اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

فوارہ چوک، راولپنڈی

landscape 3 2 1716786869593 1

فوارہ چوک

راجہ بازار پنڈی شہر کا عوامی علاقہ ہے اور اسی راجہ بازار میں فوارہ چوک بھی ہے۔  اس کے چار قدم کے فاصلے پر کسی زمانے میں "روز سینما” ہوا کرتا تھا۔  آج فوارہ چوک تو موجود ہے مگر روز سینما شاید بند ہو چکا ہے، جیسے دوسرے بہت سے سینما بند ہو چکے ہیں۔ اسی چوک کی ایک سڑک پر ایک سرکاری ہسپتال بھی ہے، جسے  سول ہسپتال (ڈی ایچ کیو) کہتے ہیں۔

بہت سال پہلے اس فوارہ چوک میں تانگوں کا رش ہوا کرتا تھا.  یہاں سے تانگے شہر کے مختلف حصوں میں جایا کرتے تھے۔

فوارہ چوک کی سڑکوں کے ارد گرد سستا کھانا بیچنے والے بہت ہوا کرتے تھے۔ کہیں چنے نان کھائے جا رہے ہوتے تھے، کہیں توا کلیجی بھونی جا رہی ہوتی تھی اور کہیں دال چاول والے بیٹھے ہوتے تھے۔

ایک سڑک پر تلے والے کھسوں کی دکانیں ہوا کرتی تھیں اور وہ آج بھی ہیں، جہاں دکاندار کھسے کی قیمت 13 سو روپے بتاتے ہیں اور پھر ایک گھنٹے کی تکرار اور بھاؤ تاؤ کے بعد گاہک پر احسان جتاتے ہوئے وہی کھسہ 6 سو روپے میں دے دیتے ہیں۔

اس بازار کی ایک سڑک پر راڈو اور رولیکس گھڑیاں دو تین سو روپے میں مل جاتی ہیں، اور اگر گاہک شک کرے تو دکاندار بڑے اعتماد سے کہتا ہے،

"باو جی ! فکر نہ کرو، اساں کدی دو نمبر مال نئیں ویچیا” ۔

یہیں کہیں پر لنڈا بازار بھی ہے، جہاں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی رونق میلہ لگ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کھڑکیوں کے پردے بیچنے والے بھی سڑک کنارے اپنا سامان لے کر دیہاڑی لگا رہے ہوتے ہیں۔

پنڈی شہر کی زبان اور پوٹھوہاری زبان میں باریک سا فرق ہے۔  پنڈی شہر والے سوہنڑے کو سوہنے کہتے ہیں

"نویں فلم آئی اے. جس نے گانے اینہے سوہنے نے”

اسی چوک سے تھوڑے فاصلے پر مشہور "موتی بازار” ہے، جہاں پر خواتین کے کپڑوں، زیورات اور میک اپ کے سامان کی سینکڑوں دکانیں ہیں جن پر ہر معیار کا سامان مل جاتا ہے۔

 

آج کل کا تو پتا نہیں، مگر 1992 سے پہلے اسی فوارہ چوک سے اڈیالہ جیل اور اس جیل کے پاس "دہگل زرعی یونیورسٹی” کے لیے بسیں چلا کرتی تھیں، جب حنیف بھٹی صاحب اور ان کے پڑوسی شریف صاحب، دونوں دہگل زرعی یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے۔   تب میں دو تین بار فوارہ چوک سے بس میں بیٹھ کر وہاں گیا بھی تھا۔ اس وقت میرے خیال میں اڈیالہ جیل تعمیر کے آخری مراحل میں تھی۔

 

اسماعیل محمد _ جرمنی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481