Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

شاعروں کے شاعر اختر حسین جعفری

landscape 3 2 1717488389880 1

شاعروں کے شاعر اختر حسین جعفری

اختر حسین جعفری اردو نظم کا انتہائی معتبر صاحبِ طرز شاعر ہے۔ اس کی ہر نظم اردو شعری روایت کی اعلیٰ جمالیات کا خوبصورت نمونہ ہے۔ وہ اپنی شعری واردات کے تخلیقی دباؤ کے بغیر قلم نہیں اٹھاتا تھا ۔

نظریاتی اعتبار سے وہ ایک سچا ترقی پسند شاعر تھا۔ کورس گانے والے ترقی پسندوں سے کہیں گہرا، با بصیرت اور کومٹڈ ترقی پسند۔

اس کی نظمیں ہماری فکری تہذیبی روایت کے اہم ترین عناصر کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس کے تخلیقی سرمائے میں کسی غیر شعری نظم، اس کی نظموں میں کسی غیر شعر ی سطر اور اس کی سطروں میں کسی غیر شعری لفظ کی نشاندہی محال ہے۔ وہ نظم نظم، سطر سطر اور لفظ لفظ با کمال شاعر ہے ۔

وہ ایک واضح نظریاتی ویژن رکھتا ہے مگر اس کا فنی معیار اتنا کڑا ہے کہ ایک خاص جمالیاتی قلبِ ماہیت سے گزرے بغیر اور ایک برتر جمالیاتی سطح تک بلند ہوئے بغیر کوئی خیال اس کے شعری اظہار میں جگہ نہیں پا سکتا تھا۔ وہ ابہام اور تہہ داری کا فرق خوب سمجھتا تھا۔

کثیر الجہت شعری واردات کی عکاس ہونے کے باعث اس کی نظموں کی تفہیم گہری توجہ کا تقاضا کرتی ہے ۔ تاہم فوری ابلاغ نہ ہونے کے باوجود نادر استعاروں، گمبھیر علامتوں، اچھوتی تمثالوں اور دلپذیر اندرونی آہنگ میں گندھی ہوئی سطروں کا اعجاز قاری کو اپنی گرفت میں لیے رہتا ہے۔

اس کی نظموں کا مطالعہ جہاں ادب کے معیاری قاری کو ایک خاص لطافتِ احساس سے آشنا کرتا ہے وہاں ذہین و متین شاعروں پر دنیائے جمال کے نئے دریچے کھولتا ہے ۔ بے شک ارفع درجے کے تخلیقی جوہر کو تحریک دینے والی شاعری کے باعث اسے شاعروں کا شاعر کہا جا سکتا ہے۔

ہمارے نقاد دساوری ادبی تھیوریوں کا اسیر ہونے کی بجائے اپنی ادبی روایت کے ایسے شاہکار فن پاروں سے تنقیدی اصول وضع کریں تو ان پر اپنی تخلیقی روایت کے جملہ اسرار کھلیں اور اس کی درست تفہیم و تحسین کے امکانات روشن ہوں۔

پروفیسر جلیل عالی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481