اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عدلیہ پر تنقید ،چیف جسٹس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا

فوج صرف دفاع کا کام کرے، کاروبار نہیں، چیف جسٹس

ٹی وی چینلز پرعدلیہ پر ہونے والی بے جا  تنقید پر چیف جسٹس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ غلط خبر پر کوئی معافی تک نہیں مانگتا اور نا ہی یہ کہتا ہے ہم سے غلطی ہوگئی ہم کچھ کہتے نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بس پتھر پھینکے جاؤ۔ ٹی پر بیٹھ کر ہمیں درس دیا جاتا ہے کہ عدالتیں کیسے چلنی چاہئیں۔

 

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس سماعت کی جس دوران چکوال کے درخواست گزار کمرہ عدالت میں درخواست دائرکرنے سے ہی مکر گئے اور کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر نہیں کی۔ درخواست گزار راجہ شیر بلال، ابرار احمد اور ایم آصف ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے عدالت میں کہا کہ ہم نےسپریم کورٹ میں درخواست دائر نہیں کی، اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کسی نے آپ کے نام اور رہائشی پتے کیسے استعمال کیے؟ کیا آپ بغیر اجازت درخواست دائرکرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کٹوائیں گے؟ درخواست گزار نے کہا کہ اگر آپ کی سرپرستی ہوگی تو ہم ایف آئی آر کٹوا دیں گے،اس پر چیف جسٹس نے کہا ہم کیوں سرپرستی کریں؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ٹی وی پربیٹھ کر ہمیں درس دیا جاتا ہے کہ عدالتوں کو کیسے چلنا چاہیے، پہلے ہم پر بمباری کی جاتی ہے پھر پیش ہوکر کہتے ہیں کیس ہی نہیں چلانا، ملک کو تباہ کرنے کے لیے ہر کوئی اپنا حصہ ڈال رہا ہے، سچ بولنے سے کیوں ڈرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا غلط خبر پر کوئی معافی تک نہیں مانگتا اور نا ہی یہ کہتا ہے ہم سے غلطی ہوگئی ہے، غلطیاں تو جیسے صرف سپریم کورٹ کے جج ہی کرتے ہیں، بس فون اٹھایا اور صحافی بن گئے کہ ہمارے ذرائع ہیں ،کسی کے کوئی ذرائع نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ہم کچھ کرتے نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بس پتھر پھینکے جاؤ، باہر ملک میں ایساہوتا تو ہتک عزت کےکیس میں جیبیں خالی ہوجاتیں۔

بعد ازاں مطیع اللہ جان کیس میں پیشرفت نہ ہونے پر چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) انوسٹی گیشن کو روسٹرم پر بلایا اور ریمارکس دیے کہ سامنے آؤ، واقعے کی ریکارڈنگ موجود ہے، اغواکاروں کا سراغ کیوں نہ ملا؟ ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے بتایا کہ ہمارے پاس سی سی ٹی وی موجود نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جھوٹ بولنے پولیس میں آئے ہو؟ یہ کیا بات کر رہے ہو؟ پولیس یونیفارم کی توہین کر رہے ہو، ریکارڈنگ موجود ہے اور کہہ رہے ہو ریکارڈنگ نہیں، چیف جسٹس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے دریافت کیا کہ کتنے سال ہو گئے ہیں پولیس میں؟ ایس ایس پی نے بتایا کہ مجھے پولیس میں 13 سال ہو گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ ایسے افسر کو ہٹایا کیوں نہیں جا رہا؟ فوری فارغ کریں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میں ان کی طرف سے معافی مانگتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معافی کیوں، ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے، کارروائی کریں، میں بالکل مطمئن نہیں ہوں ان سے، یہ مذاق بنا رہے ہیں۔

Criticizing the Judiciary, the Chief Justice's patience ran out,چیف جسٹس کے صبر کا پیمانہ لبریز

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481