اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

گُربہ کُشتن

a6d64fa7 e7d7 4c28 981c 7f53eafdbca3

مسکین اپنے نام کی طرح شکل و عقل سے بھی مسکین لگتا تھا (ان کے والدِ گرامی یقیناً پہنچے ہوئے بزرگ ہوں گے جس نے بچے کے مستقبل کو دیکھ کر اس کا نام رکھا تھا)۔ منحنی جسم کا یہ نوجوان نہایت شرمیلا اور ڈرپوک واقع ہوا تھا۔ بچپن میں صبح روتے ہوئے اسکول جاتا، وجہ اس کی امّاں تھی جو اسے مار مار کر اسکول جانے پر راضی کرتیں، بغیر مار کھائے وہ کبھی بھی اسکول جانے پر تیار نہیں ہوتے۔ اسکول سے واپسی بھی روتے ہوئے ہوتی، اس مرتبہ وجہ، اسکول کے وہ شرارتی بچے ہوتے جو مسکین کے بستے سے کھانے پینے کی چیزیں نکال کر کھا جاتے اور مزاحمت پر اسے مار مار کر رونے پر مجبور کرتے۔ غرض کہ رونا دھونا اس کے بچپن کا جُزِ لاینفک بن گیا تھا، بچپن کی کوئی خاص بات جو مسکین سے پوچھی جائے، وہ میرے خیال میں ‘‘رونا اور پٹنا‘‘ بنتا ہے۔

مسکین کی بزدلی کے چرچے پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئے، یہاں تک کہ لڑکوں کے ساتھ ساتھ گرلز اسکول کی لڑکیوں نے بھی اس کے ساتھ چھیڑچھاڑ شروع کردی۔ البتہ لڑکیوں کے چھیڑنے سے انھیں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی تھی بلکہ ایک طرح کا احساس تفاخر ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ چھٹی کے بعد جان بوجھ کر لڑکیوں کے اسکول کے سامنے سے گزرتے ہوئے وہیں سے چھولا روٹی یا سموسے خریدتے تاکہ لڑکیوں کی نظریں اس پر پڑ جائیں۔

تحصیلِ علم سے فارغ ہوکر (یعنی آٹھویں جماعت پاس کرکے) وہ ابّا کی دکان میں درزی کا کام سیکھنے بیٹھ گئے۔ (ان کے فرائض میں قمیضوں میں بٹن ٹانگنا ہوتا تھا) ۔ انھیں محلے کے اپنی ہم عمر لڑکوں سے ملنے جلنے اور کھیلنے کُودنے کا کم ہی موقع ملتا۔ اسی لیے محلے میں کسی کے ساتھ اس کی دوستی نہیں ہوسکی۔ مسکین جب جوانی کی منزل کو پہنچا (منزل تک پہنچنے میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا) تو دنیا کی تمام ماؤں کی طرح اس کی ماں کو بھی اس کی شادی کی فکر لاحق ہوگئی۔ محلے میں کچھ لڑکیوں کے گھر رشتہ بھیجا لیکن لڑکیوں نے صاف منع کردیا، وجہ یہ بتائی کہ انھوں نے آج تک مسکین کو بھائی کے علاوہ کسی اور روپ میں نہیں سوچا۔ اہم بات یہ ہے کہ ان میں شوہروں والی کوئی بات بھی تو نہیں۔ خیر! مسکین کی والدہ نے ہمت نہ ہاری اور ایک رشتہ کروانے والی ‘خالہ‘ کو پورے دس ہزار روپے فیس کے طور پر دے کر مسکین کے لیے کسی اور محلے سے ایک عدد دُلھن کا بندوبست کر ہی لیا اور یوں مسکین کی منگنی ہوگئی۔

محلے کے لڑکوں کو جب مسکین کی منگنی کے بارے میں پتا چلا تو چند شرارتی لڑکوں نے تفریحِ طبع کے لیے ان سے زبردستی دوستی گانٹھ لی۔ شام کو جب مسکین دکان سے گھر آتے تو یہ لڑکے انھیں اپنے ساتھ لے جاتے پٹھان کے ہوٹل میں بیٹھ کر ان سے گپیں ہانگتے۔ باتوں باتوں میں ان سے شادی کے بارے میں پوچھ گجھ بھی کرتے اور اسے شادی کے بعد کی زندگی کے مشکلات سے آگاہ کرتے۔

‘‘بھائی مسکین! آپ کو پتا ہے، آج کل کی لڑکیاں بہت تیز و طرار ہوتی ہیں، وہ تجھ جیسے معصوم شوہروں کو خاطر میں نہیں لاتیں اور انھیں اپنی ماؤں سے جدا کرکے الگ رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔’’ ایک لڑکے نے مسکین کو ڈراتے ہوئے کہا تو باقی لڑکوں نے سر ہلا کر اس کی تائید کی۔ دوستوں کی باتیں سن کر مسکین پریشان ہوگیا اور انہی سے مشورہ مانگا کہ آخر ایسی بیویوں کو کیسے قابو کیا جاسکتا ہے؟ وہی لڑکے نےان سے پوچھا: ‘‘کیا تم نے فارسی کی کہاوت ‘‘گُربہ کُشتن روزِ اول‘‘ نہیں سنی ہے؟‘‘ مسکین نے نفی میں سر ہلا کر نفی جواب دیا: ‘‘ مجھے تو فارسی نہیں آتی، اس کہاوت کے معنی کیا ہیں؟‘‘ لڑکے نے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ اس کے معنی یہ کہ بیوی پر پہلے رات میں اپنا رعب جمالو پھر وہ ساری زندگی تمھاری باندھی بن کر رہے گئی۔ ‘‘میں ایسا کیا کروں کہ دُلھن پر میرا رعب قائم ہوجائے؟‘‘ مسکین نے مزید پریشان ہوکر پوچھا۔ ‘‘سیدھی سی بات ہے، سہاگ رات کو تمھارے گھر ایک بلی آئے گی، تم غصے میں آکر اس کا گلا مروڑ کر اسے ماردو، دلھن خود بخود ڈر جائے گی۔‘‘ ایک اور بقراط نما لڑکے نے درمیان میں دخل اندازی کرتے ہوئےمشورہ دیا۔ ‘‘مگر بلی آئے گی کہاں سے؟‘‘ مسکین کی پریشانی اور حیرت میں اضافہ ہونے لگا۔ ‘‘یہ بات تم ہم پر چھوڑ دو، جب تم دلھن کو لینے سسرال جاؤ گے تو ہم تمھارے کمرے میں ایک بلی چھپا کر دروازہ بند کردیں گے‘‘ وہی بقراط نما لڑکے نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔

اللہ اللہ کرکے شادی کا دن بھی آگیا اور رخصتی والے دن مسکین نے اماں سے اجازت لے کر اپنے کمرے کی ایک چابی اپنے دوستوں کو دی کہ کمرے کی سجاوٹ کرلیں (مقصد بلی کو کمرے میں پہنچانا تھا)۔ رات کو دلھن کو لے کر جب اپنے کمرے میں پہنچے تو وہاں بلّی کے بجائے ایک موٹا تازہ بلّے کو پایا۔ اپنے اوپر بڑی مشکل سے غصے کا موڈ طاری کرتے ہوئے انھوں نے (ڈرتے ہوئے) بلّے کو پکڑنے کی کوشش کی مگر بلّا بڑا پُھرتیلا اور خون خوار تھا اس نے پنجہ مار کر مسکین کے چہرے کو لہو لہان کردیا۔ مسکین اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپائے صوفے پر لیٹ گئے۔ دلھن نے جب یہ منظر دیکھا تو غصے میں اُٹھی اور فوراً بلّے کو پکڑ کر اس کی گردن مروڑ کر اسے کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ بلے سے نجات حاصل کرنے کے بعد انھوں نے اپنی ساس کو آواز دے کر بلایا اور ان سے پایوڈین منگوا کر مسکین کے زخموں کی صفائی کی۔
بعد میں مسکین کو پتا چلا کہ اس کی بیوی کراٹے ماسٹر ہے، بہرحال مسکین اپنی بیوی کے ساتھ خوش ہے کیوں کہ اس نے اپنی کراٹے ماسٹر بیوی کی شاگردی اختیار کی ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481