زندہ و بے جان چہ راز است ایں نگر
با تو گویم معنئ رنگیں نگر
زندہ اور بے جان (مردہ) یہ کیا راز ہے؟ یہ دیکھ
میں تمہیں اس کے مزیدار معنی بتاتا ہوں۔
مُردن و ہم زیستن اے نکتہ رس
ایں ہمہ از اعتبارات است و بس
اے نکتہ رس! موت اور زندگی سب اعتباری (اضافی) ہیں۔
ماہیاں را کوہ و صحرا بے وجود
بہرِ مرغاں قعرِ دریا بے وجود
مچھلیوں کے لیے پہاڑ اور صحرا کا کوئی وجود نہیں
پرندوں کے لیے دریا کی تہ موجود نہیں۔
مردِ کرّ سوزِ نوا را مُردہ ئی
لذتِ صوت و صدا را مردہ ئی
بہرہ شخص آواز کے سوز کی نسبت سے مردہ ہے کیونکہ وہ نغمہ اور آواز کی لذّت سے محروم ہے۔
پیشِ چنگے مست و مسرور است کور
پیشِ رنگے زندہ در گور است کور
ساز کے سامنے اندھا شاداں و فرحاں ہے
مگر رنگ کے سا منے اندھا زندہ در گور ہے۔
روح با حق زندہ و پایندہ ایست
ورنہ ایں را مُردہ آں را زندہ ایست
روح، اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہی سے زندہ و پائندہ ہے
اگر یہ تعلق نہ رہے تو پھر وہی ایک اعتبار سے زندہ ہے اور دوسرے اعتبار سے مردہ ہے۔
آنکہ حئ لایموت آمد حق است
زیستن باحق حیاتِ مطلق است
صرف اللہ تعالی کی ذات ہی کی زندگی ایسی زندگی ہے ، جسے موت نہیں
اس لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرنے ہی سے حیاتِ جاوداں حاصل ہوتی ہے۔
ہر کہ بے حق زیست جُز مردار نیست
گرچہ کس در ماتمِ او زار نیست
جو اللہ تعالیٰ سے تعلق منقطع کر لیتا ہے، وہ مردہ ہے
اگرچہ کوئی اس کا ماتم گسار نہیں
از نگاہش دیدنی ہا در حجاب
قلبِ او بے ذوق و شوقِ انقلاب
اس کی نگاہ سے قابل دید چیزیں پنہاں رہتی ہیں
اس کا قلب ذوق و شوق (عشق) کے انقلاب سے خالی ہوتا ہے۔
سوزِ مشتاقی بہ کردارش کجا
نورِ آفاقی بہ گفتارش کجا
اس کے کردار میں (سوزعشق) کہاں؟
اور اس کی گفتار میں خدائی نور کہاں؟
