اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

” تحیر” پُر فِکر شعری مجموعہ

square 1 1 1714327532537

” تحیر” پُر فِکر شعری مجموعہ

عبدالرحمان واصف کا دوسرا شعری مجموعہ "تحیر” جہاں شعری مواد کے حوالے سے وقیع ہے وہیں طباعت کے لحاظ سے بھی عمدہ ہے۔  مجموعے میں شامل کلام کی ترتیب بھی کمال کی رکھی گئی ہے۔ قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ زینہ بہ زینہ آگے چڑھتا چلا جا رہا ہے اور ہر بعد میں آنے والی تخلیق پہلی سے بہتر اور جداگانہ لگتی ہے.

عبدالرحمان واصف کے کلام میں عشق، اداسی، کرب، درد، سوز و گداز، انتظار، کسک اور جدائی جیسے موضوعات پر اچھوتے اشعار ملتے ہیں۔ وہ نت نئے اور مختلف قسم کے موضوعات کو اکھٹا کر کے اپنے ماہرانہ اسلوب سے غزلوں کے ہار پرو دیتے ہیں۔ ان کی غزلیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آورد کے بجائے یہاں آمد ہی آمد ہے۔ ان کے کلام میں بے ساختگی، غیر مبہم اظہار اور کیفیات کی بہترین لفظی تصویر کشی خاصے کی چیز ہے۔ واصف الفاظ کے بہترین چناؤ کے ساتھ ,قواعد کی پابندی اور ترتیب کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں. ان کا کلام داخلی اور خارجی تیکنیکوں کے حسن سے آراستہ ہے۔ ان کا تنبیہی انداز دیکھیے۔۔

یہ المیہ ہے مِرے شہر کے جوانوں کا
کہ ان میں علم زیادہ ہے آگہی کَم ہے

یہ مال تیرا کسی روز ڈس ہی لے گا تُجھے
اگر تُو اِس میں سے خیرات کُچھ نہیں کرے گا

منفرد ردیف اور قافیے کلام واصف کا ایک اور وصف ہے۔ نیز پرکاری ایسی ہے کہ قاری پوری غزل پڑھے بغیر رہ ہی نہیں سکتا . وہ خود کو خدشات میں گھرا ہوا بھی محسوس کرتےہیں اور مستقبل کے بارے میں اپنی پریشانی بیان کرتے ہیں.

میں اَولاد کے سَپنے کیسے کاتوں گا
میری جیب میں تھوڑے پیسے رہتے ہیں

ان کے کلام میں روانی کے ساتھ ساتھ وہ درد مند مٹھاس ہے جو قاری کو سحر میں جکڑ لیتی ہے اور قاری پل بھر کو سوچ سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ یوں شعری حسن ان کے ہاں سر چڑھ کر بولتا ہے۔  صوتی آہنگ بھی بے مثال ہے. انھوں نے اپنے کلام میں ہر طرح کا لہجہ سمونے کی بھر پور کوشش کی ہے۔  کہیں نرم، کہیں سخت، کہیں ملتجی کہیں لاپرواہانہ، کہیں دانشورانہ اور کہیں فلسفیانہ۔ مگر ان کے کلام کی کی ایک خاص خوبی واضح ابلاغ ہے. ان کا ہر لفظ سچا اور شعور کو بیدار کرتا سیدھا دل کی پکار محسوس ہوتا ہے۔ وہ زمانے کے سرد گرم کو محسوس کر کے اس پر مکمل گرفت رکھ کر لکھنا جانتے ہیں۔ ان کے کلام میں تصنع نہیں ہے. بے ساختگی ہے. طرح طرح کے مضامین کو چن کر لاتے ہیں اور ایک مخصوص عاقلانہ انداز سے شعر کے قالب میں ڈھال کر بے دھڑک پیش کرتے ہیں کہ شعری حسن اجاگر ہو کر نہ صرف ابلاغ کا سبب بنتا ہے بلکہ عقل اس کو تسلیم بھی کرتی ہے. وہ خیالی بات کے بیان میں بھی حقیقی جواز کو مدنظر رکھتے ہیں۔  ان کے یہ اشعار دیکھیے۔۔

گرچہ بر رُوئے شَبنمی رہا میں
پر کسی کام کا نہیں رہا میں

چند پَل ہی تھی زندگی میری
چند پَل تیرا ہم نشیں رہا میں

اب دُھواں ہو چکا وجود مِرا
اب تِرے ساتھ جو نہیں رہا میں

عقل آ کر جہاں سِسَکتی ہے
عُمر بھر دوستو، وہیں رہا میں

عبد الرحمان واصف کے کلام میں اظہار ذات کمال مہارت سے کیا گیا ہے یعنی اپنے جذبات کو کھل کر بیان کرتے ہیں. اظہار اور سنجیدگی بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ کرب و غم اور شکست ذات کے موضوعات پر جب قلم اٹھاتے ہیں تو ایسا سماں باندھتے ہیں کہ قاری سر دھننے لگتا ہے.  میری دعا ہے کہ جہان سخن میں ان کا نام روشن ستارے کی مانند ہمیشہ چمکتا رہے، آمین

 

نازیہ نزی، نوشہرہ


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481