از ہمہ کس کنارہ گیر صحبتِ آشنا طلب
ہم ز خدا خودی طلب ہم ز خودی خدا طلب
سب سے کنارہ کش ہو جا اور کسی ایسے شخص کی صحبت اختیار کر جو آشنائے راز ہو اللہ تعالے سے اپنی خودی کا استحکام مانگ اور استحکام خودی کے ذریعے اللہ تعالے تک پہنچ۔
از خلش کرشمۂ کار نمی شوَد تمام
عقل و دل و نگاہ را جلوہ جدا جدا طلب
محبوب کی ایک ادا سے جو خلش پیدا ہوتی ہے وہ پوری تسلی نہیں کر سکتی
عقل، دل اور نگاہ سب کے لیے الگ الگ جلوے طلب کر۔
عشق بسر کشیدن است شیشۂ کائنات را
جام جہاں نما مجو دست جہاں گشا طلب
عشق یہ ہے کہ ساری صراحئ کائنات ایک دم ہی پی جائے
جام جہاں نما کی کاوش نہ رکھ بلکہ وہ قوّت مانگ جو جہان کے معاملات درست کر دے۔
راہرواں برہنہ پا راہ تمام خار زار
تا بہ مقامِ خود رسی راحلہ از رضا طلب
راستے میں ہر طرف کانٹے بکھرے ہیں، مسافر ننگے پاؤں ہیں
اور منزل تک پہنچنا ہے تو راضی بہ رضا کی سواری طلب کر۔
چوں بہ کمال می رسد فقر دلیلِ خسروی است
مسند کیقباد را در تۂ بوریا طلب
فقر کمال کو پہنچتا ہے تو پادشاہت کا ذریعہ بن جاتا ہے
کیقباد کا تخت (حقیقی حکومت) فقرا کے آستانوں میں تلاش کر۔
پیشِ نگر کہ زندگی راہ بعالمے برد
از سر آنچہ بود و رفت در گذر انتہا طلب
سامنے دیکھ ، زندگی ایک نئے جہان کی طرف لے جا رہی ہے
جو تھا اور جو ہو چکا ہے اسے چھوڑ ، صرف اپنے سفر کی انتہا طلب کر۔
ضربتِ روزگار اگر نالہ چو نے دہد تو را
بادۂ من ز کف بنہ چارہ ز مومیا طلب
اگر تو زمانے کی مشکلات کی تاب نہ لا کر بانسری کی طرح فریاد کرنے لگا ہے
تو پھر میرا جام شراب ہاتھ سے رکھ دے اور اپنے زخموں کا مرھم تلاش کر۔
