اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عمل خیر… پہلےضروریات اور فضولیات میں فرق جانئے

سعودیہ عرب: رمضان المبارک کا پہلا روزہ کس دن ہوگا

اس کی عادت تھی ہفتے ،دس دن میں ایک بار جی جان سے کھانا بناتی ،پھر محلے میں تقسیم کر دیتی۔یہ عادت اسے اپنی نانی سے ورثے میں ملی تھی۔بڑی ہی سخی ،مہمان نواز اور غریب پرور بندی تھیں۔ان کا تو وطیرہ تھا کہ جب ان کی بھینس کے ہاں دودھ اچھا ہوتا تو جن گھروں میں دودھ خریدنے کی سکت نہ ہوتی انہیں گھر جا کر دودھ لسی پہنچا آتیں کہ "فلاں گھر روکھا ہے ،بچے نہ ترسیں "۔ان کے گھر کا راشن ،پانی ہر ضرورت مند کی دسترس میں تھا۔اکثر انہیں اپنے شوہر اور بچوں سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا مگر وہ مضبوط عورت دو ٹوک کہتی میں اپنی محنت سے کماتی ہوں۔اپنے جانوروں سے ،اپنی زمینوں سے اور یہ بھی حیرت انگیز سچ ہے کہ جب تک وہ حیات رہیں ان کے گھر رزق کی فروانی رہی،ان کی زمینیں سونا اگلتی رہیں۔ان کا یہ کہا بھی سچ ہوا کہ "میرے بعد ویرانیاں راج کریں گی۔”
زمانے نے انہی ہنستے بستے گھروں میں وحشتوں اور ویرانیوں کا رقص بسمل دیکھا۔

لیکن روایات کسی نہ کسی صورت کہیں کہیں اگلی نسل تک پہنچتی ہیں یہ ایک ہنر نواسی کو منتقل ہوا۔
اگر عام دنوں میں وہ دس دن میں کھانا بناتی تو رمضان میں اس شوق کو ہفتے میں دو تین بار پورا کرتی۔پہلے روزے کو اس نے سارا دن اسی تیاری میں گزارا۔مقررہ وقت سے پہلے ہی چھوٹا دسترخوان لیے وہ محلے کے دروازوں پہ تھی۔ہر گھر کے رونق میلے اور چہل پہل اسے بتا رہی تھی کہ گھر کے حالات کیسے ہیں۔اہلخانہ زندگی جی رہے ہیں کہ گزار رہے ہیں۔کہیں سے مطمئن تو کہیں سے رنجیدہ وہ خالی برتن لیے نئے منصوبوں کے ساتھ واپس اپنے گھر آتی اور پھر چلی جاتی۔اک گھر گئی تو پانچ بچوں کے ہوتے ہوئے بھی خاموشی تھی نہ کوئی اہتمام نہ کوئی رونق رمضان۔بچے ماں کے ہاتھ میں پکڑے دسترخوان کی طرف لپکے ۔ماں نے بھی اسے زمین پہ رکھ دیا۔بچے بنا سانس لیے کھاتے رہے۔یہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر حلق میں کانٹے اگ آئے تھے۔اٹھنا چاہ رہی تھی مگر پاوں منوں بھاری۔۔۔سامنے بیٹھی جوان بیوہ کی آنکھوں میں تیرتے آنسو بہت سی کہانیاں سنا رہے تھے۔اپنا دست شفقت اس کے سر پہ رکھا تو وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔

"باجی ! فیکٹری والوں نے تنخواہ نہیں دی۔راشن ختم ہے ،تین دن سے تو آٹا بھی نہیں ۔کرایا نہیں دے سکی۔بل بھی۔۔۔۔۔۔۔”
وہ پتہ نہیں کیا کیا کہتی رہی اسے کچھ سنائی نہ دیا۔اس کے حلق میں وہ سارے کھانے اٹک گئے جو تین دن تین وقت اس نے مزے سے کھائے تھے۔پڑوسیوں کے حقوق ،مذہبی و اخلاقی اقدار سب نظر میں گھومنے لگا۔بے خبری اور لاپرواہی کا دکھ ہلکان کرنے لگا۔۔۔وہ بدحواس سی اپنا برتن وہی چھوڑ کر باہر نکل آئی۔وہ جانتی تھی اس نے اپنے صدقات و فطرات کا کیا کرنا ہے ۔اسے ایک شام کی محنت نے اپنے اردگرد کے سبھی حالات سے باخبر کر دیا تھا ۔مگر کوئی بوجھ تھا کہ دسترخوان پہ رکھی بے تحاشا نعمتوں سے اسے اب کوئی لگاو نہیں رہا تھا۔وہ انہیں یہاں سے کم کر کے کسی اور کے دسترخوان کو مکمل کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہی تھی۔رفتہ رفتہ اس نے اپنی ضروریات اور فضولیات میں فرق جان لیا۔یہی ایک راستہ تھا اس مشکل دور میں کسی بھی عمل خیر کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا۔اسے معلوم ہے اس کی یہ کاوش قطرے برابر ہے مگر قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے وہ یہ بھی جانتی ہے۔

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481