اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

معروف سینئر اداکار طلعت حسین طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

معروف سینئر اداکار طلعت حسین طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

معروف اداکار، صدا کار اور ہدایت کار طلعت حسین طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

صدر کراچی آرٹس کونسل احمد شاہ کا کہنا تھا کہ اداکار طلعت حسین صحت کی خرابی کے باعث کافی عرصے سے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے، ان کے انتقال کی تصدیق اہل خانہ نے بھی کر دی۔

معروف اداکارطلعت حسین کچھ عرصہ سے ذہنی بیماری ڈیمنشیا کا شکار تھے اور انہیں سینے میں بھی انفیکشن تھا۔

طلعت حسین بھارت کے شہر دہلی میں 1940 میں پیدا ہوئے تھے،طلعت حسین کا تعلق پڑھے لکھے اور روشن خیال گھرانے سے تھا،ان کے والد تقسیمِ ہندسے پہلے سرکاری ملازم تھے اور والدہ ریڈیو پر شوقیہ پروگرام کیا کرتی تھیں، طلعت حسین کے علاوہ ان کا ایک اور بھائی بھی تھا، یہ لوگ دہلی سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔

پاکستان ٹیلی ویژن پر انھوں نے کام کا آغاز 1967ء سے کیا، طلعت حسین اداکاری کے شعبے میں اکادمی کا درجہ رکھتے تھے، نیشنل اکادمی آف پرفارمنگ آرٹ میں آپ کی خدمات قابل قدر ہیں، انھوں نے پاکستان کے باہر بھی کئی چینلز پر اداکاری کی، 1971ء کی جنگ کے دوران ریڈیو پر ایک پروگرام کیا تھا’’کیا کرتے ہو مہاراج‘‘ جو جنگ ختم ہونے تک جاری رہا۔

1972ء میں ان کی شادی پروفیسر رخشندہ سے ہوئی، ان کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔

ان کے مشہور ڈراموں میں طارق بن زیاد، بندش، دیس پردیس ،عید کا جوڑا، فنون لطیفہ، ہوائیں ،اک نئے موڑ پہ، پرچھائیاں، دی کاسل ، ایک امید ، ٹائپسٹ، انسان اور آدمی ،رابطہ، نائٹ کانسٹیبل ، درد کا شجر اور کشکول شامل ہیں۔

طلعت حسین نے ڈراموں کے ساتھ فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ان فلموں میں چراغ جلتا رہا، گمنام،انسان اور آدمی،جناح ، ان پورٹ ، ایکسپورٹ ، ناروے، لاج ، قربانی ،سوتن کی بیٹی (انڈین)، اشارہ ،آشنا، بندگی، محبت مر نہیں سکتی شامل ہیں،انہیں بہترین اداکاری کے اعتراف میں 1983 سے 1985تک تمغائے حسن کارکردگی برائے فنون سے بھی نوازاگیا۔

پاکستان شوبز انڈسٹری سے وابستہ افراد نے سینئر اداکار کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، اداکارہ بشریٰ انصاری نے بھی انسٹاگرام پر طلعت حسین کے انتقال کی خبر شیئر کی اور گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل اداکار طلعت حسین کی بیٹی تزین حسین نے بتایا تھا کہ ڈیمنشیا کی وجہ سے والد کی یادداشت متاثر ہو رہی ہے اور کبھی کبھی اُنہیں لوگوں کو پہچاننے میں مشکل ہوتی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481