اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"موریہ رے موریہ میٹھو توں بولیو” پرندے کا گیت

IMG 20240316 WA0378

موریہ رے موریہ میٹھو توں بولیو

حسین پرندے کے لاڈ کا گيت
بھارومل امرانی سوٹہڑ

"موریہ رے موریہ میٹھو توں بولیو” تھر کا مشہور و مقبول لوک گیت ہے جو مور جیسے حسین پرندے کا لاڈ کرتے ہوئے صحرائے تھر کے لوگ ساون رت میں گاتے ہیں۔ تھر کے لوگوں کی موروں سے محبت کے حوالے سے سندھی زبان کی کہاوت ہے کہ ’مینھن مور ۽ محبوب ٿرین جی ڪمزوری آھن‘ یعنی بارش مور اور محبوب تھریوں کی کم زوری ہیں۔ تھر کے فطرت پرست انسانوں کے لیے ‘مور پرندہ دیوتاؤں کا رتبہ رکھتا ہے’ وہ مور کو پرندہ نہیں بلکہ ایک ایسے پیار کا مظہرسمجھتے ہے جس میں حساسیت، خوب صورتی اور انسان دوستی اہم ہوتی ہے۔ موروں کی حساسیت اور انسان دوستی بہت مشہور ہے۔ ڈراؤنی آواز سننے سے ڈر جانے والا پرندہ صحرا میں سانپ کو دیکھ کر چین سے نہیں بیٹھتا۔ وہ جنگل میں زمین پر رینگتے ہوئے سانپ کو پکڑتا ہے اور نیچے گرا گرا کر مار دیتا ہے۔

 

موسمِ گرما میں ریت کے بلند ٹیلوں پر جب گرم صحرائی ہوا چلتی ہے تب تھر کے مور اور مارو لوگ بادلوں کو پکارتے ہیں۔ گھنگھور گھٹا برسنے سے ہر طرف ہریالی ہو جاتی ہے۔ ریتلے ٹیلوں ہر بارش مور اور محبوب سے محبت کے گیت گونجنے لگتے ہیں۔ اگر بارش نہ برسے تو قدرت کے اس حسین اور وسیع صحرا کے کینوس پر گرم ہوا سے ریت کے نت نئے نقوش بنتے اور مٹتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی قحط کے دکھوں میں تھر کے مارو لوگ اور مور پیاس پیتے اور جیتے ہیں۔

بارش ہو یا قحط مور رقص کے بعد رونے لگتا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ مور کی مادہ مورنی مور کے وہ آنسو صحرا کی ریت پر گرنے سے قبل پی لیتی ہے، اور ان آنسوؤں سے ایک اور مور جنم لیتا ہے، مگر اس بات کو سائنسی طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ مور بھی باقی پرندوں کی طرح افزائش کے عمل سے گزرتا ہے۔ تھر میں موروں کی افزائش بارشوں کے بعد ہوتی ہے۔ اگست اور ستمبر میں مورنیاں انڈے دیتی ہیں۔ مور اور مادہ مورنی دونوں کے سر پر تاج ہوتا ہے۔جب کہ مادہ مورنی کی رنگت نر مور کی بہ نسبت پھیکی پھیکی سی لگتی ہے۔ نر مور کا سر،سینہ اور گردن نیلے رنگ کے ہوتے ہیں، اور دم کے پروں میں آنکھ نما تکونیں بھی پائی جاتی ہیں۔ لمبی اور بخمل نما نازک دُم یعنی پروں کے باوجود مور انتہائی تیزی سے درخت اور جھاڑیوں کے درمیان بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ عام طور پر نر مور کے ساتھ تین سے چار مورنیاں ہوتی ہیں، جو کہ ‘بریڈنگ’ کے وقت الگ ہوجاتی ہیں۔

IMG 20240317 WA0187
تھر کے ہر گاؤں میں موروں کے بسیرے ہیں۔ لوگ انھیں اپنے گھر کا فرد تصور کرتے ہیں۔ موروں کی خوشی خوشی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی یہ پرندے گھروں میں ڈیرے ڈالتے ہیں جہاں خواتین، بچے اور بڑے انہیں دانہ ڈالتے ہیں۔ اکثر گھروں میں رسوئی اور گھر کے آنگن میں لسی بلونے والی خواتین کے ارد گرد مور گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ موروں سے محبت کرتے ہوئے مائیں اپنے بچوں کے نام ‘مور’ رکھتی ہیں۔ بچوں کا لاڈ کرتے ہوئے ایک لوک گیت گاتی ہیں کہ "مور تھو ٹلے رانا” تھر کے دیہاتوں میں کسی کی تحسین کرنی ہو تو کہتے ہیں کہ ‘واہ مور واہ ‘

عام طور پہ کہا جاتا ہے ‘جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا’ لیکن تھر کے موروں کی خوب صورتی اور تھر کی صبح کے دل کش مناظر دیکھنے کے لیے ساون رت میں لوگ صبح سویرے تھر کے دیہاتوں میں پہنچ جاتے ہیں۔جہاں سینکڑوں اور درجنوں مور پنکھ کھولے رقص میں محو ہوتے ہیں۔ لوگ یہ منظر دیکھ کر بے اختیار کہتے ہیں کہ تھر کے ریتیلے ٹیلوں اور پرسکون لمحات کا فطری حسن ان موروں کے بغیر ادھورا ہے۔

IMG 20240317 WA0190
موسم کے اعتبار سے سال میں ایک بار مور کے پنکھ جھڑ جاتے ہیں اور بعد میں نئے پنکھ نکل آتے ہیں۔ مور کے پنکھوں کی بہت مانگ ہوتی ہے لوگ مقدس کتابوں میں اور درگاہوں میں پنکھ رکھنے کے ساتھ گھروں میں بھی سجا کر رکھتے ہیں۔ مور کے پنکھوں سے مختلف شو پیش بنتے ہیں۔ ہوا کے لیے موروں کے پروں سے بنائی ہوئی دستی پنکھی بہت مشہور ہے۔

تھر کے لوک شاعر چندی رام بھاٹ سے جدید سندھی شاعری کے معروف شاعر شیخ ایاز نے پو چھا کہ مور پارکر کا ہے یا گجرات کا ؟ چندی رام نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مور پارکر کا ہے نہ گجرات کا، مور نیلے آسمان کا ہے۔ مگر کارونجھر پر خوب صورت لگتا ہے ۔
چندی رام اپنے ایک شعر میں کہتا ہے کہ :

 

کارونجھر ری کور مریں تو پن مہلیں نہیں
ماتھے ٹہوکے مور ، ڈونگر لاگے ڈیپتو
یعنی: اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس کارونجھر پہاڑ کو مت چھوڑنا جس پر کھڑا مور جب بولتا ہے تو سارا پہاڑ چراغ کی مانند روشن ہوجاتا ہے۔

ارے موریہ رے موریہ میٹھو تون بولیو گڑتی رات نوں،
آچھو تون بولیو گڑتی رات نوں۔
تھانے پرناواں آکھاٹیج رو چوتھ رو،
تھانرا پانچم را پھیرا کہجیں چار رے،

ارے موریہ رے موریہ میٹھو تون بولیو گڑتی رات نوں،
آچھو تون بولیو گڑتی رات نوں۔
تھانے پرناواں پیلے پومچے رے پومچے،
تھانرے چوڑلئے لگاڑاں لال مجیٹھ رے،
ارے موریہ رے موریہ میٹھو تون بولیو گڑتی رات نوں،
آچھو تون بولیو گڑتی رات نوں۔
تھانرے باگان میں کانہیں کانہیں نپجے،
نپجے ڈاڑم پہلی ڈاکھ رے،

ارے موریہ رے موریہ میٹھو تون بولیو گڑتی رات نوں،
آچھو تون بولیو گڑتی رات نوں۔
محلے چڑہتی پایل باجنی رے باجنی،
تھانری اڈاڑتی انکھیاں ری نیند رے،

ارے موریہ رے موریہ میٹھو تون بولیو گڑتی رات نوں،
آچھو تون بولیو گڑتی رات نوں۔

ترجمہ :
ارے موریہ رے موریہ میٹھا تو بولا ہے گذرتی ہوئی شب میں،
ارے موریہ رے موریہ میٹھا تو بولا ہے برستی ہوئی رات میں،
اچھا تو بولا ہے گذرتی ہوئی رات میں۔۔
ارے موریہ تیرا بیاہ کراؤں آکھا تیج پر چھوتھ پر،
پانچم پر تیری چونری کے پھیرے ہوں گے چار رے،
ارے موریہ رے موریہ میٹھا تو بولا ہے گذرتی ہوئی شب میں،
ارے موریہ رے موریہ میٹھا تو بولا ہے برستی ہوئی رات میں،
اچھا تو بولا ہے گذرتی ہوئی رات میں۔۔۔
تیرا بیاہ کراؤں پہنا کر پیلا پومچا رے پومچا،
تیرے چوڑلے پر لگاؤں لال مجیٹ رے موریہ،
ارے موریہ رے موریہ میٹھا تو بولا ہے گذرتی ہوئی شب میں،
ارے موریہ رے موریہ میٹھا تو بولا ہے برستی ہوئی رات میں،
اچھا تو بولا ہے گذرتی ہوئی رات میں۔۔۔
تیرے باغوں میں کہیں کہیں سینچے ہے،
سینچے ہے انار سے پہلے انگور رے،
ارے موریہ رے موریہ میٹھا تو بولا ہے گذرتی ہوئی شب میں،
ارے موریہ رے موریہ میٹھا تو بولا ہے برستی ہوئی رات میں،
اچھا تو بولا ہے گزرتی ہوئی رات میں ۔۔
محل چڑھتے پایل باجے رے باجے،
تیری اڑاتی آنکھوں کی نیند رے،
ارے موریہ رے موریہ میٹھا تو بولا ہے گذرتی ہوئی شب میں،
ارے موریہ رے موریہ میٹھا تو بولا ہے برستی ہوئی رات میں،
اچھا تو بولا ہے گذرتی ہوئی رات میں۔۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481