اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

فسادی سوشل میڈیا

پورے 9 بجے پاکستان میں سوشل میڈیا سروسز متاثر

سوشل میڈیا اس وقت صحیح معنوں میں بی جمالو کا کردار ادا کررہا ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ جعلی دنیا ہے جہاں آپ اپنی خوشی کے لئے نہیں۔ اپنے ذہنی سکون اور قلبی اطمینان کے لئے نہین محض دوسروں کو آگ لگانے یا اپنی دھاک بٹھانے کے لئے نت نئی تصویریں،سیلفیاں، گیدرنگز اپ ڈیٹس اپلوڈ کرتے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔

ایک لمحے کو دیکھیے ۔ آپ خوش ہیں لیکن جیسے ہی سوشل میڈیاپر وارد ہوئے کسی آس پڑوس ،جاننے والے کی کامیابی کے ڈنکے بجانے والی پوسٹ دیکھی۔ کسی نے نئی گاڑی خرید لی۔ کسی نے اچھے ریسٹورینٹ میں ڈنر کرلیااور آپ بلاوجہ اداس ہوگئے۔
ایسا لگنے لگے گا جیسے آپ دنیا کے مظلوم ترین انسان ہیں ۔ آپ نے کبھی کوئی خوشی نہیں دیکھی۔ آپ کے گرد جو رشتے ہیں انہوں نے آپ کو کچھ نہیں دیا اور فرسٹریشن ہونے لگے گی۔
پھر لاشعوری طور پر آپ کے اندر مقابلے کی فضا بن جائے گی ۔ آپ کی کوشش ہوگی آپ بھی جلد ہی گاڑی بدلیں یا ورلڈ ٹور پر چلے جائیں۔ زیادہ نہ سہی کسی ہوٹل میں بیس پچیس ہزار جھونکنے کے بعد اپنی سیلفیاں ،لائیو وڈیوز اور پکچرز اپلوڈ کریں اور واہ واہ سمیٹ کر اپنی محروم حس کو تسکین پہنچائین۔
یقین مانیں میرا مشاہدہ ہے کہ لوگ اب شاپنگ ،ہوٹلنگ،ڈرائیونگ پر اپنے لئے نہیں دوسروں کو ساڑنے کے لئے جاتے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ اب تو یو ٹیوبر ،انسٹا وی لاگرز نے انت مچائی ہوئی ہے ہر ایک کی کوشش ہے کہ وہ ملین کمانے لگے۔ ٹیڑھا میڑھا،آڑھا ترچھا،اوٹ پٹانگ جیسا بھی "ٹیلنٹ”ہے وہ دکھاکر پیسے اکھٹے کرے ۔ جیسے مداری کے ہاتھ میں ڈگڈگی ہوتی تھی اور بندر ناچتا تھا سوشل میڈیا وہی مداری ہے اور سب کو نچارہا ہے۔
یہ وہ پلیٹ فارم تھا جس کے ذریعے ہم اپنے ملک کو مسائل سے آزاد کرنے کے لیے بہت کچھ کرسکتے تھے لیکن ہم نے اسے memesبنانے کا ذریعہ سمجھ لیا۔ ہر وقت ہنسی مذاق، مضحکہ ،لعن طعن۔ ایک جنگی کیفیت ۔ سب اپنے اپنے لیڈران کو پکڑے آپس میں دست و گریبان۔ کوئی معیار ی یا ترقی پسند اقدام جو ہمیں نظر آتا ہو۔ ؟
پھر آتی ہے بریکنگ نیوز کی دوڑ۔ سب سے پہلے نیوز بریک کے چکر میں ہر وقت سنسنی خیزی پھیلی رہتی ہے۔ ہر خبر پر نظر سے زیادہ ہر برائی کی پروموشن چل رہی ہوتی ہے۔ سواگر یہ کہا جائے کہ فساد فی الارض میں ایک بڑاکردار سوشل میڈیا کا بھی ہے تو بے ج نہ ہوگا

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481