اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پٹھانے خان پٹھانے خان کیسے بنے؟

e367a7c0 775b 4821 bcc2 37f78edebb8c

‏پٹھانے خان کے باپ نے جب دوسری شادی کی تو ماں واپس میکے آ گئی۔ اب ماں تندور پر روٹیاں لگاتی اور پٹھانے خان سارا دن لکڑیاں چنتا۔ یہی گزر بسر کا واحد ذریعہ تھا۔ دکھا ہوا دل بابا غلام فرید رح کی کافیاں پڑھنے لگا۔ آواز میں وہ سوز کہ پورے برصغیر میں آواز سنائی دینے لگی۔ حاکم وقت نے پٹھانے خان کو صدر ہاوس مدعو کیا۔ جب پٹھانے خان نے "جندڑی لٹی تے یار سجن کدی موڑ مہار تے ول آ وطن ” کافی گائی تو حاکم وقت رو پڑا ۔۔۔ تین دفعہ سنی اور تینوں دفعہ رو پڑا۔ اٹھا اور فقیر کو گلے لگا لیا۔ تین دفعہ پوچھا ۔۔۔ پٹھانے حکم کرو آج جو حکم کرو گے حاضر ہو گا۔ پٹھانے خان نے تینوں دفعہ کہا مجھے کچھ نہیں چاہیے بس غریب عوام کی پرت ہو( غریبوں کا خیال رکھیں)۔۔۔۔۔۔۔

اور "میڈا دین وی توں میڈی جان وی توں” کو یوں پڑھا کہ حق ادا کر دیا ۔۔۔جو کہ آج تک کانوں میں رس گھول رہا ہے ۔
پٹھانے خان نے آدھی زندگی ماں کی خدمت میں اور باقی آدھی اس کی یاد میں رو رو کر گزار دی ۔۔۔ جس جھونپڑی میں زندگی گزری اسی میں جان دے دی جو انسان صفت سے فقیر ہو اسے دنیا کی چاک وچوبند سے کیا لگاؤ ۔۔۔ خدا تعالٰی جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔“ آمین


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481