرافیہ محمد کبیر خان ، محمد طفیل حسین علوی ، سمیرا ایاز اور جاوید خان کے معجزہ نوک قلم کے رہین احسان ہیں جہاں یہ احباب ضلع پونچھ اور اس کے باسیوں کے لیے رطب اللسان ہیں۔ ذرا آگے بڑھیں تو آتش رفتہ کا سراغ پانے کے لیے ان چنگاریوں کو کریدا اور ٹٹولا جاتا ہے جو آج شعلوں کا روپ دھارن کر چکی ہیں ۔ یہاں سب سے پہلے "پہاغیلیں نی تہن” وہ سرنامہ ہے جہاں قاری کا ذہن چونک اٹھتا ہے ۔ یہاں ڈاکٹر محمد صغیر خان نے ماضی و حال کی پیوند کاری میں گلکاری کا وہ اعجاز دکھایا ہے گویا ماضی کی یادوں کو سینے میں بسائے راولاکوٹی ماسیروں کو قلبی اطمینان بہم پہنچایا ہے ۔ ماضی کی انہی چنگاریوں میں ذوالفقار احمد ساحر ، جمیلہ خورشید ، محمد فاروق کیانی ، اعجاز نقی ، سید منصور حسین اور محمد پرویز خان ؛ گئے دنوں کا سراغ لے کر ماضی کے دریچوں سے جھانکتے ہیں اور یاد ماضی کے جذب و جنون میں مادر علمی کو اپنا سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔

رفتگاں کے عنوان تلے غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان، مولانا محمد یوسف خان، شیخ محمود احمد، عبدالعلیم صدیقی ، پروفیسر سردار محمد صادق خان اور پروفیسر ڈاکٹر افتخار اکبر جیسے باصلاحیت کرداروں کو یاد کیا جاتا ہے جن کے دم قدم سے کبھی شہر جاناں میں رونق تھی وہ اب شہر خموشاں کی زینت بن کر ہماری تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہوئے ہیں ۔
مضامین کی ذیل میں کالج اساتذہ کی تحریریں واقعی معجزہ فن کی نمود ہے جن میں ممتاز صادق خان کی تحریر "چھوٹے پیشے کا بڑا آدمی ، کاکا پہائی” ادبیت کی شان لیے ہوئے ہے جو ذائقہ بدلنے کی خاطر صنف مضمون کی تلخی کو مزاح کی شیرینی سے بدل رہا ہے ۔ علاوہ بریں نئی نسل کے افکار تازہ باد بہاری کے وہ جھونکے ہیں جو مستقبل قریب میں گلشن حیات کی کیاری کو مہکانے کی نوید سناتے ہیں ، یہی اس مجلے کا اول و آخر مقصد اور ہماری کاوشوں کا ثمر ٹھہرے گا ۔
گوشہ شاعری میں طلبہ ، اساتذہ اور مشاہیر ادب کے فن پاروں کو سمو دیا گیا ہے جو مجلے کو زعفران زار بنانے کے ساتھ ساتھ خاص و عام کی توجہ کا موجب ہوئے ہیں ۔

آخر میں تسبیح روز و شب کی وساطت سے محمد ایاز کیانی کالج کی تقریبات کی لمحہ لمحہ کہانی اپنے انداز خاص میں پیش کرتے ہوئے میگزین کی زیب و زینت میں اضافہ کرتے ہیں ۔ اسی طرح انگریزی سیکشن میں عتیق احمد لیکچرر انگریزی کی محنت کالج طلبہ کی مشترکہ کوششوں سے اسے جگمگا رہی ہے ۔ ازاں بعد مجلے میں تصویری جھلکیاں سال بھر کی تقریبات کو چار چاند لگاتے ہوئے بغیر پڑھے بھی قاری کی دلچسپی کا سامان رکھتی ہیں ۔

ان ایک جٹ کوششوں کے لیے تمام اساتذہ اور طلبہ تو مبارک باد کے مستحق ہیں ہی مگر مجلس ادارت ، سربراہ ادارہ اور خاص طور سے مدیر اعلٰی ڈاکٹر ظفر حسین ظفر اس ظفر یابی کے لیے خصوصی مبارک باد کے مستحق قرار پاتے ہیں جن کی علم دوستی کا ثمر "خیابان” کی صورت آج ہمارے ہاتھوں میں ہے ۔ جس کی اشاعت کے دوران ان احباب کا مضامین کے چناو ، کتابت ، پروف خوانی ، تصویروں کے انتخاب ، سرورق کے انتخاب اور دیگر جانگسل مراحل سے گزرنا یقینی ہے ۔ آخر میں چند سفارشات میں یہ کہ اگر ہماری نئی نسل کو ادب سے بہرہ مند کرنے کی دانستہ کوشش کے لیے ان کی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ جگہ دی جائے تو یہ نہ صرف ان کی خفتہ صلاحیتوں کو جلا بخشنے جیسا ہے بل کہ معاشرے کے سدھار کی ضمانت بھی ہے ۔ ہمارا معاشرہ روز افزوں جس سفاکی اور گراوٹ کا شکار ہے ۔ ہمیں ڈاکٹرز اور انجنیئرز کی بجائے سچے ادب اور ادیبوں کی ضرورت ہے جن کے قلم قلوب میں شعور کی روشنی بھر سکیں ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481