تفصیلات کے مطابق پتوکی میں 6 بچے زندگی کی بازی ہارگئے، جبکہ 11 بچے شدید بخار کے باعث اسپتال میں زیر علاج ہیں۔خانیوال کی تحصیل کبیر والا میں بھی 6 بچے خسرہ سے جاں بحق ہوگئے ،جبکہ خسرہ کے مزید 48 کیس رپورٹ ہوئے جو اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے اموات پر نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری صحت سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبائی وزیرصحت عمران نذیر نے کبیروالہ کے مختلف اسپتالوں کا دورہ بھی کیا۔بورے والا میں بھی 11 کمسن بچوں میں خسرہ کی تشخیص ہوگئی، جنہیں طبی امداد کے لیے تحصیل اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
شرقپورشریف میں ایک ہی خاندان کے 2 بچے جان سے گئے۔ایک بچی اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔لاہور جنرل اسپتال کے سینیئر ڈاکٹرز نے بابا بلھے شاہ ڈسٹرکٹ اسپتال قصور کا دورہ کرکے بچوں کا معائنہ کیا اور والدین کو حفاظتی تدابیر کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔صوبے میں خسرہ کی بگڑتی صورتحال پر وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ بچوں کوبہترین علاج کی سہولت فراہم کرنےکی ہدایت کردی۔
ادھر سندھ کے ضلع سجاول کے شہر میرپور بٹہورو کے نواحی گائوں اللہ ڈنو لاکھاٹیو میں ایک ہی دن میں دو بہن بھائی خسرہ کے باعث جان کی بازی ہار گئے،جب کہ تیسرے بھائی کی حالت بھی تشویشناک ہے۔بچوں والدین صدمے میں ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ والدین کو علاج کے لئے حیدرآباد اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔محنت کش میر محمد لاکھاٹیو کے 4 سالہ بیٹے شہمير اور 6 سالہ بیٹی ریحانہ خسرے کی وجہ سے ایک گھنٹے کے وقفے سے یکے بعد دیگرے دم توڑ گئے،جب کہ 9 سالہ بیٹے عرفان کی حالت بھی تشویشناک ہے۔بچوں کے چچا نے میڈیا کو بتایا کہ بچوں کی ہلاکت کا سن کر والدین ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں،جنہیں حیدرآباد کی ایک نجی اسپتال پہنچادیا گیا ہے۔
