اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سوزوکی پِک اپ – غریبوں کی سواری یا اذیت خانہ

FB IMG 1677313980502 1

سوزوکی پِک اپ ۔۔  غریبوں کی سواری یا اذیت خانہ

ہمارے ہاں آبادی کی اکثریت کے پاس اپنی گاڑی نہیں ہوتی۔ طویل اسفار بسوں اور ٹویوٹا ہائی ایس کا مرہون منت ہوتا ہے لیکن لوکل سفر کے لیے غریب طبقے کے پاس ایک ہی آپشن ہے، "سوزوکی پِک اپ”.

مگر مسئلہ یہ ہے کہ "سوزوکی پک اپ” میں ویسے ہی کل نو (9) لوگوں کے بیٹھنے کی بہ مشکل گنجائش ہے، جسے ہمارے ہاں بارہ (12) کر دیا گیا اور پھر باہر لٹک کر سفر کرنے والے اس پر مستزاد۔ حالیہ برسوں میں کیبن میں آمنے سامنے لگی سیٹوں کے درمیانی خالی جگہ کو پہلے سے بھی زیادہ تنگ کر دیا گیا ہے۔ اس لیے خواتین، جن کے لیے اس میں سفر کرنا پہلے ہی اذیت ناک تھا، کے لیے یہ سفر اب توہین آمیز ہو گیا ہے۔ عمر رسیدہ ہوں یا جوان، انہیں تقریباً لیٹ کر گاڑی سے اترنا یا چڑھنا پڑتا ہے۔ پھر اتنے تنگ رستے سے گزرتے ہوئے خواتین اپنا آپ کتنا سمیٹیں کہ وہ کسی مرد سے اپنے جسم کو مس ہونے سے بچا سکیں۔

سوزوکی پک اپ جب کمپنی سے آتی ہے تو یہ کیبن کے بغیر ہوتی ہے۔ یہ کیبن مختلف ایسے عام کاری گروں سے بنوائے جاتے ہیں جو بغیر کسی باضابطہ تربیت کے یہ کام کر رہے ہوتے ہیں اور سالوں کے تجربے کی وجہ سے مشہور ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے مختلف گاڑیوں کے کیبن ساخت، سائز، وزن اور طرز میں مختلف ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں متعلقہ اداروں نے کبھی سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ یہ کیبن گاڑی کی ساخت، روڈ گرپ، ایچ ایس ای کے قوانین اور گنجائش (لمبائی، چوڑائی، اونچائی) کے حوالے سے موزوں بھی ہیں کہ نہیں۔ دوسرے کیا ایک ایسے کیبن میں دس لوگوں کو بٹھانا مناسب ہے جس میں بہ مشکل عام جسامت کے آٹھ لوگ بیٹھ سکتے ہوں؟ پھر کسی پراپر مینوفیکچرنگ کے بغیر یہاں کی اینٹ وہاں کا روڑا جوڑ کر تیار کردہ چوکٹھے کا کوئی منظور شدہ ڈیزائن اور سائز موجود ہی نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اکثر گاڑیوں میں سوار ہوتے اور اترتے وقت مرد حضرات کا سر پائپوں سے ٹکراتا ہے۔ پہلے یہ چھت خاصی اونچی ہوتی تھی لیکن اب اس کا سائز مزید سکڑ گیا ہے۔

سفر کے دوران کیبن میں اگر ایک طرف مرد بیٹھے ہوں اور دوسری طرف خواتین تو درمیان میں بہ مشکل ایک ڈیڑھ انچ کا فاصلہ تب ممکن ہوتا ہے جب اس قدر سمٹ کر بیٹھا جائے کہ سانس بھی اس وقت لیا جائے جب ناگزیر ہو جائے۔ مجبور خواتین کے پاس کوئی آپشن نہیں ہوتا کہ وہ اس سواری میں باعزت طور پر بیٹھ سکیں۔ ایک خاص پیچیدہ مسئلہ بیچاری حاملہ خواتین کا ہے۔ ان کے لیے سوزوکی پر سوار ہونا، بیٹھنا اور نیچے اترنا کس قدر اذیت ناک ہوتا ہے اس کا اندازہ شاید ہی کوئی کر سکے اور اگر شدید مجبوری نہ ہو تو کیا کوئی خاتون یہ رسک لینے کے لیے تیار ہو گی؟ اور پھر اس صورت میں جب کیبن میں ایک طرف سب غیر محرم مرد بیٹھے ہوں۔

اگر آپ مانسہرہ، ایبٹ آباد، اور پشاور کی سوزوکی پک اپ کا جائزہ لیں تو اس کے جانگلے خاصے اونچے بھی ہوتے ہیں اور اندر سے کشادہ بھی۔ سیڑھی (پوڑی) بھی ایسی جگہ نصب ہوتی ہے کہ سواری کے لیے آسانی ہو نہ کہ اذیت۔ ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ باقی علاقوں میں بھی اسی سائز کے کیبن نصب کیے جائیں۔

سوزوکی پِک اپ کے "سواری خانے” کو پروفیشنل انداز میں ڈیزائن کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اسے ایچ ایس ای کے اصولوں کا خیال رکھتے ہوئے کسی مینوفیکچرنگ فرم سے تیار کروایا جائے۔

بزرگ شہریوں اور خواتین کے لیے سوزوکی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر گھمبیر مسئلہ ہے۔ ہماری خواتین کی عزت نفس کا مسئلہ ہے، ان کے پردے اور ان کی عزت و تکریم کا مسئلہ ہے۔ ایک خاتون جتنی بھی کوشش کر لے وہ اس تنگ کیبن میں موجود مردوں کے ساتھ اپنے جسم کا کوئی حصہ مس ہونے سے نہیں بچا سکتی۔ جب وقفہ موجود ہی نہیں تو وہ مزید کیسے سکڑ کر بیٹھے اور پھر اترتے اور چڑھتے وقت اپنے جسم کو کیسے بچائے؟ یقینا تمام سنجیدہ، باشعور اور غیرت مند لوگوں کے لیے یہ گھمبیر اور حل طلب مسئلہ ہے۔

ابھی معذور افراد کے مسائل اور ان کے حقوق کا ذکر ہی نہیں کیا گیا کیونکہ وہ اس سواری میں بیٹھ ہی نہیں سکتے اور اگر بہ امر مجبوری انھیں بیٹھنا پڑ جائے تو ان کی حالت کیا ہو گی، کوئی تصور کر سکتا ہے؟

مزید تشویش ناک صورت حال اس سواری کے "سکول وین” کے طور پر استعمال کے حوالے سے ہے۔ اکثر مقامات پر سکول کے بچوں کو درجنوں کے حساب سے اس میں ٹھونسا جاتا ہے، جو کسی بہت بڑے حادثے کا موجب بن سکتا ہے۔ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے ہمیں کسی غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔

ایک اور گھمبیر توجہ طلب مسئلہ سیڑھی سے متصل ٹین کے پترے سے بنے وہ گھنگرو ہیں جو اتنا شور پیدا کرتے ہیں کہ کسی مہذب معاشرے میں اس جرم پر عمر قید کی سزا دی جائے۔  لیکن ہم نے شور کی آلودگی کو ابھی تک آلودگی میں شامل کرنا ہی گوارا نہیں کیا۔  ارباب اختیار کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے تو ادھر بھی توجہ دیں۔

کل میرے سامنے ایک بزرگ کا سر سوزوکی سے نیچے اترتے وقت جانگلے سے اتنی زور سے ٹکرایا کہ وہ چکرا کر زمین پر بیٹھ گئے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ سوزوکی کے ڈرائیور صاحب نے معذرت کرنے کے بجائے انہی کو جھاڑ پلا دی

"چاچا! دِکھّی تہ اُلہیا کَرا نا، مُکاؤ ہُن، کرایہ دیو، دیر ہونی وی میکی”.

(چچا! احتیاط سے اترا کریں۔ چلیں اب مکائیں ، کرایہ ادا کریں۔۔ مجھے تاخیر ہو رہی ہے)

گزارش ہے کہ متعلقہ سول سوسائٹی، ارباب اختیار اور قانون مرتب و نافذ کرنے والے ادارے اس مسئلے کے حل کے لیے ضرور عملی اقدامات کریں۔ یہ سماج کے غریب طبقے اور بالخصوص خواتین اور بزرگ شہریوں کا نہایت اہم مسئلہ ہے۔

حمادسکندر عباسی، کوہ مری


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481