اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کھانے میں ہارپک دیا گیا۔بشری بی بی کا الزام ۔ عمران کی تائید ۔تحقیقات کا مطالبہ

کھانے میں ہارپک دیا گیا۔بشری بی بی کا الزام ۔ عمران کی تائید ۔تحقیقات کا مطالبہ

تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے الزام لگایا ہے کہ ان کے کھانے میں ٹوائلٹ کلینر ہارپک کے تین قطرے ملائے گئے ہیں جبکہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ کے کھانے میں زہر ملایا گیا ہے۔۔اور سلو پوائزننگ سے ان کی جلد اور زبان پر نشانات پڑ گئے ہیں۔
یہ الزام پیر کے روز 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عدالت میں پیشی کے موقع پر لگایا گیا ۔واضح رہے کہ بشری بی بی اس سے پہلے یہ الزام عائد کر چکی ہیں کہ انہیں شہد میں کوئی مشکوک چیز ملا کر کھلائی گئی ہے۔
بشری بی بی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں بنی گالہ میں عزت و احترام کے ساتھ رکھا گیا ہے پہلے کھڑکی نہیں کھولی جاتی تھی تاہم اب کھولی جا رہی ہے۔
عمران خان نے احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا کو مخاطب کر کے کہا کہ ان کی اہلیہ کو بنی گالہ میں زہر دینے کی کوشش کی گئی ہے ان کا مکمل میڈیکل چیک اپ کرانے کا حکم دیا جائے اور یہ چیک اپ شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹر عاصم سے کرایا جائے۔
عمران خان نے کہا کہ ان کی اہلیہ کا طبی معائنہ ایک جونیئر ڈاکٹر سے کرایا گیا جس پر ہمیں اعتبار نہیں ہے۔ زہر دیے جانے کے معاملے کی انکوائری ہونی چاہیے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کون ہیں، اگر بشری بی بی کو کچھ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ دار موجودہ اسٹیبلشمنٹ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ بنی گالہ سے اڈیالہ تک سب چیزیں کنٹرول کر رہے ہیں۔
اس موقع پر عدالت نے بانی پی ٹی ائی کو بشریٰ بی بی کے طبی معائنے کے لیے تفصیلی درخواست دینے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں کمرہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اسلام اباد ہائی کورٹ کے ججز نے جو خط لکھا وہ سب کو معلوم ہے جب سے رجیم چینج ہوئی ہے یہ بات چل رہی تھی ۔ججز پیغام دیتے ہیں کہ وہ بے بس ہیں۔ پولیس کا بھی یہی معاملہ ہے اسی طرح جیل کو بھی آئی ایس آئی کنٹرول کر رہی ہے۔عمران خان کا دعوی تھا کہ احتساب عدالت کے سابق جج محمد بشیر اسی طرح کے دباؤ کے باعث پانچ بار جیل کے اسپتال جا چکے تھے۔
عدت کے بغیر نکاح کیس کا فیصلہ سننے والے جج قدرت اللہ نے بتایا تھا کہ فیصلہ سنانے تک میں اپنے بیٹے کا ولیمہ نہیں کر سکتا ،اسی طرح سائفر کیس میں میرا 342 کا بیان ہو رہا تھا ۔جج صاحب 10 منٹ کے لیے باہر گئے اور واپس آ کر فیصلہ سنا دیا۔ تمام ججز باہر سے کنٹرول ہو رہے تھے۔

ایک بار پھر لندن پلان کا الزام۔
عمران خان نے ایک بار پھر لندن پلان کا ذکر چھیڑتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر لندن پلان پر عمل درآمد کا مرکزی کردار ہے، میں نے سابق صدر عارف علوی کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ مجھے لندن پلان کا علم ہے ۔نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن نے مل کر لندن پلان پر عمل کیا۔دھاندلی کا مقصد ہماری جماعت کو ختم کرنا تھا اقتدار میں بیٹھے لوگ ایجنسیوں کے بغیر ایک قدم نہیں اٹھا سکتے، صرف چار حلقے بھی کھول دیے جائیں تو حکومت گر جائے گی۔عمران خان نے جسٹس تصدق جیلانی کی دستبرداری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ججز کا خط لکھنا سنجیدہ معاملہ ہے اس پر فل کورٹ کو سماعت کرنی چاہیے تھی سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ بننا کمیشن بننے سے بہرحال بہتر ہے۔

کمشنر راولپنڈی کہاں ہیں۔عمران خان کا سوال
میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہو رہی ہے ،مجھے بتایا جائے کہ سابق کمشنر راولپنڈی کہاں ہیں جنہوں نے انکشافات کیے تھے۔ ساری دنیا میں وسل بلوئر کو تحفظ ملتا ہے مگر کمشنر کو غائب کر دیا گیا۔ کمشنر راولپنڈی اور فارم 45 ایک ہی بات کی نشاندہی کر رہے ہیں اس پر تحقیقات کیوں نہیں کی گئی۔

کچھ بھی کر لیں سرمایہ کاری نہیں آئے گی۔
بانی پی ٹی ائی کا کہنا تھا کہ اس وقت وزیر خزانہ اور ایس آئی ایف سی جو کچھ مرضی کر لیں ملک میں سرمایہ کاری نہیں آئے گی کیونکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہو گیا ہے۔آواز اٹھانے والے ججز کو سیلوٹ کرتا ہوں وہ ملک بچا لیں۔ ملک میں معیشت سست روی کا شکار ہے اور ملک تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
ایک سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ شوکت عزیز صدیقی کا کیس سپریم جوڈیشل کونسل میں تھا اس لیے ہم خاموش رہے۔ہمارا موقف یہ ہے کہ جنرل فیض ہو یا کوئی اور تحقیقات ہونی چاہیے میں نے جنرل فیض کی تقرری نہیں کی تھی۔

بشریٰ بی بی کے سنگین الزامات۔صحافیوں سے جھڑپ ہو گئی

عدالت میں پیشی کے دوران بشریٰ بی بی کی صحافیوں سے بھی جھڑپ ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پیشی پر میرے بیان کو درست انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔تاہم عمران خان نے یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع کر دیا کہ بشرہ بی بی کا میڈیا سے زیادہ انٹریکشن نہیں ہوتا اس لیے انہیں چیزوں کا علم نہیں ہے۔
بشریٰ بی بی نے الزام لگایا کہ شب معراج پر میرے کھانے میں ہار پک کے تین قطرے ملائے گئے۔ بعد میں تحقیق سے پتہ چلا کہ اس سے ایک ماہ بعد طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے مجھے آنکھوں میں سوجن ہو جاتی ہے اور سینے اور معدے میں بھی تکلیف ہے پانی بھی کڑوا لگتا ہے ان کا کہنا تھا کہ پہلے شاید میں بھی کچھ ملایا گیا تھا اور اب کھانے میں ہارپک کے قطرے ملائے گئے ہیں۔ یہ بات مجھے کسی نے بتائی تھی لیکن اس کا نام نہیں بتاؤں گی مجھے بنی گالہ میں باعزت طریقے سے رکھا گیا ہے اب کچھ دیر کے لیے کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پنجابی کی کہاوت ہے کہ بندہ بندے نوں کھا جاندا ہے ،اب جج اور اداروں کو بندے کھاتے ہوئے دیکھا تو اس کہاوت کی سمجھ آگئی ہے۔
بشریٰ بی بی کا مزید کہنا تھا کہ مجھ پر امریکی ایجنٹ ہونے سے متعلق پارٹی میں باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481