اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کالم شالم ۔۔۔۔۔ بے چاری اردو

FB IMG 1618206921911

کالم شالم ۔۔۔۔۔ بے چاری اردو
شکیل اعوان

کہنے کو تو اردو نامی زبان ہماری "قومی زبان” ہے (کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں؟). جب ہمارے اساتذہ فرمایا کرتے تھے کہ "اردو لشکری زبان ہے” تو ہم یہ سمجھتے کہ شاید کسی لشکر کی تربیت کے دوران یہ زبان تخلیق ہوئی ہوگی۔ ہماری عمر اُس وقت یہی "داء بارہ” (دس بارہ) برس ہوئی ہوگی۔ ایک تختی، ایک قلم، ایک سلیٹ مع سلیٹی، ایک گاچی اور ایک قاعدہ ہمارا کل سرمایہ سکول ہوا کرتا تھا۔ اِن تمام چیزوں سے ہمیں” گاچی” (تختی کو سفید کرنے کا لیپ) پسند تھی کہ جب پیٹ میں چوہے "کوڈی” (کبڈی) کھیلتے تو ہم گاچی کو چاٹ کر اپنی بھوک مٹا لیتے اور کیلشیم کی کمی مفت میں پوری ہو جاتی۔ اکثر تفریح کے دوران ہم کسی "دُرّنی” (جنگلی انار کا درخت) کی چوٹی پر پائے جاتے۔ اس وقت کٹھے مِٹھے دُرنے (کٹھے میٹھے انار ) کا جو سواد (ذائقہ) تھا وہ آج کے پیزہ برگر وغیرہ میں کہاں. یہاں تک کہ ہمارے استاد بھی ہمیں آواز دیتے کہ ماسٹر صاب کے لیے آٹھ” دُرّنے” لانا۔

انگلش نئی نئی شروع ہوئی تھی اور فارسی کو رُخصت کیا جارہا تھا یعنی ہمیں فکر و دانش سے دور کرنے کی سازش کی جا رہی تھی۔ جس کے بعد ہمیں مسلکی سطح پر شدت پسندی میں الجھا کر دین سے دور کرنے کا مرحلہ آیا۔

بقول شاہ محمد بن سلمان، "ہم نے وہابیت کو پھیلانے پر بہت سرمایہ خرچ کیا”۔

بات ہو رہی تھی فارسی کی تو کہاں شیخ سعدی، حافظ شیرازی اور کہاں لارڈ میکالے۔ مگر فیصلہ سازوں کی مرضی تھی، یوں بھی برِصغیر نامی خطہ ِارضی میں حملہ آور ہی آتے رہے، انقلاب تو کبھی آیا نہیں اور نہ ہی کبھی آئے گا۔

سیالے نی "تہپ” (سردیوں کی دُھوپ ) میں سکول کے باہر کلاس لگتی تھی۔ ہمارے استاد "ماسٹر بشیر مرحوم” اردو پڑھاتے تھے۔ وہ ہم سے اقبال کی نظم پرندے کی فریاد سنتے اور ہم گلہ کوچ کر (صاف کر کے) بہ آواز بلند
"آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ ”
"چُھڑکاتے” (گاتے)۔  استاد محترم نیند کی وادی میں چلے جاتے اور سامنے "کاغوڑی” ( مقامی پہاڑی کانام ) کے پہاڑ پر "کہاہ کپتے” (گھاس کاٹتے) کسان کچھ دیر کے لیے "دراٹیاں ” (درانتیاں) چھوڑ کر محو سماعت ہو جاتے۔ پھر آہستہ آہستہ اردو کی جگہ "ماسی” انگلش لینا شروع ہوگئی اور آج یہ حالت ہے کہ ہمارے صدرِ محترم سلامی کے چبوترے پر کھڑے ہو کر سامنے لکھی ہوئی تقریر بھی درست املا سے نہیں پڑھ سکتے۔

کسی بھی سماج کے زوال کا پہلا قدم اُس کی اپنی زبان و ثقافت سے دُوری ہوتا ہے۔

ہم جب سیاست دانوں کو عام سا شعر بھی غلط پڑھتے ہوئے دیکھتے اور سنتے ہیں تو زیرِ لب "اناللہ…” پڑھ کر مسکرا دیتے ہیں. حالانکہ ہم بھی کوئی بہت بڑے اردو دان نہیں ہیں۔ ہمارے ایک جماعتی (کلاس فیلو) ہوتے تھے۔ ایک بار امتحان کے دوران سوال آیا کہ فلاں جملے کی سلیس اردو بنائیں۔ وہ ہم سے پوچھنے لگے کہ یہ "سلیس اردو” کیسے بناتے ہیں؟ ہم نے از راہ مذاق کہا کہ ہارڈ وئیر کی دوکان سے سلیش (صمد بانڈ) لے کر آنا پھر بنا دوں گا۔ وہ دوسرے دن واقعی صمد بانڈ لے کر آگئے۔ اتفاق سے آج کل استاد کے عہدے پر فائز ہیں۔

اردو مسکین کا جو حال ہے مت پوچھیے۔ ہمارے دورمیں خوش خطی کے باقاعدہ نمبرز ہوتے تھے، جن کا اب تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے اب تختی نام کی کسی چیز سے بچے واقف ہی نہیں ہیں اور نہ ہی انھیں جی اور زیڈ کی نب اور ہولڈر کا پتہ ہے۔ ہمارے دوست لالا امان اللہ خان کا ایک شعر ہے

جِن کو تیرا نام نہ لکھنا آیا تھا
ضد میں آکر میری تختی توڑ گئے

آج یہ حالت ہے کہ بڑے سے بڑے پڑھے لکھے (جھنیں” لخے پونجے” کہنا چاہیے) جب تک ماسی انگلش کا پیوند نہ لگائیں اردو میں چند جملے نہیں بول سکتے. سو صدر صاحب کی تقریر سن کر اردو کا مستقبل روشن لگا۔ ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں فیصلہ سازوں کو۔ اردو کی ناقدری کا یہ عالم ہے کہ کسی اردو کی تہذیب سے آشنا مسافر نے بس میں ساتھ والی سیٹ پر براجمان مسافر سے پوچھا کہ جناب کا اسم شریف کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اسم شریف کا تو اسے پتہ نہیں البتہ درود شریف سنا سکتا ہے۔

دنیا سے رابطے کے لیے زبانوں کا سیکھنا لازمی ہے۔ لیکن علم و شعور کے لیے اپنی زبان کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

آئین نامی دستاویز میں بھی صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ اردو نامی زبان یہاں کی سرکاری و قومی زبان ہوگی اور پرائمری تک تعلیم مادری زبان میں حاصل کرنا ہر بچے کا آئینی حق ہے۔ 

معلوم نہیں کب یہ شقیں آئین سے خارج کر دی جائیں کہ ذہنی غلامی کے شاہکاروں کی ذہن سازی کر دی گئی ہے کہ انگریزی اور ترقی لازم و ملزوم ہیں باقی سب اضافی اور غیر ضروری ہے۔ اسی انداز فکر کا نتیجہ ہے کہ۔۔۔

گزشتہ پون صدی میں ہم نے اتنی ترقی کی ہے کہ کئی آئن سٹائن ہمارے ہاں نوکریوں کی تلاش میں مارے مارے پھرنے کے بعد این ایل سی کے ٹرک چلا رہے ہیں۔ 

ویسے ہم نے مدت ہوئی آہین کا مطالعہ نہیں کیا۔ اور پھر آئین کے مطالعے کا فائدہ ہی کیا جب اُس پر عمل تو ہونا نہیں ہے۔ آئین تو پھر انسانی” لکھت” ہے، ہم تو کلام ہدایت کو بھی بغیر سمجھے فقط "مُردے” بخشوانے، قل شریف کرانے، تراویح شریف میں ایف سولہ حفاظ حضرات سے کوڈی کوڈی (کبڈی کبڈی) کرانے کا کام لیتے ہیں۔ سو۔۔۔۔۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں

اُنج وی روزے ادھ لگ گئے نے ( رمضان آدھا گزر گیا ہے)۔ روزہ داروں سے بڑھ کر کھوجے مار افطاریوں کے بعد اب عید کی تیاریوں میں بھی زور و شور سے مشغول ہیں۔ آپ بھی سوچیں گے کہ ایہہ کیہ نواں کٹا کھول بیٹھا ہوں۔ سو سلامت رہیں اور تفکر و تدبر اور تحقیق کے تردد سے آزاد رہیں کہ ہمارے ہاں یہ شیوہ کافری ہے۔

لیاقت جعفری کے دو خوبصورت اشعار کے ساتھ اجازت

مرے قبیلے میں تعلیم کا رواج نہ تھا
مرے بزرگ مگر تختیاں بناتے تھے

دل کی تختی پہ بھی آیات لکھی رہتی ہیں
وقت مل جائے تو ان کی بھی تلاوت کرنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شکیل اعوان

ایبٹ آباد

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481