اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

پنڈی اسلام آباد کی ادبی تقاریب کے کچھ شگفتہ پہلو

2005605c f1b0 40f4 bd62 b176a13d515a

جڑواں شہروں یعنی پنڈی اسلام آباد کی ادبی مجالس اپنے کنٹینٹ کے لحاظ سے ہمیشہ بھرپور رہتی ہیں۔ جہاں ایسی محافل شعرو ادب کی ترویج میں اپنا کردار موثر طور پر سرانجام دیتی محسوس ہوتی ہیں ، وہاں کچھ ایسے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں کہ جو شگفتگی سے مالا مال ہوتے ہیں۔ مصنف ، عینی شاہد ہونے کی پاداش میں ،ان میں سے چند واقعات بیان کرنے کی جسارت کرتا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔
نوٹ: خوف فساد خلق کے سبب بعض نام مخفی اور بعض ظاہر کر دئے گئے ہیں۔

وقوعہ نمبر ایک:: ایک شاعر کو دعوت کلام دی گئی۔ موصوف نے احسان نما اطلاع دیتے ہوئے سٹیج پرکہا،”ایک مختصر سی غزل پیش خدمت ہے۔” ظاہر ہے ایسا اعلان کانوں کو بھلا ہی لگتا ہے۔ ان سب حاضرین محفل نے اس اعلان کا بطور خاص خیر مقدم کیا جو موصوف کی "ادنیٰ تخلیقی صلاحیتوں” کا ایک طویل عرصے سے شکار تھے۔ لیکن شرکائے محفل کی امیدوں پر بالٹیوں پانی اس وقت پھرا جب موصوف نے اپنی مختصر غزل کے آٹھ اشعار پیش کر ڈالے۔ ابھی یہ سانحہ کماحقہ ہضم نہیں ہوا تھا کہ معزز شاعر اگلی ہی سانس میں نہایت اطمینان سے فرمانے لگے، "اب اس غزل کا پہلا مقطع پیش خدمت ہے”۔ یوں غزل کا حسن مقطع سنانے کے بعد موصوف سب کو مسکراتا چھوڑ کر سٹیج سے اتر گئے۔ اس مرحوم شاعر کی مغفرت کے لئے دعا کا التماس ہے۔

وقوعہ نمبر دو:: بعض شعرا کو ترنم سے کلام سنانے کا عارضہ لاحق ہوتا ہے، چنانچہ علاج بالمثل کے طور پر موسیقی کے سُروں کو اپنی "ناپاک خواہشات”کی بھینٹ چڑھانے سے ذرا بھر نہیں چوکتے۔ اکادمی ادبیات اسلام آباد کی ایک شعری نشست کا حال سنئے جس کی صدارت جناب امجد اسلام امجد کے سپرد تھی۔ اسلام آباد کے ایک "ترنم فرینڈلی”شاعر کو جب سٹیج پر بلایا گیا تو موصوف بیاض سمیت جلوہ گر ہوئے۔ سامعین کی توجہ پا کر بیاض کو کھولا اور دوتین سیکنڈ کی ہومیو پیتھک ورق گردانی کی۔ پھر دو چار صفحات آگے پلٹے اور نیوٹن کے تیسرے قانونِ حرکت کے تحت دو چار صفحات اس سے پیچھے پلٹے۔

سب لوگ ورق گردانی کی اس ورزش کو برادشت کرتے رہے۔ آخر کار بیاض کا وہ صفحہ کھولا جس میں پہلے سے ہی ایک لمبا سا سرخ دھاگہ موجود تھا، شاید یہی صفحہ ان کی قرات کی منزل مقصود تھا۔ اب باری ان کے بولنے کی تھی۔ فرمانے لگے،”بہت محبت سے یہ کلام لکھ کے لایا ہوں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے، آپ رائے دیں کہ میں ترنم سے یہ اشعار پیش کروں یا تحت اللفظ میں ہی سنا دوں؟”۔ اس پر پہلی لائن میں بیٹھے جناب وفا چشتی (جو خود ایک عمدہ مترنم شاعر ہیں) نے ، دروغ برگردن راوی پیشہ وارانہ چشمک کے تحت، فوراً ہی بآواز بلند کہہ دیا، "حضور تحت اللفظ میں ہی پیش کیجئے”۔ سب لو گ ہنس پڑے، اس پر صاحب صدر امجد اسلام امجد نے ہنستے ہوئے کہا کہ ایک ووٹ ہی کافی ہے۔ ایک فلک شگاف قہقہہ پورے ہال میں پھیل گیا۔ شاعر نے اس صورت حال کو کمال دانائی کے ساتھ بھانپ کر، پھر بھی ترنم سے پڑھنا شروع کر دیا۔

 

 

وقوعہ نمبر تین: اسلام آباد کی ایک معروف ادبی تنظیم کے مشاعرے میں مہمان خصوصی کو دعوت کلام دی گئی تو انھوں نے سٹیج پرآ کر یہ بیان داغا،”احباب گرامی، اتفاق کی بات ہے کہ میں کچھ لکھ کر نہیں لا سکا، میرا حافظہ بھی کمزور ہے اور یہاں کچھ نہ کچھ پیش کرنا بھی لازم ہے۔ خیر جو مجھے یاد آتا جائے گا، وہی آپ کی خدمت میں پیش کرتا جاوں گا۔” مشاعروں میں جانے والے عادی شعرا عموماً ایسے اظہار پر سکھ کا ہی سانس لیتے ہیں۔ سو مہمان خصوصی کی بات کو خصوصی طور پر ویلکم کیا گیا۔ لیکن کمزور حافظے کے دعویدار شاعر نے جب اپنا کلام سنانا شروع کیا تو یہ اندازہ لگانے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ انسانی حافظہ پلک جھپکتے میں، موقع واردات پر ، خطرناک حد تک بہتر بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ سبھی شرکائے محفل کو تقریباً ایک گھنٹہ اس شاعر کا کلام سننا پڑا۔ اس دوران موصوف نے بے تکان کئی غزلیں سنا ڈالیں۔ مزے داری کی بات یہ ہے کہ کمزور یادداشت رکھنے کے باوجود اس صاحب نے درجنوں غزلوں کے سو سے زیادہ اشعار ایسے سنائے کہ یہ یقین کرنا پڑا کہ ابھی اس دنیا میں اپنے کلام کو حفظ کرنے والے اہل قلم زندہ و سلامت ہیں۔ دماغوں کو ایک گھنٹے تک حالت ہیمبرج میں رکھنے اور سماعتوں کو حبس بے جا میں رگیدنے کا یہ کھیل آج تک درجنوں احباب کو یاد ہے۔

وقوعہ نمبر چار: ایک مشاعرے کے دوران مشاعرہ چھوڑ کر رائیٹرز ہاوس کے باہر ہم کچھ احباب کھڑے تھے۔ حامد محبوب صاحب نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ،”یار میں تو مسٹر” ز” کی آئے دنوں کی پوسٹ ٹیگنگ سے زچ ہوچکا ہوں۔ اب اس عذاب سے چھٹکارے کی ایک یہی صورت باقی رہ گئی ہے کہ میں اسے بلاک کر دوں۔” اس پر میں نے برجستہ کہا ،”حامد بھائی ! اس کی پوسٹ ٹیگنگ سے مستقل طور پر جان چھڑانے کا طریقہ یہ ہے کہ مسٹر” ز” کو بلاک کرنے کی بجائے اسے ہلاک کر دو۔ ”

وقوعہ نمبر پانچ: آٹھ دس برس قبل کی بات ہے جب حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد میں کسی نے اپنی غزل برائے تنقید پیش کی.صاحب صدارت جناب ڈاکٹر احسان اکبر نے فرمایا کہ اب اس غزل پر بحث کا آغاز کرتے ہیں.سب خواتین و حضرات سے التماس ہے کہ اس غزل کے مختلف پہلووں کا جائزه لیں اور یہ بھی دیکھیں کہ اس غزل کا مرکزی خیال کیا ہے؟ (آخری الفاظ کی ادائیگی کے وقت صاحب صدارت کا لہجہ طنزیہ تھا)۔

ایک صاحب نے اس پر برجستہ کہا کہ جناب صدر !غزل کا مرکزی خیال تو نہیں ہوا کرتا کیونکہ یہ صنف تو مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔اس پر ڈاکٹر احسان اکبر نے مسکراتے ہوئے کہا،” آپ بجا کہتے ہیں کہ غزل کا کوئی مرکزی خیال نہیں ہوتا لیکن ہم حلقے کے اجلاس میں اسے نکالتے رہتے ہیں”۔ اس پر ساری محفل کشت زعفران بن گئی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481