اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کچن اینڈ ہوم گارڈننگ کے لیے راکھ۔۔۔(سوہاغا)۔۔۔ Wood ash کا استعمال

44f7fb3c 4e30 491a a227 d2c5d1566707

۔اکثر دیہات اور کچھ شہری علاقوں اور مضافات میں کھانا وغیرہ پکانے کے لیے لکڑی اور اوپلوں کو جلایا جاتا ہے۔۔۔ اور معلومات نہ ہونے کی وجہ سے اس سارے مرحلے میں حاصل ہونے والی راکھ کو ضائع کر دیا جاتا ہے، جو کہ گارڈننگ کے لیے ایک بڑی مفید چیز ہے۔

آئیے کچھ فوائد جانتے ہیں۔

1۔ مٹی کے پی ایچ لیول کو بہت جلدی بہتر کرتی ہے۔
(اچھی مٹی کا پی ایچ لیول 6 سے 7 کے درمیان ہوتا ہے، لیکن اگر 7 سے زیادہ پی ایچ ہو تو اس مٹی میں نمکیات زیادہ ہوتے ہیں اور اگر پی ایچ لیول 6 سے کم ہو تو مٹی تیزابی اثر رکھتی ہے)
لکڑی کی راکھ فطرتی طور پر الکلائن ہوتی ہے، جن پودوں کی مٹی میں تیزابیت زیادہ ہو جائے تو اس میں تھوڑی سی راکھ ملا کر تیزابیت کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ مٹی میں پی ایچ لیول کو بڑھا دیتی ہے۔۔۔ لیکن ہمیشہ اسے چھان کر استعمال کریں۔

2۔ یہ بہت جلد پانی اور مٹی میں حل پذیر ہو جاتی ہے اور فوراً نتائج دیتی ہے۔

3۔ اس میں کیلشیم، ایلومینم، سوڈیم، میگنیشیم، فاسفورس، بوران، فاسفیٹ، کاپر، آئرن،میگنیز اور پوٹاشیم جیسے غذائی اجزاء کافی مقدار میں ہوتے ہیں اس لیے پھلدار پودوں کے لیے یہ ایک بہترین ٹانک ہے۔

4۔ یہ لان کی گھاس کو بڑھانے میں بڑی مددگار ہے۔

5۔ گھاس پر راکھ چھڑکنے سے پہلے یا بعد میں پانی ضرور دیں۔

6۔ اس راکھ کو کمپوسٹ میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔

7۔ ایک لیٹر پانی میں 10 چمچ راکھ گھول کر 4،5 دنوں کے لیے رکھ دیں اور پھر اچھی طرح مکس کر کے یہ wood ash tea پھلدار اور پھولدار پودوں کی جڑوں میں ڈال دیں۔ ان شاءاللہ بہت فائدہ ہوگا۔

8۔ خشک راکھ جڑوں کے پاس مت ڈالیں۔

9۔ مہینے میں صرف ایک بار راکھ کا استعمال کافی ہے لیکن پھر بھی پہلے کسی ماہر سے مشورہ کر لینا چاہیے۔

10۔ گملوں یا کیاریوں میں فنگس یا کائی لگ جائے تو خشک راکھ ڈالیں۔

11۔ سنیل اینڈ سلگ snails ans slugs سے چھٹکارا پانے کے لیے یہ ایک سستا میٹریل ہے۔ سلگ کی بیرونی جلد چونکہ چکنی ہوتی ہے، اس لیے وہ راکھ کی وجہ سے گملے میں نہیں چڑھ پائیں گی، بلکہ سلگز کے جسم کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور وہ ایسی جگہوں پر جانے سے کتراتی ہیں جہاں راکھ کی تہہ ہو۔ بلکہ اس سے چیونٹیاں بھی بھاگ سکتی ہیں۔

12۔ وڈ ایش اب نہیں بلکہ اٹھارویں صدی سے پہلے سے پودوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔۔۔ گاؤں میں رہنے والوں کو پتا ہوگا کہ لہسن کی بڑھوتری اور بیل دار پودوں کی لال مکھی کے تدارک کے لیے ہمارے بزرگ اس میں سواہ ڈالتے اور چھڑکتے تھے۔

13۔ ایفڈز اور دیگر چپچپے کیڑوں کے اوپر راکھ کی تہہ جما دیں تو ان سے بھی نجات ممکن ہے۔

14۔ ان پودوں کے لیے راکھ زیادہ فائدے مند ثابت ہوتی ہے۔
پیاز، لہسن، پالک، ساگ، کیل، لیک، چقندر، آم، بینز، لیونڈر، لِلی، گلاب، ٹماٹر وغیرہ۔

15۔ اب جب بھی لکڑیاں یا اوپلے جلائیں، اور بار بی کیو کریں تو ان کی راکھ سنبھال کر رکھیں۔۔۔ کیونکہ یہ ایک سستی اور مفید نامیاتی کھاد ہے۔

جزائے خیر کی دعائیں۔۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481