اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پی ٹی آئی کے ساتھ ڈائیلاگ کا راستہ اب ممکن نہیں رہا، رانا ثناء

پی ٹی آئی کے ساتھ ڈائیلاگ کا راستہ اب ممکن نہیں رہا، رانا ثناء

پی ٹی آئی کے ساتھ ڈائیلاگ کا راستہ اب ممکن نہیں رہا، رانا ثناء

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ ڈائیلاگ کا راستہ اب ممکن نہیں رہا ، اب بانی پی ٹی آئی کے خلاف غداری سمیت نئے مقدمات قائم ہوں گے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوری جماعتوں نے کبھی بات چیت سے انکار نہیں کیا، حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش پر دوسری طرف سے کوئی رسپانس نہیں ہے، اسد قیصر مذاکرات کی بات کریں گے تو اگلے دن اپنی پارٹی سے فارغ کر دیے جائیں گے۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور گورنر خیبر پختونخوا کو باہر پھینکنے کی بات کریں گے تو علی امین گنڈاپور کو بھی باہر پھینکا جا سکتا ہے۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ملک کو ایسے مرحلے میں لے آئے ہیں، یہ ملک کو کسی حادثے سے دوچار کریں گے، سیاسی کشیدگی بڑھ چکی ہے، اب دو ہی راستے ہیں، ایک جمہوریت کا راستہ ہے جو بات چیت سے شروع ہوتا ہے، دوسرا تصادم کا راستہ ہے جس میں کسی سے نہیں ملوں گا، سب کو جیلوں میں ڈالوں گا ہے، تصادم کا راستہ اب ممکن نہیں رہا، پی ٹی آئی میں جو لوگ اس لہجے کے بجائے تحمل سے بات کرتے ہیں وہ سائیڈ لائن ہوتے ہیں۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ جو فریق عدالت میں جاتا ہے چاہتا ہے فیصلہ اس کےحق میں ہونا چاہیے، توہین عدالت کا قانون ہونا چاہیے لیکن سزا میں مرحلے ہونے چاہئیں، پہلے مرحلے میں ہی نااہل کیا جائے تو یہ بڑا نقصان ہوتا ہے، میرا خیال ہے وارننگ اور جرمانے سے بات شروع ہونی چاہیے، دوسرے تیسرے مرحلے میں سزا ہونی چاہیے۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے رہا ہونے کا عدت کیس سے تعلق نہیں، پاکستان کے قانون میں شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے، شک کسی معمولی بات پر ہو سکتا ہے، ہمارے معزز ججز بھی انسان ہیں، ان کے بھی جذبات ہیں، ایک وقت ہوتا ہے کہ بالکل شک نہیں ہوتا اور دھڑا دھڑ سزائیں سنائی جاتی ہیں، جس طرح سائفر کیس میں شک پڑ گیا، عدت کیس میں بھی پڑ سکتا ہے۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ کیا قوم کا لیڈر ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو ایسی سرگرمی میں ملوث ہونا چاہیے، عدت کیس کو ذاتی معاملہ کہا جا رہا ہے، لیڈر کے ذاتی معاملات نہیں ہوتے، یہ وہ کیس ہیں جن میں جرم کے الزام کا اعتراف کیا گیا ہے، نئے مقدمات بھی قائم ہوں گے، جس طرح کی ویڈیو آئی ہے اس پر مقدمہ بن سکتا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481