اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

تختی کے ساتھ دل کیوں جڑا ہوتا تھا۔۔۔؟؟

61ebf4ea fe1a 41d1 88e4 d5c6090bc638

پڑھن سکول نوں جاندے ہاسے
ہیٹھ پیپل دے باہندے ہاسے
تختی ، بستے ، قلم ، دواتاں بھلدیاں نئیں

1990 سے 2010 تک کی جنریشن نے سکول لائف کی جو بہاریں دیکھی اور محسوس کی ہیں شاید ہی کسی اور نے ان کو محسوس کیا ہو ۔ یہ واحد جنریشن ہے جس نے استاتذہ اکرام کا حد سے زیادہ پیار دیکھا ہے اور انتہا کی مار بھی برداشت کی ہے۔۔ کلاس فیلوز کے ساتھ کھلا مذاق اور لڑائی کے تھوڑی دیر بعد وہی اپنائیت محسوس کی ہے۔
آج کی جنریشن کبھی یہ نہیں جان سکے گی کہ تختی کے ساتھ دل کیوں جڑا ہوتا تھا۔۔۔؟؟ سیاہی کی دوات کے ساتھ اتنا لگاؤ کیوں تھا۔۔۔؟؟ اپنا قلم کیوں اتنا پیارا لگتا تھا ۔۔۔؟؟
آنے والی نسلیں اس نعمت سے محروم رہیں گی کہ جب استاد قلم بنا کر دیتے تھے تو اپنی خوش بختی پہ کتنا غرور آتا تھا ۔
آج کے بچے اس امیری سے محروم ہیں کہ جب ماں کسی بچے ہوئے کپڑے سے بستہ بناتی تھی تو اسے کاندھے پہ لٹکاتے ہی انسان ہواؤں میں اڑنے لگتا تھا ۔
برگر ، پیپسی اور بریانی کھانے والے برف کے گولے، مرنڈا ، گچک اور ٹھنڈی ہوا والی گولیاں ( ہوسٹ) کے ذائقے سے کبھی آشنا نہیں ہو سکیں گے ????

نجانے کتنی حسین یادیں وابستہ ہیں ۔۔۔ وہ بہاریں شاید اڑن کھٹولے میں کہیں دور چلی گئی ہیں__!!


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481