اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آئیے ماتم کریں۔۔۔۔بہرحال میں مایوس نہیں ہوں

Let's mourn. However, I am not disappointed

نوٹ: یہ ذرا طویل تحریر ہے، جو دوست طول طویل تحریروں سے گھبراتے ہیں وہ عنوان پڑھ کر کام چلا لیں).

ہم پنجاب اسمبلی کے سامنے شاہراہ قائد اعظم پر کھڑے آئین پاکستان کی شق 251 میں سسی پلیجو کی مجوزہ ترمیم کو سینٹ میں پیش کیے جانے کی منظوری دینے کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے. 30 سے 40 لوگ تھے. وہاں سے لاہور کے ایک مقامی شاعر گزرے محترمہ فاطمہ قمر نے انہیں کہا کہ آئیے ہمارے ساتھ شامل ہو جائیے. انہوں نے کوئی جواب تو نہ دیا تاہم ایک تمسخر بھری مسکراہٹ سے ایک اشارہ کیا جس کا مفہوم تھا، "لگے رہو”.
ہم کھڑے تھے نعرے لگا رہے تھے بینر اور پلے کارڈ فضا میں بلند کر رہے تھے، وہاں سے گزرنے والوں کا عمومی رویہ وہی تھا جو لاہور کے اس مقامی شاعر کا تھا، کچھ تمسخر، کچھ حیرت، کچھ مایوسی اور کچھ یہ کہ اس کی کیا ضرورت ہے، پھر یہ کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ایسا کبھی نہیں ہوگا.
70 سال، 70 سال کچھ کم عرصہ نہیں ہوتا، وہ کام جو روز اول ہو جانا چاہیے تھا آج 70 سال بعد بھی ہم اس کے لئے سرگرداں ہیں، مارے مارے پھر رہے ہیں، چلیں ہمیں احساس تو ہے؛ کیا ہوا ہے، کیا ہو رہا ہے، کیا ہونے والا ہے، وہ ، وہ جنھیں یہ احساس تک نہیں ہے.
1973 میں آئین منظور ہوا، اس میں نفاذ اردو کے لئے 15 برس کی مدت طے کی گئی، میرے نزدیک تو یہ 15 برس کی مدت بھی نفاذ اردو کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے رکھی گئی تھی، قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے والی بات تھی، میں آج بھی سوچتا ہوں کہ ان ظالموں نے کس بے دردی اور سفاکی سے اس قوم کو اس کے راستے سے بھٹکا دیا، اور قوم بھٹک گئی. ضیاءالحق کے جہاں اور بہت سے جرائم ہیں ان میں سے ایک بہت بڑا جرم نفاذ اردو کی پندرہ سالہ مدت میں (جس میں سے 11 سال اس نے حکومت کی) اردو کو نافذ نہ کرنا تھا. 14 اگست 1988 کو نفاذ اردو کی آئین میں دی گئی مدت ختم ہوئی، اردو کا نفاذ نہ کیا گیا اور 17 اگست کو جنرل ضیا کا طیارہ فضا میں پھٹ گیا.
اس کے بعد اس قوم کے مزید 27 سال ضائع کر دیے گئے، اردو نافذ نہ کی گئی تا آنکہ 8 ستمبر 2015 کو عدالت عظمیٰ پاکستان نے پاکستان میں فوری اور بلا تاخیر اردو کے نفاذ کا حکم صادر کیا.
یہ اس قدر بڑا فیصلہ تھا، اس قدر بڑا کہ 14 اگست 1947 کے اعلان آزادی کے بعد پاکستان کے لئے سب سے بڑا فیصلہ تھا.
ادھر فیصلہ جاری کیا گیا ادھر اس وقت کے وزیر اعظم نے انگریزی سکھانے کے لئے ایک استانی کو بھرتی کیا اور اس استانی نے موصوف کو اس قدر اعلی’ انگریزی سکھائی کہ آنجناب پرچیوں کے سہارے صدر اوبامہ سے گفتگو کرنے کے قابل ہو گئے. آنجناب نے اپنی باقی مدت ملازمت میں انگریزی میں اس قدر تقریریں کر ڈالیں جتنی شائد آج تک پاکستان کے سارے صدور اور وزرائے اعظم نے کل ملا کر نہ کی ہوں گی. محترم انگریزی بولنے میں اس قدر آسانی اور روانی محسوس کرنے لگے کہ چینیوں، جرمنوں، ترکوں اور ایرانیوں کو اس وقت اپنی انگریزی سناتے چلے جاتے تھے جب وہ اپنی اپنی زبان میں بات کر رہے ہوتے تھے. موصوف کا دوسرا کمال ایک عدد نفاذ اردو کمیٹی کا قیام تھا جس کا سربراہ اردو کے ایک بہت بڑے، بہت بڑے، بہت ہی بڑے انشا پرداز کو بنایا جن کے ذمے اردو کے نفاذ کی رہ میں ہر وہ رکاوٹ ڈالنا تھا جس سے اس ملک میں اردو کبھی نافذ نہ ہو سکے. موصوف کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا از حد زیادتی کی بات ہوگی، یہ ان کا ہی کمال ہے کہ آج اڑھائی سال کی مدت گزر جانے کے بعد بھی اس ملک میں اردو کے نفاذ کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہے.
ہماری قوم کا مقیاس ذہانت (آئی کیو لیول)
ہماری قوم کا مجموعی مقیاس ذہانت صفر سے تھوڑا ہی کم ہے، اور جہاں تک ہمارے عوامی نمایندوں کی بات ہے ان کا مقیاس ذہانت اس قوم کے مقیاس ذہانت سے کہیں کم ہے. فروری 2014 میں ماروی میمن نے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جو پاکستان کی سالمیت، یکجہتی اور آزادی کے خلاف ایک گھناؤنی سازش اور اس ملک کو جہالت، پسماندگی، ذلت اور گمراہی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غرق کر دینے کی کوشش تھی. یہ بل غلاظتوں، تضادات اور انگریزی کی بے شمار غلطیوں سے لبالب بھرا ہوا تھا، اس پر دس سے زیادہ اراکین اسمبلی کے دستخط تھے جن میں داماد بامراد بھی شامل تھے. اس بل کو سمجھنا تو دور کی بات ہے دستخط دہندگان نے پڑھنے تک کی زحمت گوارا نہ کی، اگر ان میں سے کوئی اس بل کو پڑھ لیتا تو شائد اس کو اسمبلی میں پیش کرنے کی نوبت ہی نہ آتی. بہرحال قومی اسمبلی کے بیدار مغز رکن (اور تب وفاقی وزیر) جناب محمود بشیر ورک نے اس بل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے مسترد کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ماروی میمن کے مکروہ بل کے بعد ہم سمجھے کہ شاید پاکستان دشمنوں کے عزائم کمزور پڑ گئے ہوں گے مگر ان کو جن سرپرستوں سے ساری ہدایات اور کمک ملتی ہے وہ ان لوگوں کو چین سے کہاں بیٹھنے دیتے ہیں۔ اس بار پاکستان پر حملہ سینٹ آف پاکستان کے اندر سے کیا گیا اور حملہ کرنے والے مختیار ڈھامرا اور سسی پلیجو تھے۔
اب مقیاس ذہانت کی کمی کی بات میں کیوں کرتا ہوں۔
ماروی میمن کے بل اور سسی پلیجو کے بل میں بے شمار مماثلتیں ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ نہ اس بل کو پڑھا گیا نہ اس بل کو پڑھا گیا۔ اس بل کو بھی کسی نے نہ سمجھا، اس بل کو بھی کسی نے نہ سمجھا۔ یہ بل بھی اس بل کی طرح پاکستان کی آزادی سالمیت اور یکجہتی ہر حملہ ہے۔ اس بل کا مقصد بھی پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہالت، اندھیروں، پستیوں اور ذلتوں کے سپرد کرنا یے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے ارکان اسمبلی کس قدر جاہل، احمق اور کودن ہیں۔ یہ اس ملک اور اس کے باسیوں کے لیے کیا اور کیسا سوچتے ہیں۔
اس ملک پر انگریزی کا تسلط دنیا کی سب سے بڑی سفاکیت اور درندگی ہے، چاہئے تو یہ تھا کہ یہ اسمبلی جو پاکستان کی اسمبلی ہے اس کے اندر سے اس کے خلاف آواز بلند ہوتی، اگر ان بد بختوں کے نصیب میں ایسا کرنا نہیں لھا تو کم از کم عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے ہی یکسو ہو جاتے۔ پھر ماروی میمن اور اب سسی پلیجو کا بل کیا پاکستان کے حق میں اس سے مہلک بھی کوئی بات ہو سکتی ہے۔ ان لوگوں میں اس بات کی اہلیت تک نہیں کہ پاکستان کے خلاف اس ناپاک بل کو پہچان سکیں، اس کا راستہ روک سکیں۔ کیا آپ کو علم ہے کہ جس قائمہ کمیٹی نے اس بل کو سینیٹ میں پیش کرنے کی منظوری دی ہے اس کا سربراہ ن لیگ سے ہے اس کے ارکان میں ن لیگ، فنکشنل لیگ، ایم کیو ایم او پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ مجھے تو پیپلز پارٹی کی سمجھ نہیں آتی وہ پارٹی جس کے دور اقتدار میں آئین منظور کیا گیا جس کی ایک شق (251) پاکستان میں نفاذ اردو سے متعلق ہے۔ کیا بھٹو غلط تھا، کیا زرداری اور اس کے ساتھی بھٹو اور اس کے ساتھیوں سے زیادہ دور اندیش، زیرک اور دانا ہیں۔
عدالت عظمٰی کہاں یے، اس کے فیصلے کی آئین پاکستان کی اس قدر کھلی توہین ہو رہی ہے، جو بات آئین میں لکھی ہے جو عدالت عظمٰی کا حکم ہے جو اس ملک کے عوام کی غالب اکثریت کی زبان ہے، وہ زبان جو اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کی زبان ہے، وہ زبان جو پاکستان میں علم، سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت کے فروغ کی زبان ہے اس کا راستہ روکا جا رہا ہے اس بات کا نوٹس کب لیا جائے گا؟
اور اس ملک کے عوام کب جاگیں گے، کب ان کو احساس ہوگا کہ ان کے ساتھ کس قدر کھلا ظلم، بربریت اور سفاکی کی جا رہی ہے، ان کی نسلوں کو برباد کر دیا گیا ہے۔ تعلیمی اخراجات ہوش ربآ حد تک بڑھ چکے ہیں اور اس کا واحد سبب تعلیم کا ایک غیر ملکی زبان میں دیا جانا ہے۔ دنیا تعلیم دینے کے لئے آسانی کا انتخاب کرتی ہے پاکستان میں تعلیم دینے کے عمل کو پیچیدہ اور مشکل ترین بنا دیا گیا ہے۔ دنیا میں کہیں نہیں ہو رہا جو پاکستان میں یو ریا ہے۔ تین ساڑھے تین سال کے بچے، تین ساڑھے تین سال کے بچے دنیا میں کہیں نہیں مگر پاکستان میں ہے ان کی ذہانتوں کو اسی عمر میں غیر ملکی زبان کے ٹیکے لگا لگا کر مفلوج کر دیا جاتایے۔
پھر ماروی میمن اور سسی پلیجو پاکستان دشمن بل اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرتی ہیں کوئی ان کو پڑھتا نہیں ہے، سمجھتا نہیں ہے مگر اس بل کو اس بل کو منظور کرنے کے راستے پر ڈال دیا جاتا یے۔
بہر حال جو کچھ بھی ہے، جو کچھ بھی ہے، اس قوم کو جاگنا ہے، اس کو سیدھے راستے پر چلنا ہے۔ اس کو آزادی کے ترقی کے خوشحالی کے علم کے راستے پر چلنا ہے، چلنا ہی چلنا یے۔
میں اپنے رب سے اس کی عطاؤں سے ہرگز ہرگز بھی مایوس نہیں ہوں۔ ملک پاک میں اس کی زبان اردو نے نافذ ہونا ہی ہونا ہے، ان شاءاللہ

محمد سلیم ہاشمی
نائب صدر
پاکستان قومی زبان تحریک


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481