اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پاکستانی سیٹلائٹ مشن آج چاند کے سفر پر روانہ ہو گا

5a9a8e9a 3b7b 4f35 bb2e 725b8f27d65a

پاکستان کا سیٹلائٹ مشن ’’آئی کیوب قمر‘‘ چین کے ہینان اسپیس لانچ سائٹ سے چاند کے سفر پر آج  روانگی کیلئے تیار ہے.پاکستانی سائنسدانوں نے دو سال کی مسلسل محنت کے بعد سیٹلائٹ ’’آئی کیوب قمر‘‘ کو مکمل کیا ہے، واضح رہے کہ اب تک دنیا کے چھ ممالک کی خلائی ایجنسیوں نے چاند کے مدار میں یا اس کے قریب اپنے مشن بھیجے ہیں۔ جن میں امریکہ، روس، چین، جاپان، بھارت اور یورپی یونین شامل ہیں.

 

جنوبی کوریا، لکسمبرگ اوراٹلی بھی امریکی اور چینی راکٹوں کے سہارے چاند کے مدار تک جا چکے ہیں اور اب پاکستان بھی اس فہرست میں شامل ہو نے جارہا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی سیٹلائٹ کا نام ’’آئی کیوب قمر‘‘انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی (آئی ایس ٹی ) میں منصوبے پر کام کرنے والے ڈاکٹر خرم خورشید کی جانب سے تجویز کیا گیا تھا۔ کیونکہ یہ مشن چاند کی جانب جا رہا ہے اس لیے اس میں ’’قمر‘‘ یعنی چاند موجود ہے۔

 

آئی کیوب اس لیے کیونکہ آئی ایس ٹی میں موجودا سمال سیٹلائٹ پروگرام کا نام ’’آئی کیوب‘‘ ہے اور اس کے تحت انسٹیٹیوٹ کی جانب سے 2013 میں پہلا سیٹلائٹ ’’آئی کیوب ون‘‘ کے نام سے لانچ کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر خُرم خورشید نے بتایا کہ چین کی شنگھائی یونیورسٹی اور پاکستان نیشنل ا سپسیس ایجنسی سپارکو کے تعاون کے ساتھ اس سیٹلائٹ کا حتمی ڈھانچہ بنایا گیا ہے۔آئی کیوب کیو کا وزن 6 کلو کے قریب ہے، یہ دو آپٹیکل کیمروں سے لیس ہے، جو چاند کی سطح کی تصاویر لینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ 12 وولٹ کی بیٹری اور دو سولر پینلز بھی نصب کیے گئے ہیں اور اس کی ّڈیزائن لائف تین ماہ ہے۔ کمیونیکیشن کے لیے بھی اس میں نظام نصب کیا گیا ہے اور اس کا ڈیٹا ٹرانسفر ریٹ 1 کلو بائٹ فی سیکنڈ ہو گا۔ٹیسٹنگ اور قابلیت کے مرحلے سے کامیابی سے گزرنے کے بعد آئی کیوب کیو کو چین کے چینگ 6 مشن کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا۔

 

چین کے ’چینگ 6‘ کے مشن کا مقصد چاند کی سطح سے نمونے اکھٹا کرنا اور ان نمونوں کو پھر زمین پر واپس لانا ہے، جہاں سائنسدان چاند کی ساخت، تاریخ اور تشکیل کے بارے میں مزید جاننے کے لیے تحقیق کریں گے۔ڈاکٹر خرم نے بتایا کہ سیٹلائٹ کو بنانے کے لیے وقت کم تھا اور انھیں اس میں استعمال ہونے والے پرزے باہر سے منگوانے تھے۔ جن کی پاکستان آمد میں انھیں کچھ تاخیر کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کی تیاری میں آئی ایس ٹی کے مختلف انجینیئرنگ شعبوں جیسے الیکٹریکل، میٹیریئل سائنس، ایوی آنکس، ایرو اسپیس، میکینکل انجینیئرنگ اور کمپیوٹر سائنسز کے طلبا بھی اس پراجیکٹ میں شریک تھے۔اس کی مدد سے ہم سائنسی تحقیق، تکنیکی ترقی اور خلائی تحقیق سے متعلق تعلیمی منصوبوں میں آگے بڑھ سکیں گے۔

 

امریکہ میں مشی گن یونیورسٹی میں شعبہ فزکس اور فلکیات سے منسلک اسسٹنٹ پروفیسر مہر النسا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چاند کے مدار میں چکر لگانے والے کیوب سیٹ ’تصاویر لے سکتے ہیں یا دیگر سگنل ریکارڈ کر کے زمین پر واپس بھیج سکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی قدرے سستی ہے۔ اس سے پاکستانی ماہرین کو چینیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملے گا، تاہم خلائی تحقیق میں دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ایک ابتدائی قدم ضرور ہے ۔تاہم یہ اپنے اداروں میں منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کا طویل مدتی متبادل نہیں۔

سیٹلائٹ تیا


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481