اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

بھارومل امرانی۔۔۔ ایک تہذیب کا نام

IMG 20240316 WA0378

بھارومل امرانی ۔۔ ایک تہذیب کا نام
سدرہ المنتہیٰ جیلانی

کہا جاتا ہے کہ خط بھی نثری ادب کا ایک حصہ گنا جاتا ہے بطور تصنیف۔۔مگر میں کہتی ہوں ہر وہ الفاظ کا مجموعہ جس میں احساسات کی سچائیوں کو پرویا گیا ہو، جو نثری حیثیت میں بھی موجود ہو۔ اگر احساسات کی گہرائیوں سمیت تخلیق کی دریافت کی گئی ہو تو وہ کسی طور تخلیق کا ایک حصہ ہی ہوتا ہے۔

بھارومل امرانی سوٹہڑ صاحب کے ساتھ پہلی شناسائی اس خط کے زریعے ہوئی تھی جو خط انہوں نے شرجیل صاحب کو سندھی میں لکھا تھا اور ایک روز یونہی کہانیوں پر بات کرتے کرتے جیسے لگا کہ شرجیل صاحب کسی سوچ کو عملی شکل دے رہے ہیں، یا پھر دریافت کی کوششیں جاری ہیں۔ فون کے چھوٹے سے آلے کے اندر ایپلیکیشن کی ایک چھوٹی سی دنیا میں تھراہٹ ہوئی
اور ایک صفحہ آویزاں ہوا۔۔۔یہ خط تھا۔۔۔۔بھارومل کی طرف سے شرجیل بلوچ کو۔۔۔ اور شرجیل صاحب کی فرمائش تھی کہ میں ان کے دوست کی طرف سے بھیجے گئے اس خط کو اردو میں ترجمہ کر دوں تاکہ وہ احساسات کو لفظوں کے ذریعے چھو سکیں۔ پہلے تو میں الفاظ کی روانی اور جذبات کی حدت کو جانچے گئی
مگر پھر ٹھہرنے کا وقفہ طویل جانا تو خط کی عبارت کو من و عن زبان کا پہناوا بدلوا کر بھیج دیا۔
یہ میری بھارومل امرانی سے پہلی شناسائی تھی اور دوسری شناسائی تب ہوئی جب صحرائے تھر کے پس منظر موسمی حالات و مصائب کو سمجھنے کی خاطر اور واٹر پلانٹ سسٹم کی تحقیقات کے لیے ان کو زحمت دی اور نہ صرف موسمی، علاقائی حالات و واقعات بلکہ تہذیب و ثقافت اور رکھ رکھاؤ کے نئے در کھلے۔۔ اور تھر میرے لیے ایک داستان بنتا چلا گیا۔۔۔۔
ناول تو کہیں بیچ میں ہی لڑھکتا رہا مگر بھارومل امرانی صاحب کے توسط سے تھر کی ریگ کو محسوس کرنے کا اک بہانہ ملا اور مجھے محسوس ہوا کہ تھر پر لکھنے کے لیے مجھے شاید ابھی صدیوں کا سفر طے کرنا پڑے گا۔ یہ تھی ادا بھارومل کے ساتھ تھر کی تلاش میں دوسری شناسائی اور اب تیسری کڑی اس سلسلے کی یہ ہے کہ ابھی چند روز پہلے ہی مجھے ان کی جانب سے ان کی پانچ کتب کا بنڈل موصول ہوا ہے اور یقین جانیے میں کوئی بھی کام کررہی ہوں مگر دھیان اس گیان میں اٹکا ہوا ہے۔ دھیان اس انتھک جدوجہد کے بعد کی نگارشات کی طرف اٹکا ہوا ہے، دھیان اس کارگر تحقیق اور نثر کی طرف اٹکا ہوا ہے۔

بہت کم ایسی کتابیں ہیں جن پر ہاتھ میں اٹھانے کے بعد آپ کی نظر ٹک جائے۔ نظر ٹکے تو ہٹ نہ سکے۔ اور جب ورق پلٹا جائے تو تاریخیں صفحات میں سر اٹھانے لگیں۔ ابھی تو مفصل مطالعہ درکار ہے۔ تفصیلی رائے بھی محفوظ ہے۔ مگر فی الحال مجھے ان کتب کا تعارف کرانے دیجئے اور نثر نگار کی نگارشات کی انتھک محنت اور لگن کے ساتھ اس دلچسپ تحقیقات کے پہلو در پہلو سوچنے سے پہلے دیکھنے دیجیے۔

IMG 20240422 WA0307
پہلی کتاب تھر تھر اندر تھاک (خاکہ نگاری کی کتاب ہے) جس میں تھر کے عالم ادیب، فنکار اور لوک گائک شخصیات کو خاکوں کی صورت متعارف کروایا گیا ہے۔دوسری کتاب چتر بولی چارٹاں (اس کتاب میں چارن قبیلہ کی تہذیب و ثقافت و حیات و حالات سے لے کر لوک شاعری پر ایک مفصل اور گہری نگاہ ڈالی گئی ہے)
تیسری کتاب تحقیق و ترتیب کے حوالے سے ھمروٹ چتیسی صحرائے تھر، عمر کوٹ کے پس منظر میں بانکیداس چارن جی کی شاعری میں ہمروٹ چتیسی جس رخ و انداز میں پیش کی گئی ہے وہ سراہنے کے قابل ہے۔

چوتھی کتاب دھرتی گائے تھی ہے۔ یہ کتاب تھر کے لوک صحرائی گیت، راسوڑے اور دوہے پر مبنی ہے، جس کے رنگ و رس میں ڈبو کر انگلیاں چاشنی کے ذائقے سے مانوس ہونے لگتی ہیں۔ گیتوں کے بول، تول، رقص کے انداز،  تہوار سب دیدنی بھی ہیں اور دلچسپی کے مظہر بھی۔۔ پانچویں کتاب چنڈ کھڑیو چیلہار میں(بھارومل صاحب کی ادبی، سماجی، خدمات کو مدنظر رکھ کر کچھ مختلف مکالمے جو ان کے دوستوں اور جاننے والوں کی طرف سے مختلف انداز میں لکھے گئے ہیں) انہیں سمیٹ کر ایک کتابچے کی صورت شہاب نہڑیو ،اور دلیپ دوشی لوھاٹو صاحب نے سمیٹا ہے۔ یہ ایک تخلیقی نثر نگار اور محب وطن دھرتی پرست تحقیق نگار کی خدمات کی چھوٹی سی قدر افزائی ہے۔  یہ قدر افزائی ہے تہذیبوں کی۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے اندر چھپے کئی ایسے فنکار اور باصلاحیت تخلیق کار جو ناصرف فن کے جوہر سے مالا مال ہیں بلکہ دھرتی سے بے لوث پیار و انس اور  مٹی سے محبت کی ان تھک جدوجہد میں مشغول ہیں اور ایسے کئی فنکار جو تہذیبوں کے اندر رہ کر اپنے اپنے حصے کا کام سر انجام دے رہے ہیں انہیں سراہا جائے،  ان کے آرٹ سے فیضیاب ہونے کا موقع ملے تو اک اچٹتی سی ہی سہی چلتے چلتے نگاہ ضرور ڈالی جانی چاہیے۔۔۔نگاہ ڈالنے کے بعد دوسرا کمال تصنیف خود کرتی ہے، اگر وہ با اثر بھی ہو اور بار آور بھی۔

IMG 20240422 WA0309
ان کتب کے مختصر تعارف کے ساتھ میں یہ خط پھر ایک بار آپ دوستوں کے ساتھ شئیر کرنا چاہوں گی
****
بهارومل امرانی کا ایک اداکار، ہدایت کار،  وڈیو پروڈیوسر شرجیل بلوچ (میرا پسندیدہ ڈرامہ شانتل جو 1995میں پی ٹی وی سینٹر سے پیش کیا گیا) کے کردار کے نام سندهی میں لکها گیا ایک ادبی خط جو تهر اور شرجیل صاحب کی محبت سے لبریز ہے۔  ساتھ میں اردو ترجمہ شرجیل صاحب کے لیے۔
آپ سب ضرور پڑهیے اور دهرتی کی محبت کی چاشنی کا ایک قطرہ آپ بهی چکھ لیں
————–
راٹا سر کی ریل سے لکها ہوا ایک ادبی خط
بهارومل امرانی سوٹہڑ

اردو ادب میں شاہکار حیثیٹ کے حامل عبداللہ حسین کے ناول اداس نسلیں کے عاشق پیارے شرجیل بلوچ
تمہیں یاد ہوگا وہ پچیس نومبر 2014 کی ہی رات تھی
ہم سب دوستوں نے مل کر شمال کی ہواؤں کی سرسراہٹ میں تهر کی ٹهنڈی پرسکون ریت پر تمہارا جنم دن منایا تها۔ قلم کی چاہ اور دهرتی کے درد کی دوستی نے یہ محسوس ہی نہ ہونے دیا کہ آپ جو ملک کے نامور صحافی، ہدایت کار، لکهاری اور عالمی نشریاتی اداروں کے وڈیو پروڈیوسر بهی ہیں اور ہم…تهر کی ریت میں جنم لینے والے صحرا کے باسی، شاعر، ماحولیاتی کارکن، صحافی اور شاگرد ٹھہرے۔ اپنائیت اور پیار کی رنگین تتلیاں قہقہوں کے گلوں پر بے حجاب ٹھہرتی تهیں
باوجود اس کے کہ قحط سالی اور بھوک نے تهر کی ریت کو بے حد متاثر کیا ہوا تها۔ باوجود اس کے کہ روایتوں کی ریت میں رنگینی موجود تهی، اس صورت میں آپ کے ساتھ کی اس یکجہتی نے ہمیں بهی محبت کے ریشمی رومال سے باندھ دیا۔
پیارے سائیں۔۔۔تم موسیقی اور مصوری سے بے پناہ پیار کرتے ہوئے ایک طاقت ور تخیلق سموئے ہوئے ہو۔ حال ہی میں آپ نے سندھ کے صوفی ازم پہ (کیہ جانا میں کون) ڈاکومنٹری بناکر عالمی انعام حاصل کیا ہے۔ تمہارے اعزاز میں منائے ہوئے اس جشن کی ساعتوں میں شامل راگی کریم فقیر، عارب فقیر لطیف سرکار، شیخ ایاز، استاد بخاری، سائینداد ساند، حسن درس کے لازوال کلام کے ساتھ لوک گیتوں کی امر دهن نے سرگم گهول کے تهر کی ترستی ہوئی ریت میں ایک علم، محبت اور روحانیت کے فلسفے کا پرچار اور راگوں کی دهن کا ردهم مچا کر نرم دلوں کی سرزمین پر ایک برسات سی برسائی ہے۔ اس منفرد محفل کی شروعات ایک کویتا سے ہوئی ہے جس کے ذریعے راقم الحروف آپکے پیدائشی دن پر آپ کو بطور اعزاز کچھ اس انداز میں پیش کرتا ہے

اپنی تمام خوشیاں

تمہیں دان کرتا ہوں
اور تمہارے جنم دن پر
سوچتا ہوں لمحے قید کرلیے جائیں
سورج روک دیا جائے
یا پهر تارے برسائے جائیں
تمہارے جنم دن پر
تمہارے سب ساتهی مہکتے ہیں
تمہیں خوش آمدید

شاعر کی اس مدهر سطروں کے بعد ہم نے تمہاری سالگرہ کا کیک کاٹا ہے ساتھ میں نوجوان شاعر شہاب نہڑی نے مور کے پروں سے بنا گلدستہ تمہیں پیش کیا ہے اور تم نے ان پروں پر اپنے لب رکھ دیے ہیں اور کہا ہے یہ تهر کے بچے ہوئے موروں کے پر ہیں اور مجهے اس وقت ننگر پار کر کے نرالے شاعر ناشاد سموں کی راٹی کهیت میں مرتے ہوئے موروں پر اک نظم آپڑوں موریوں مری گیو یاد آئی ہے اور ساتھ آنکهیں بهر آئی ہیں مگر خود کو سنبهالے کارروائی کو آگے بڑهاتے ہوئے تمہاری خدمتوں کو خراج دیتے ہوئے اس موقع پر تمام احباب نے گفتگو کی ہے مگر سندھ کے نوجوانوں میں سرکشی سے صحافت کی ذمہ دریاں نبھاتے ہوئے پیارے ریاض سہیل (جس کے طفیل ہم سب یہاں اکٹهے ہوئے) اور دهرتی دیول کی پروہت اور ماحولیاتی صحافی مہراج امر گرڑی گفتگو میں حسین لفظوں کا انتخاب اس طرح کیا ہے

مور کے پروں جیسے خوبصورت دوست
تمہارے پاس شاعرانہ دل اور صحافت کی آنکھ ہے۔ تم نے بطور آرٹسٹ بهی فن کے اصولوں پر بڑا اعلی کام کیا ہے اسی لیے تم اپنے دور کی آرٹسٹک دیوتاؤں کی تمام شکتیوں سے واقفیت رکهتے ہو یہ بهی تو جانتے ہو کہ ہر بڑا آرٹسٹ تضاد اور تکرار سے کیونکر پر ہے کیوں آخر کبهی ادبی ناانصافیوں کا ازالہ نہ ہوسکا ہے۔ مگر ہمارے ہاں ادبی بحث مباحثے ذات پسندی کی بهینٹ چڑھ گئے ہیں۔

میرے پیارے دوست ہم تهر کے لوگ اپنے مزاج میں بڑے ہی حساس ہوتے ہیں۔ زندگی کے سینکڑوں درد دکهوں کا بوجھ اٹهائے ہوئے زندہ رہتے ہیں۔ مگر تهوڑا سا دکھ ملنے پر رو دیتے ہیں۔ محبت کی چند بوندوں کی خاطر ایک عمر تیاگ دینے والے..تهر کے باسی معاشی اعتبار سے چاہے جس قدر کمزور ہوں مگر کبهی خودداری کا سر نیچا نہیں ہونے دیتے. ہماری یہ تهری زندگی جس سے شاعروں نے محبت کی ہے قحط کے دور میں کیکٹس کے پودے کی طرح بنجر بن جاتی ہے۔  یہ حیات مگر برسات کی چند بوندوں کے بعد ولیوں کے آستانوں کی طرح آب حیات بن کر مہکنے لگتی ہے۔

تم قحط کے دنوں میں تهر آئے تهے۔ تمہارے جنم دن کی محفل میں میں نے سوچا اپنی بات کی شروعات غالب کے اس شعر سے کیوں نہ کروں

لرزتا ہے مِرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر
میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر

پر تم نے امير خسرو کی ان سطروں سے آغاز کیا تها
اگر فردوس بر روئے زميں است
هميں است و هميں است و هميں است
(اگر اس دهرتی پر کوئی جنت ہے تو یہیں ہے،  یہیں ہے، یہیں ہے )
مجهے آج بهی تمہارے وہ الفاظ یاد ہیں تم جو خصوصی طور پہ تهر کی ریت پر اپنا پیدائشی دن منانے آئے تهے
تم نے کہا تها میں نے جنم تو کوئٹہ میں لیا ہے مگر اپنے وجود کو تهر کی ریت کے ذروں سے جوڑ رکها ہے۔ ایک تهر باہر ہے اور ایک تهر میرے اندر رہتا ہے۔ تهر کے قحط کا درد موسیقی کے ذریعے بهی عام کیا جاسکتا ہے۔ تهر کے راگیوں کی آواز میں صدیوں کا سوز سمایا ہوا ہے۔ تهر کے لوگ دکھ درد اور قحط زدہ حیات کے باوجود بڑے مہذب، وسیع القلب اور محبت رکھنے والے ہیں۔ اس مٹی پر ابهی محبتوں کا قحط نہیں پڑا۔

ان یادگار لمحات میں ریاض سہیل امر گرڑی، کهاٹاؤ جاني، سنجهہ سادهواني، شهاب نهڙي، ڊاکٽر هوتچند ، ڊاکٽر جيوت اور دوسرے باذوق نوجوان ساتهی تمہارے بانسری کے سروں میں خود اپنا آپ جیسے کهو بیٹهے تھے
مگر مجهے اس دن غروب آفتاب تلک مندروں میں دیے جلاتے ہوئے تمہاری بانسری یاد آئی تهی۔ کیا ہی تم نے بانسری بجائی تهی۔  اور تب ہی کوئی ایسا لمحہ بهی تو آیا تها جب تمہاری آنکهوں میں نمی کے قطرے جهلکنے لگے تهے۔ میں نے کبهی بهی بانسری کے سروں کے ساتھ اشکوں کا یہ سریلا سرگم نہ دیکها تها۔

صبا بہ لطف بگو آں غزالِ رعنا را
کہ سر بہ کوہ و بیاباں تو دادۂ ما را
(اے صبا! نرمی سے اُس نازنیں ہرن سے کہہ دے
تو نے ہی ہمارا سر، کوہ و بیابان کے حوالے کر دیا ہے)

لیکن تمہارے من کے اندر کیا طوفان تها۔ کوئی یاد دبے پاؤں چلی آئی تهی اور مجهے تو وہ سر میٹهی میراں کی طرح کے لگے تهے
پگ پگ گهنگهرو باندھ کے آئی
ميران ناچي ري …… میراں بائی ریگستان کی بڑی نامور شاعرہ ہے، آزادی کی تحریک کی متوالی میراں میراتا کی والی رتن سنگھ راٹهوڑ کی بیٹی تهی۔ 1504ع میں جنم لینے والی میراں کے بارے میں کہا جاتا ہے ایک دفعہ کا ذکر ہے جب راجپوتوں کے محل کے آگے ایک بارات گزر رہی تهی جسے دیکھ کر شہزادی میراں نے ماہ رانی سے دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ مہارانی بتانے لگیں کہ یہ بارات ہے۔ جس میں ایک دولہا ہوتا ہے جو اپنے ساتھ دلہن کو بیاہ کر لے جاتا ہے۔ معصوم ميراں کا دوسرا سوال تها ماں سے کہ اماں میرا دولہا کہاں ہے؟ مهاراني نے چهیڑتے ہوئے بے ساختہ محل مندر کے اندر رکهی کرشن کی مورتی کی طرف اشارہ کردیا۔ اس کے بعد میراں اپنے من مندر میں کرشن کی مورت سجا بیٹهی اور زندگی کرشن کے پیار کی پوجا کرتے ہوئے وار دی..میراں کے ماں باپ نے باوجود اس کی عدم رضامندی کے اس کی شادی میواڑ کے کنور سے کرادی۔ مگر کرشن کی محبت کا بت سجائے میراں کا دل اسی کی خاطر تڑپتا رہا، جس دل میں ایک سانولا سجا بیٹھی تھی
اور تب ہی میراں نے کہا
جو ميں ايسا جانتي ري،

پريت کرئي دکھ هووے

نگر ڈهنڈورا پیٹتی ری پريت نہ کریو کوئی

کہتے ہیں رامائن میں سندھ کا تعارف کراتے ہوئے یہ ایک سو پہاڑی چوٹیوں والی دهرتی ہے۔ جبکہ میرے علم میں تو بس تهر کے پہاڑ کی ایک ہی چوٹی کارونجهر ہی ہے۔ کبهی تم نے ننگر پارکر میں رات گزار کر کارونجهر کی چوٹی سے چاند کو دیکها ہے؟ چودهویں کی رات نکلنے کے بعد سنسکرت کے شاعر دهرم کرتی کا گیت پردہ تصور پر ابهر آیا ہے ؛

راستہ خطروں سے بهرا ہُوا ہے
پر آج چاند کی رات ہے
اگر میرے گهر والوں کو پتہ چل گیا تو
لوگ بات کا بتنگڑ ہی بنا دیں گے
مگر آج رات میں اپنے پریتم کو کیسے مایوس کروں

دوچار قدم چل کر وہ لوٹ آتی ہے اور یوں کارونجهر کی چوٹی کے پاس تهر میں پیار کا پہلا شہر آباد ہوا تها۔ جہاں سڈونت اور سارنگا کے پریم کا قصہ پروان چڑها۔ کہتے ہیں۔ اب بهی جب ساون کی بوندیں ننگر پارکر کی روشوں پر برستی ہیں تو کارونجهر کے مور آہ و بکا کرکے سڈونت اور سارنگا کو پکارتے ہیں۔

میں نے اب کی بارشوں میں پارکت کے میدانوں میں گهومتے جب کارونجهر کے جهرنوں سے اپنی پریت کے پیر دهوئے تهے
تب تمہیں کیا بتاؤں
میرے من کی کیا کیفیت تهی
یہاں تک کہ نہ وہ سارنگا تهی، نہ میں سڈونت
مگر تڑپ بہت گہری تهی۔ کارونجهر پہاڑ ہے یا کردار؟
تمہارے ذہن میں اس سوال کے ابهرنے سے پہلے ہی میں تمہیں بتانا چاہوں گا
کارونجهر تهر باسیوں کے جینے کا اک سہارا ہے
معتبر ساتهی پہاڑ کا سینہ چهیت کی چهوت پر کس طرح چهلکتا ہے
یہ کہانی تو آندری بیلی کے ناول سینٹ پیٹرس برگ کی کتها سے زیادہ درد انگیز ہے
عبیداللہ علیم ایک شعر کی صورت کہتا ہے ؛

کچھ عشق تها، کچھ مجبوری تھی
سو ميں نے جيون وار ديا

تم ثقافتی مجبوری سے کہیں زیادہ اپنے عشق کے بل بوتے پر تهر کے ریگستان کی کہانی کو اک نیا رخ دینے آئے ہو۔ تمہاری دلی تمنا ہے کہ تهر کا کیس میڈیا کے وسیلے اس طرح پیش کیا جائے جو تهر کے آئندہ کی فکر ہر ذہن کے اندر ابهر آئے۔ اس وقت جب تهر میں قحط ہے
.قحط کے بعد بکهرے ہوئے تهر باسی دوبارہ اپنے مکانوں میں آ بستے ہیں مگر پیروں تلے کهسکتی ہوئی زمین دوبارہ نہیں مل سکتی۔

حب الوطني کے عظيم کردار ماروی کے آبا و اجداد کو سنہرے سپنوں کی بجائے دهرتی کے تحفظ کی تسلی چاہیے۔ اقتداری سیاست کرتی ہوئی پارٹیوں کے بیچ کے طبقے کے اکثر سرپرستوں کے اندر لاطبقاتی رجحان آج تک نہیں دیکها ہے۔ کیا اب ان کے وجود عوام کے سدهار کے لیے کچھ کارگر ثابت ہوسکتے ہیں؟ ان کے دلوں میں ابهی تک اپنے طبقے کی نفرت نے جنم نہیں لیا تو وہ مزدور اور هاری کسان سے کس طرح محبت کر پائیں گے
کاش ان سیاسی پارٹیوں کے اندر بهونچال مچانے کو کبهی کوئی ایسا جوگی آ نکلے جو بهٹائی سرکار کی ان سطروں کا مان رکهنے والا ہو۔۔۔

جوڳي جاڳائي، ماري ودهو ماري
جوگی جگایا ہے
ماردیا ہے ماردیا


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481