اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے خفیہ اداروں پر مداخلت کا الزام لگادیا

59ba2802 57f1 44c2 95ff 5e1a5d3da036

منگل کے روز عدلیہ کی تاریخ کا ایک اور غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جب اسلام اباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے عدالتی مقدمات میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججوں پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

اس خط کی کاپی تمام جج حضرات کو بھی بھجوائی گئی ہے جبکہ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو یعنی حکومت اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ اگر عدالتی کنونشن بلایا جاتا ہے تو اس سے ایجنسیوں کی مداخلت کے حوالے سے مزید معلومات بھی سامنے ائیں گی اور عدلیہ کی ازادی کے سلسلے میں معاونت حاصل ہوگی۔

خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں.

ججز نے اپنے خط کے ساتھ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو 2023 اور 2024 میں لکھے گئے خطوط بھی  منسلک کیے ہیں۔خط کے مطابق ججز پر مسلسل دباؤ کا معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اٹھایا، جس پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھا چکے ہیں اور انہوں نے آئندہ ایسا نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے تاہم یہ مداخلت جاری رہی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا سائفر کیس ٹرائل روکنے کا حکم

ٹیریان وائٹ کیس کا حوالہ 

ججز کی جانب سے لکھے گئے مشترکہ خط میں  یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب طاہر نے چیف جسٹس عامر فاروق سے اختلاف کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف ٹیریان وائٹ کیس کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔ جن ججوں نے چیف جسٹس سے اختلاف کرتے ہوئے فیصلہ دیا ان پر ججز کے خاندان اور دوستوں سے دباؤ ڈالوایا گیاجس کے نتیجے میں فیصلے دینے والے 2 ججز نے اپنی رہائشگاہ پر اضافی سیکیورٹی مانگی۔ ایک جج کو تناؤ کے باعث ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے اسپتال میں میں داخل ہونا پڑا۔ یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور 2 مئی 2023 کو اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کے سامنے بھی رکھا تھا۔

Six judges of the Islamabad High Court accused secret agencies of interference ,خفیہ اداروں پرمداخلت کا الزام 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481