اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آزاد کشمیرحکومت کا ڈڈیال واقعے کی مکمل تحقیقات کا اعلان کر دیا

8c9e74ac 2cf3 4850 ada8 e0aa91440daa

ترجمان حکومت آزادکشمیر، وزیر خزانہ عبدالماجد خان اور وزیر خوراک اکبر ابراہیم نے کہا ہے کہ حکومت ڈڈیال میں  پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کی مکمل تحقیقات کرے گی۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف اقدام کریں گے۔ گزشتہ دو ماہ میں حکومتی کی جانب سے مسائل کے خاتمہ کے لیے مذاکرات کو ترجیح دی  اور اس ضمن میں آٹے اور بجلی سمیت تمام معاملات نہ صرف یکسو ہوئے بلکہ ان معاملا ت پر  فریقین کی جانب سے اتفاق رائے کے   بعد حکومت کی جانب سے ان معاملات کو نوٹیفائی بھی کیا گیا۔

 

ٹارگٹڈ سبسڈی  پر اتفاق ہوا اور بعد ازاں ایکشن کمیٹیز  کی جانب سے موقف بدلا گیا۔ فیڈرل کنسٹیبلری اور پنجاب کنسٹیبلری   کے حوالے سے من گھڑت پروپیگنڈے کیے گئے۔ آزاد جموں و کشمیر  بنک کی شیڈولنگ کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ بھارت میں الیکشن کا دور ہے ایسے وقت میں آزادکشمیرمیں انارکی سے بھارتی حکومت فائدہ  اٹھا سکتی ہے۔ امن کو سبوتاژ  نہیں ہونے دیں گے۔ ٹورازم اور ہائیڈل کے پروجیکٹس کے فروغ کے لیے امن و امان کو برقرار رکھنا ہوگا۔ وفاق اور دیگر صوبوں کے مقابل آزادکشمیر میں زیادہ سبسڈی دی جارہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ عبدالماجد خان اور وزیر خوراک چوہدری اکبر ابراہیم نے پی آئی ڈی کمپلیکس  میں سینئر صحافیوں سردار ذوالفقا ر اور جاوید ہاشمی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے سینئر صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے  کہاکہ حکومت کی جانب سے ایف سی اور پی سی کی ڈپلائمنٹ  کا مقصد سٹریٹیجک پروجیکٹس پر کام کرنے والے غیر ملکی انجینئر ز کی حفاظت ہے لیکن اس کے خلاف بلاجواز پروپیگنڈہ کیا گیا۔ ڈڈیال واقعہ پر احتجاجیوں کی جانب سے بلاجواز پروپیگنڈہ کیا  گیا اور انارکی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔

 

انھوں نے کہاکہ  ایکشن کمیٹیز کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومت نے سنجیدہ کوششیں کیں اورآئندہ بھی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ڈڈیال میں ناخوشگوار واقعہ رونما ہونا افسوسناک امر تھا اس واقعہ کی جامع تحقیقات کی جائیں گی۔ حکومت نے ابھی تک زبردست تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور آئندہ بھی حکومت معاملات کو سنجیدہ کاوشوں سے حل کرنے کی کوشش کرے گی۔  ایک سوال کے جواب میں وزیر خوراک اکبر ابراہیم نے کہا کہ  آزادکشمیر میں وفاق اور دیگر صوبوں کے مقابل آٹے او ربجلی کی قیمتوں میں نمایاں فرق ہے۔ آزادکشمیر میں آٹے کی فی من قیمت  3200 جبکہ وفاق اور صوبوں میں دوگنا یعنی6200 ہے۔ بجلی کی فی یونٹ قیمت آزادکشمیر میں ڈومیسٹک صارفین کے لیے 18 یا 19 روپے لیکن وفاق اور دیگر صوبوں میں 35 روپے تک ہے۔ حکومت آزادکشمیر شہریوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات اٹھارہی ہے۔

حکومت تاجران کے مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے مذاکرات کے لیے ہمارے دروازے  ہمہ وقت کھلے ہیں۔  چوہدری اکبر ابراہیم نے کہاکہ عوامی نمائندہ حکومت  عوام کے مسائل سے واقف ہے۔ امن کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش  کی صورت میں  قانون اپنا راستہ ضرور لے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں  انھوں نے کہاکہ آزادکشمیر میں ہائیڈل اور ٹورازم کے وسیع مواقع موجود  ہیں۔ موجودہ دورمیں ٹورازم پر بڑی انویسٹمنٹ ہوئی ہے۔اگر امن و امان کا مسلہ پیدا ہوا تو ایسے پروجیکٹس کو بھی  نقصان پہنچ سکتا ہے، امن و امان  کے دیر پاقیام سے  ہی سرمایہ کاری کے دروازے کھل سکتے ہیں اور ریاست بہتری کی جانب گامزن ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ آزادکشمیر کے عوام کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہاکہ  وفاق ہماری بھرپور مالی معاونت کررہاہے۔ وفاق کے ساتھ طے معاملات میں  وفاق اپنی بھرپور ذمہ داری نبھا رہاہے۔ ایک سوال پر ترجمان حکومت نے کہاکہ عوامی ایکشن کمیٹیز کے احتجاج  کے دوران حکومت کے خلاف بھرپور پروپیگنڈہ کیا گیا لیکن حکومت نے بھرپور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481