اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ہمارا بچپن اور روزے

سب سے چھوٹا اور لمبا روزہ کہاں ہوگا؟

انہیں پکارو جو کھو گئے ہیں، اداس ماضی کے جنگلوں میں

اجاڑسوچوں میں رنگ بھر لو، گئی رتوں کا حساب کرلو

آج سحری کے لیے موبائیل پر الارم کی آواز پر اٹھتے ہوئے امی کی بہت یاد آئی (اللہ ان کی اور ابو کی مغفرت کرے آمین)ـ بچپن میں سحری کے لیے اٹھنے کی کوئی فکر نہیں ہوتی تھی کیونکہ بس امی کو کہہ دیا اور پھر امی جانے اور ان کا کام۔ امی کو پتا تھا کہ مجھے نیند بہت پیاری ہے اس لیےمجھے سحری میں سب سے آخر میں اٹھاتی تھیں کہ اس سے نہیں اٹھا جائے گا اور میری نیند بھی بہت پکی تھی بقول امی کے ڈھول بھی بجاؤ تو یہ نہیں اٹھے گا۔ ایک وہ وقت تھا اور ایک یہ وقت کہ الارم کے بغیر بھی آنکھ کھلتی رہتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ”ماواں ٹھنڈیاں چھاواں“ ـ۔۔۔ امی کے بغیر یہ چوتھا رمضان ہے۔ امی لازمی مجھے رمضان کی مبارک باد دیا کرتی تھیں اور اب ۔۔۔۔۔

سحری میں ہماری مسجد میں محلے کے لڑکے ذوق شوق سے یہ جملے”روزے داروں، اللہ نبیﷺ کے پیاروں، جنت کے حقداروں، سحری کا وقت ہوگیا ہے اٹھ جاؤ“ مسجد کے لاؤڈ سپیکر میں تہجد کے وقت سے بولنا شروع کرتے اور جیسے جیسے سحری ختم ہونے کا وقت نزدیک آتا تو ان الفاظ میں تھوڑی سی تبدیلی کچھ یوں ہوتی کہ ”روزے دارو، اللہ نبیﷺ کے پیاروں، جنت کے حقداروں، سحری کا وقت ختم ہونے میں تیس منٹ رہ گئے ہیں“ اورپھر یہ عمل اس وقت تک دہرایا جاتا رہتا تھا کہ جب تک سحری بند نہ ہوجاتی تھی۔

ہمارے بچپن میں سخت گرمیوں میں روزے ہوتے تھے۔ میں سحری میں پراٹھا انڈہ اور چائے کا شوقین تھا اور بڑے شوق سے یہ سب کھاتا تھا۔ مجھے روزہ رکھنے میں بہت دقت پیش آتی تھی۔ باوجود اس کے کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں روزے آتے تھے لیکن جس خاص دن مجھے روزہ رکھوایا جاتا وہ بالعموم جمعہ کا مبارک دن ہوتا تھا اس دن ہمارا حال دیکھنے والا ہوتا تھا۔ اب تو ائیرکنڈیشنڈ کمرے میں سو کر وقت تیزی سے گزر جاتا ہے لیکن اس وقت جمعة المبارک کی نماز کے بعد ہونٹوں پر پپڑیاں سی جم جاتیں، حلق خشک ہوجاتا اور امی کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے بار بار نہایا جاتا۔ میں اکثر مگ پانی سے بھر کر الٹا کرکے سر پر رکھ لیتا تھا تا کہ آہستہ آہستہ پانی بہتا رہے اور وقت بھی گزر جائے لیکن وقت جیسے ٹھہر ہی جاتا تھا۔ پھر ہم سونے کی ناکام کوشش کرتے کیونکہ کہاں اس وقت تک ہم دو تین دفعہ کھانا کھا لیتے تو اور کہاں اب بھوکے پیٹ ۔۔۔۔۔

اللہ اللہ کرکے عصر کی نماز پڑھ کر وقت دیکھا جاتا کہ بس اب ڈیڑھ دو گھنٹہ رہ گیا ہے اور ہم ایک دفعہ پھر غسل خانے میں گھس جاتے۔ اب باہر آکر دل کررہاہوتا تھا کہ پورا جگ پی جاؤں۔ دن میں تارے نظر آرہے ہوتے تھے اور بار بار کلی کی جارہی ہوتی تھی کی گلے تک نمی پہنچ جائے۔۔۔۔۔ اگر محلے سے کوئی خالہ یا باجی آجاتی تو بار بار معصوم بیمار شکل بنا کر اس وقت تک سامنے آیا جاتا کہ جب تک وہ پوچھنے پر مجبور نہ ہوجاتیں کہ ”مبشر کا روزہ ہے؟ کتنا چھوٹا منہ نکل آیا ہے“ اور یہ سنتے ہیں میں اپنا منہ مزید چوسے ہوئے آم جیسا کرلیتا۔۔۔۔۔

امی عصر کی نماز اور قران پاک پڑھ کر باورچی خانے میں چلی جاتی تھیں اور تھوڑی دیر میں پکوڑوں کی خوشبو آنگن میں پھیل جاتی۔ سب سے پہلے شربت تیار کرکے بڑے سے برتن میں برف ڈال کر رکھ دیا جاتا تھا۔ پھر ہم بہن بھائی اپنی اپنی پیڑھیاں سنبھالے برتن کے آس پاس بیٹھ جاتے تھے۔ ابو کے لیے الگ سے افطاری چھوٹے میز پر سجا کر ان کے سامنے رکھ دی جاتی تھی۔ ہم میں سے ہر بہن بھائی کی کوشش ہوتی تھی کہ برتن میں سے شربت ڈالتے ہوئے کوئی برف کا ٹکڑا بھی ہمارے گلاس میں آجائے۔ پھر گلاس میں شربت ڈال کر گلاس کو ہاتھوں میں پکڑ کر ہونٹوں سے لگایا جاتا کہ خنکی اندر تک چلی جائے۔ ساتھ میں پھل، پکوڑے اور کھجوریں بھی رکھی ہوتی تھیں لیکن ہماری توجہ صرف شربت پر ہوتی تھی۔

بالاآخر گھگو (سائرن) کی آواز گونجتی اور ہم اندھا دھند امی کے منع کرنے کے باوجود ایک ایک کھجور کھا کر شربت کے گلاس کے گلاس دھڑادھڑ اپنے اندر انڈیلنا شروع کردیتے اور کچھ دیر میں ہائے ہائے کرتے لیٹ جاتے کہ الٹی آرہی ہے۔ امی بار بار سمجھاتی تھیں کہ پہلے کچھ کھالو اور پھر آہستہ آہستہ پانی پینا لیکن ہم جلدبازی میں اپنا کباڑا کر لیتے اور مشکیزے کی طرح پھولے ٹھنڈے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہائے ہائے کرتے رہتے اور خود سے عہد کرتے کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے لیکن اگلے روزے پر پھر عہد توڑ دیتے۔۔ تھوڑی دیر میں نماز مغرب پڑھ کر ہم پکوڑوں اور باقی چیزوں پر ٹوٹ پڑتے اور اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹتے تھے کہ جب تک ان کا نام و نشان نہ مٹا دیتے۔

کھانے سے فارغ ہوکر محلے کے سب بچے باہر گلی میں اکٹھے ہوجاتے جو کہ ڈیڑھ سو فٹ چوڑی تھی اور اس کو میدان سمجھ لیں۔ ہم بھی اپنے چوبارے سے اتر کر نیچے چبوترے پر دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لگاتے۔ اتنے میں عشاء کی اذان ہوتی تو ہم سب بچے تراویح ادا کرنے مسجد چلے جاتے اور باوجود بڑوں کے منع کرنے کے پچھلی صفحوں میں جو طوفان بدتمیزی مچاتے کہ اللہ امان ۔۔۔ ہمیں بڑوں سے ڈانٹ پھٹکار پڑتی رہتی تھی لیکن ابو مرحوم ہمیشہ دوسروں کو منع کرتے کہ ”بچوں کو مت ڈانٹو! کیونکہ کل انہوں ہی نے مسجد کی رونق میں اضافہ کرنا ہے۔“

تراویح پڑھ کر تھوڑی سی گپ شپ کرکے تمام دوست احباب اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے لیکن میں اور میرا جڑواں بھائی کافی دیر تک چبوترے کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر باتیں کرتے رہتے جس کے بائیں طرف ایک سرس کا درخت اور دائیں طرف ایک پیپل کا پراسرار درخت تھا۔۔۔

اب نہ وہ فرصت رہی، نہ وہ چبوترہ، نہ وہ درخت اور نہ ہی وہ ساتھی۔۔۔۔۔۔

اکثر شبِ تنہائی میں
کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں
بیتے ہوئے دن عیش کے
بنتے ہیں شمعِ ذندگی
اور ڈالتے ہیں روشنی

میرے دلِ صد چاک پر

وہ بچپن اوروہ سادگی
وہ رونا وہ ہنسنا کبھی
پھر وہ جوانی کے مزے
وہ دل لگی وہ قہقہے
وہ عشق وہ عہدِ و فا
وہ وعدہ اور وہ شکریہ
وہ لذتِ بزمِ طرب
یاد آتے ہیں ایک ایک سب


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481