اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سپریم جوڈیشل کونسل ایجنسیوں کے احتساب کا فورم نہیں.عرفان صدیقی

منشور کی تیاری کے لئے تیس ذیلی کمیٹیاں قائم کر دی گئیں: سینیٹر عرفان صدیقی

 

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کے خط پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی شکایت غلط جگہ پہنچائی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل، انتظامیہ یا ایجنسیوں کا محاسبہ کرنے کے لئے نہیں، ججوں کا محاسبہ کرنے کا فورم ہے۔ ان جج صاحبان کو دھمکیاں دینے یا دباؤ ڈالنے والے کرداروں کو سزا دینے کا اختیار خود ان ججوں کے پاس تھا، انہیں چاہیے تھا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی طرح برملا ایسے کرداروں کا نام لیتے اور عدلیہ پر اثر انداز ہونے کے الزام میں انہیں اپنی عدالتوں میں طلب کرتے۔

اپنے بیان میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ بظاہر اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج نے اپنے سے جونیئر ججوں پر اثر انداز ہوکر یہ خط لکھوایا ہے جس کا محرک کوئی اور ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ان کا ایک ساتھی جج، حق گوئی کے جرم میں پانچ سال عدالتوں کے دھکے کھاتا رہا کوئی اس کے حق میں ایک لفظ تک نہیں بولا۔ ایک آدھ جج کے سوا سب نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا سوشل بائیکاٹ کئے رکھا۔ آج اس کے حق میں آنے والے فیصلے کی آڑ لے کر وہ ایک سیاسی ایجنڈے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

 

 

انہوں نے کہا کہ یکم اکتوبر 2018 کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی معزولی کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی نواز شریف کے بارے میں ہر بینچ کا حصہ تھے لیکن انہوں نے کسی ایک مقدمے میں بھی نواز شریف کو ریلیف نہیں دیا۔ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن بنے رہے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ جنرل فیض حمید کی دو سال کی محنت ضائع نہ ہو اور نواز شریف یا مریم انتخابات سے پہلے جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو "ضابطہ اخلاق” کی خلاف ورزی کی سزا دی گئی تھی لیکن درحقیقت ضابطہ اخلاق کی دھجیاں ان جج صاحبان نے اڑائی ہیں جو 9 مئی کے ملزمان کو سزائیں سنائے جانے کے حتمی مرحلے میں انتظامیہ اور ایجنسیوں پر سوالات اٹھا کر ایک مخصوص جماعت کے سہولت کاروں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

Supreme Judicial Council is not a forum for accountability of agencies. Irfan Siddiqui


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481