اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ضمنی انتخابات،نتائج موصول ہونا شروع،لاہور میں ن لیگ اور اتحادیوں کا کلین سویپ

ضمنی انتخابات،نتائج موصول ہونا شروع،لاہور میں ن لیگ اور اتحادیوں کا کلین سویپ

 

ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے 21 حلقوں پر پولنگ ہوئی، جبکہ ووٹوں کی گنتی کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول ہونا شروع ہوگئے، لاہور میں ن لیگ اور اتحادیوں نے کلین سویپ کرلیا، قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر ن لیگ اور اتحادی آئی پی پی کے امیدوار کامیاب ہوگئے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کی 5 اور صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں پر پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔

قومی اسمبلی نشستوں کیلئے پنجاب کے 2، خیبر پختونخوا کے 2 اور سندھ کے ایک حلقے میں ضمنی انتخابات ہوئے۔

دوسری جانب صوبائی اسمبلیوں کی جن نشستوں پر ضمنی الیکشن ہوئے ان میں پنجاب اسمبلی کی 12، خیبرپختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کی 2، 2 نشستیں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پی بی 50 (قلعہ عبداللہ) کے تمام حلقوں میں بھی اسی روز دوبارہ پولنگ ہوئی، این اے 8 باجوڑ اور پی کے 22 باجوڑ میں انتخابات امیدوار ریحان زیب خان کے قتل کے باعث ملتوی کر دیئے گئے۔

لاہور سمیت ضمنی الیکشن والے حلقوں میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر معطل رہی۔

لاہور، شیخوپورہ، قصور، ڈی جی خان، تلہ گنگ، گجرات میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند رہی، علی پور، ظفر وال، بھکر، چکوال، صادق آباد، علی پورچٹھہ، کوٹ چٹھہ میں بھی موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔

الیکشن کمیشن کی درخواست پر وفاقی حکومت نے ضمنی انتخابات کے موقع پر سول آرمڈ فورسز اور فوج تعینات کرنے کی منظوری دی تھی، رپورٹس کے مطابق پولیس سکیورٹی پہلے، سول آرمڈ فورسز دوسرے جبکہ پاک فوج کے اہلکار تیسرے حصار میں فرائض انجام دیتے رہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے حکم پر ضمنی انتخابات 2024ء کیلئے الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا تھا، سینٹر میں عوام کو الیکشن کے حوالے سے رابطہ کرنے اور شکایات درج کرانے کی سہولت دی گئی تھی۔

این اے 8 باجوڑ میں مسلم لیگ ن کے شہاب الدین خان، سنی اتحاد کونسل کے گل ظفر خان، پیپلز پارٹی کے سید اخونزادہ چٹان اور آزاد امیدوار مبارک زیب ایک دوسرے کے مدمقابل ہوئے، آزاد امیدوار مبارک زیب 3732 ووٹ لیکر آگے ہیں۔

این اے 44 ڈیرہ اسماعیل خان میں سنی اتحاد کونسل کے فیصل امین گنڈا پور اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے رشید خان کنڈی کے درمیان مقابلہ ہوا، غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق سنی اتحاد کونسل کے فیصل امین گنڈاپور 56995 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین 9533 ووٹ لے سکے۔

این اے 119 لاہور 3 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار علی پرویز ملک اور سنی اتحاد کونسل کے شہزاد فاروق میں مقابلہ ہوا، علی پرویز ملک 13499 ووٹ لیکر آگے ہیں۔

این اے 132 قصور 2 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک رشید احمد اور سنی اتحاد کونسل کے سردار محمد حسین ڈوگر ایک دوسرے کے مدمقابل ہوئے، ملک رشید احمد 57213 ووٹ لیکر آگے ہیں۔

این اے 196 قمبر شہداد کوٹ 1 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار خورشید احمد جونیجو اور تحریک لبیک کے محمد علی نے الیکشن لڑا، غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے خورشید احمد جونیجو 56790 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، تحریک لبیک کے محمد علی 2896 ووٹ لے سکے۔

پی پی22 چکوال، تلہ گنگ میں مسلم لیگ ن کے امیدوار فلک شیر اعوان جبکہ سنی اتحاد کونسل کے محمد نثار احمد میں مقابلہ ہوا، فلک شیر اعوان 21912 ووٹ لیکر آگے ہیں۔

پی پی 32 گجرات 6 سے مسلم لیگ ق کے امیدوار موسیٰ الہیٰ جبکہ سنی اتحاد کونسل کے پرویز الہٰی میں مقابلہ ہوا، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ق کے امیدوار موسیٰ الہیٰ 63536 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، ان کے مدمقابل سنی اتحاد کونسل کے پرویز الہیٰ 18327 ووٹ حاصل کر سکے۔

پی پی 36 علی پور چٹھہ سے مسلم لیگ ن کے عدنان افضل چٹھہ اور سنی اتحاد کونسل کے محمد فیاض چٹھہ میں جوڑ پڑا، ن لیگ کے عدنان افضل چٹھہ 15202 ووٹ لیکر آگے ہیں۔

پی پی 54 نارووال 1 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار احمد اقبال چودھری اور سنی اتحاد کونسل کے امیدوار اویس قاسم میں مقابلہ ہوا، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدوار احمد اقبال چودھری 60351 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، ان کے مدمقابل سنی اتحاد کونسل کے اویس قاسم 46686 ووٹ لیکر ہار گئے۔

پی پی 93 بھکر 5 سے ن لیگ کے سعید اکبر خان اور سنی اتحاد کونسل کے سکندر احمد خان، آزاد امیدوار افضل خان میں جوڑ پڑا، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق سعید اکبر خان 63021 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، ان کے مدمقابل آزاد امیدوار افضل خان 59124 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 139 شیخوپورہ 4 سے مسلم لیگ ن کے رانا افضال حسین کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار اعجاز حسین سے ہوا، غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے رانا افضال حسین 48347 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، سنی اتحاد کونسل کے اعجاز حسین سنی اتحاد کونسل کے اعجاز حسین 31262 ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہے۔

پی پی 158 لاہور 14 سے ن لیگ کے امیدوار چودھری محمد نواز کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے مونس الہٰی سے ہوا، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے امیدوار چودھری محمد نواز 40165 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے ان کے مدمقابل سنی اتحاد کونسل کے مونس الہٰی 28018 لیکر ہار گئے۔

پی پی 164 لاہور 20 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار راشد منہاس اور سنی اتحاد کونسل کے محمد یوسف میں جوڑ پڑا، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق رانا راشد منہاس 31499 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، سنی اتحاد کونسل کے امیدوار محمد یوسف 25781 ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہے۔

پی پی 149 لاہور 5 سے آئی پی پی کے امیدوار اور مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ محمد شعیب صدیقی کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار ذیشان رشید سے ہوا، محمد شعیب صدیقی 25158 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، سنی اتحاد کونسل کے امیدوار حافظ ذیشان رشید 19683 ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہے۔

پی پی 290 ڈیرہ غازی خان 5 سے ن لیگ کے امیدوار علی محمد لغاری، سنی اتحاد کونسل کے سردار محمد محی الدین کھوسہ اور پیپلز پارٹی کے منیر احمد جلبانی بلوچ میں مقابلہ ہوا، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے امیدوار علی محمد خان لغاری 66413 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، سنی اتحاد کونسل کے محمد محی الدین کھوسہ 19322 ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہے۔

پی کے 91 کوہاٹ 2 میں سنی اتحاد کونسل کے داؤد شاہ اور جماعت اسلامی کی صفیہ بانو اور آزاد امیدوار امتیار شاہد میں مقابلہ ہوا، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق سنی اتحاد کونسل کے داؤد شاہ 22139 ووٹ لیکر آگے کامیاب ہوگئ، ان کے مدمقابل آزاد امیدوار امتیاز شاہد قریشی 11 ہزار 722 ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہے۔

پی بی 20 خضدار 3 سے پیپلزپارٹی کے امیدوار ثنا اللہ، بی این پی کے میر جہانزیب مینگل اور آزاد امیدوار میر شفیق الرحمان مینگل میں جوڑ پڑا، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق بی این پی کے میر جہانزیب مینگل 30455 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے، آزاد امیدوار میر شفیق الرحمان مینگل 14311 ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہے۔

پی بی 50 قلعہ عبداللہ سے جے یو آئی کے حاجی محمد نواز کاکڑ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے میر وائس خان اچکزئی اور عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خان میں مقابلہ ہوا، میر وائس خان اچکزئی 21536 ووٹ لیکر آگے ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481