اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مذاکرات ان سے کروں گا جن کے پاس طاقت ہے۔ عمران خان کا اصرار

آرمی چیف سے کہوں گا فوج اور لوگوں کو آمنے سامنے نہیں کیا جاتا، عمران خان

تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر حکومت کے ساتھ مذاکرات سے صاف انکار کر دیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ ہم ان سے بات کریں گے جن کے پاس پاور ہے. اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے مشرف دور میں بھی شوکت عزیز سے بات نہیں کی جو بھی بات ہوئی وہ پرویز مشرف کے نمائندےسے ہوئی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم وہاں بات کریں گے جن کے پاس پاور ہے ان کے پاس تو طاقت ہی نہیں ہے تو پھر گفتگو کرنے کا کہ کیا فائدہ۔بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ 14 مئی 2023 کو پنجاب الیکشن کی میٹنگ کے دوران بھی نون لیگ والوں نے کہا تھا کہ جنرل عاصم منیر الیکشن نہ کرانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

صحافیوں نے عمران خان سے سوال کیا تھا کہ اب تو سپریم کورٹ نے بھی کہہ دیا ہے کہ آپ سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کریں۔اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے کہنے پر بھی ہم نے الیکشن کے موقع پر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیے۔قانون کے تحت انتخابات 90 دن میں ہونا تھے لیکن جسٹس بندیال ان کے دباؤ میں آگئے۔

پہلے میں نے حمودالرحمن رپورٹ پڑھی ہی نہیں تھی

صحافیوں سے گفتگو میں حمود الرحمن کمیشن کے حوالے سے ویڈیو بھی زیر بحث آئی۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ خان صاحب جب میاں نواز شریف شیخ مجیب کا حوالہ دیتے اور حمود الرحمن کمیشن کی بات کرتے تھے تو آپ کہتے تھے کہ نواز شریف دوسرا مجیب الرحمن بننے کی کوشش کر رہے ہیں اس پر عمران خان نے کہا کہ میں نے اس وقت تک حمود الرحمن کمیشن رپورٹ نہیں پڑھی تھی ۔مگر اب میں نے یہ رپورٹ پڑھ لی ہے۔ یہ کمیشن بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ایسی غلطی دوبارہ نہ کی جائے کیونکہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جنرل یحییٰ کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا جس نے اپنے اقتدار کے لیے سب کچھ کیا۔

ویڈیو سے لا تعلقی۔۔ٹویٹ میری ہے۔عمران خان 

عمران خان نے ایک بار پھر اس حوالے سے ویڈیو پوسٹ کرنے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں جیل میں بیٹھ کر ویڈیو کیسے پوسٹ کر سکتا ہوں تاہم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس پوسٹ میں جو ویڈیو لگائی گئی وہ میں نے نہیں دیکھی لہٰذا اس پر بات نہیں کروں گا۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم مذکورہ متنازعہ ویڈیو کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس حوالے سے وہ دو مرتبہ عمران خان سے سوال جواب کے لیے اڈیالہ جیل جا چکی ہے تا ہم پی ٹی آئی رہنما نے تفتیش میں تعاون سے انکار کر دیا ہے۔
صحافیوں نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ کا ایکس اکاؤنٹ کون چلاتا ہے تو عمران خان نے جواب دیا کہ میں ٹویٹ کا صرف وکلاء کو بتاتا ہوں تاہم انہوں نے سوشل میڈیا کے متحرک کارکنوں کو اپنا ہیرو قرار دیا۔

پہلے ملک ٹوٹا تھا اب معیشت بیٹھ رہی ہے۔

کمرہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک بار پھر وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جس سے معیشت بیٹھ جائے گی پہلے ملک ٹوٹا تھا اور اب معیشت بیٹھ رہی ہے۔جیل میں دستیاب سہولتوں کے حوالے سے سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ میں شکایت اور "چوں چاں” نہیں کرتا. مجھے ڈیتھ سیل والی چکی میں ہی رکھا گیا ہے. میرے پاس ایکسرسائز مشین کے علاوہ کوئی سہولت موجود نہیں ہے. روم کولر سارے چکیوں میں لگے ہیں، میرے سیل میں واش روم نہیں، نہانے کے لیے دوسرے کمرے میں جانا پڑتا ہے۔

نواز شریف اور آصف زرداری سے موازنہ

عمران خان نے اپنی قید کا لیگی قائد میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی قید سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کو لگژری سویٹ دیے گئے تھے اور ان کے کھانے بھی باہر سے آتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ جس سے چاہتے ملاقات کر لیتے تھے۔ میرے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ مجھے تو آدھا گھنٹہ وکلا کے ساتھ اور 20 منٹ فیملی کے ساتھ ملاقات کی اجازت ہے۔
اس پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ اپنے زمانے میں کہتے تھے کہ جو سہولتیں نواز شریف اور آصف زرداری کو ملی ہیں، یہ اگر سب قیدیوں کو مل جائیں تو لوگ باہر سے آ کر جیل میں رہنا پسند کریں گے اس پر عمران خان قدر غصے میں آگئے اور انہوں نے کہا کہ میں شکایت نہیں کرتا میں نے اب تک کوئی رعایت یا سہولت کسی سے نہیں مانگی مجھے ایک قیدی کھانا بنا کر دیتا ہے۔
اس سوال پر کہ کیا آپ کے خیال میں پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ بنے گی عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ بجٹ میں مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی جس کے ساتھ قرضے بھی بڑھ جائیں گے یہ سب کچھ دیکھ کر پیپلز پارٹی حکومت میں شامل نہیں ہو رہی۔

I will negotiate with those who have power.Imran Khan,مذاکرات ان سے کروں گا جن کے پاس طاقت ہے۔ عمران خان


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481