اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ججز کےخط پر ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا اعلان

281636593357888 1

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر حکومت نے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے تاہم وزیر قانون اعظم تارڑ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یہ معاملہ کل وفاقی کابینہ کے سامنے رکھیں گے۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ جمعرات کو وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ان کے چیمبر میں ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل بھی ان کے ہمراہ تھے ۔چیف جسٹس سے ان کے چیمبر میں ڈیڑھ گھنٹے طویل ملاقات کی گئی ۔

اسی دوران ایک اور بڑی پیشرفت یہ سامنے آئی کہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس ایک بار پھر چار بجے طلب کر لیا گیا۔
اٹارنی جنرل کے ہمراہ اسلام اباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ججز کے خط کے معاملے پر وزیراعظم نے مصروفیات کے باوجود چیف جسٹس سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ یہ ملاقات ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا ۔حکومت کا فرض ہے کہ اس معاملے کی چھان بین ہونی چاہیے لہذا یہ معاملہ وزیراعظم کل کابینہ کے سامنے رکھیں گے۔ کمیشن کا قیام کابینہ کا اختیار ہے۔

کل سپریم کورٹ میں وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات طے

 سپریم کورٹ میں وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات

 

وزیر قانون نے کہا کہ غیر جانبدار ریٹائرڈ ججز کی سربراہی میں انکوائری کرائی جائے گی۔ ملک میں نظام موجود ہے۔ قانون کے تحت کارروائی ہوگی۔ سب سے پہلے خط کے حوالے سے چھان بین کی ضرورت ہے۔ دو سے چار روز میں کمیشن بنا کر اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔
وزیر قانون کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک رکنی کمیشن بنایا جائے۔ ادارہ جاتی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر خط کے مندرجات درست ہیں تو ان کا ذکر بھی ٹی او آرز میں کیا جائے گا۔

اس سوال پر کہ کیا ججز کی جانب سے خط لکھنے کا اقدام مس کنڈکٹ قرار دیا جا سکتا ہے؟ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے، تاہم یہ معاملہ عدلیہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ بطور وکیل مجھے خط کی ٹائمنگ پر تکلیف ہے۔جب واقعات رونما ہوئے اسی وقت ایکشن لیا جاتا تو زیادہ مناسب ہوتا۔

 

 Commission headed by a retired judge on the letter of the judges, ججز کے خط پر انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481