Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the jetpack domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جگر مراد آبادی آخری زمانہ میں بہت مذہبی ہو گئے تھے

images 1

جگر مراد آبادی کا نام علی سکندر تھا اور وہ 1890ء میں مراد آباد میں پیدا ہوئے۔ جگر کو شاعری ورثہ میں ملی تھی، ان کے والد مولوی علی نظر اور چچا مولوی علی ظفر دونوں شاعر تھے اور شہر کے با عزت لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ جگر کے مورث اعلی محمد سمیع دہلی سے تعلق رکھتے تھے اور شاہجہاں کے دربار سے وابستہ تھے لیکن شاہی عتاب کے نتیجہ میں مرادآباد میں آ کر بس گئے تھے۔ جگر کے والد، خواجہ وزیر لکھنؤی کے شاگرد تھے،

ان کا مجموعۂ کلام باغ نظر کے نام سے ملتا ہے۔ جگر کی ابتدائی تعلیم گھر پر اور پھر مکتب میں ہوئی مشرقی علوم کے حصول کے بعد انگریزی تعلیم کے لئے انہیں چچا کے پاس لکھنؤ بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے نویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ ان کو انگریزی تعلیم سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نویں جماعت میں دو سال فیل ہوئے تھے۔ اسی عرصہ میں والد کا بھی انتقال ہو گیا تھا اور جگر کو واپس مرادآباد آنا پڑا تھا۔ جگر کو زمانۂ تعلیم سے ہی شاعری کا شوق پیدا ہو گیا تھا لیکن طالب علمی کے زمانہ میں وہ اسے منظر عام پر نہیں لائے۔ جگر آزاد طبیعت کے مالک تھے اور بیحد حسن پرست تھے۔ تعلیم ترک کرنے کے بعد ان کے چچا نے انہیں مرادآباد میں ہی کسی محکمہ میں ملازمت دلا دی تھی اور
مرادآباد سے بھاگ کر جگر آگرہ پہنچے اور وہاں اک چشمہ ساز کمپنی کے سفری ایجنٹ بن گئے۔ اس کام میں جگر کو جگہ جگہ گھوم کر آرڈر لانے ہوتے تھے۔ شراب کی لت وہ زمانہ طالب علمی ہی میں لگا چکے تھے۔ ان دوروں میں شاعری اور شراب ان کی ہمسفر رہتی تھی۔

آگرہ میں انہوں نے وحیدن نام کی ایک لڑکی سے شادی کر لی تھی۔ وہ اسے لے کر اپنی ماں کے پاس مرادآباد آ گئے۔ کچھ ہی دنوں بعد ماں کا انتقال ہوگیا۔جگہ جگہ سفر کی وجہ سے جگر مختلف مقامات پر بطور شاعر متعارف ہو چکے تھے۔ شاعری کے ارتقائی مرحلہ میں بھی جگراس طرح کے اچھے شعر کہہ دیے تھے۔ "ہاں ٹھیس نہ لگ جائے اے درد غم فرقت*دل آئینہ خانہ ہے آئینہ جمالوں کا” اور "آہ رو لینے سے بھی کب بوجھ دل کا کم ہوا*جب کسی کی یاد آئی پھر وہی عالم ہوا”۔ کچھ شاعری کی مقبولیت کا نشہ، کچھ شراب کا نشہ اور کچھ پیشہ کی ذمہ داریاں، غرض جگر بیوی کو چھوڑ کر مہینوں گھر سے غائب رہتے اور کبھی آتے تو دوچار دن بعد پھر نکل جاتے۔ بیوی اپنے زیور بیچ بیچ کر گھر چلاتی۔ جب کبھی گھر آتے تو زیوربنوا بھی دیتے لیکن بعد میں پھر وہی چکّر چلتا۔
جگر بہت جذباتی، مخلص، صاف گو، محب وطن اور ہمدرد انسان تھے۔ کسی کی تکلیف ان سے نہیں دیکھی جاتی تھی وہ کسی سے مرعوب بھی نہیں ہوتے تھے۔ لکھنؤ کے وار فنڈ کے مشاعرہ میں، جس کی صدارت ایک انگریز گورنر کر رہا تھا، انہوں نے اپنی نظم "قحط بنگال” پڑھ کر سنسنی مچا دی تھی۔ کئی ریاستوں کے والی ان کو اپنے دربار سے وابستہ کرنا چاہتے تھے اور ان کی شرائط ماننے کو تیار تھے لیکن وہ ہمیشہ اس طرح کی پیشکش کو ٹال جاتے تھے۔ ان کو پاکستان کی شہریت اور عیش و آرام کی زندگی کی ضمانت دی گئی تو صاف کہہ دیا جہاں پیدا ہوا ہوں وہیں مروں گا۔ گوپی ناتھ امن سے ان کے دیرینہ تعلقات تھے۔ جب وہ ریاستی وزیر بن گئے اور ایک محفل مشاعرہ میں ان کو شرکت کی دعوت دی تو وہ محض اس لئے شریک نہیں ہوئے کہ دعوت نامہ وزارتی لٹر ہیڈ پر بھیجا گیا تھا۔ پاکستان میں ایک شخص جو مرادآباد کا ہی تھا ان سے ملنے آیا اور ہندوستان کی برائی شروع کر دی۔ جگر کو غصہ آ گیا اور بولے، ’’نمک حرام تو بہت دیکھے آج وطن حرام بھی دیکھ لیا۔ ‘‘

جگر آخری زمانہ میں بہت مذہبی ہو گئے تھے۔ 1953ء میں انہوں نے حج کیا۔ زندگی کی بے اعتدالیوں نے ان کے اعضائے رئیسہ کو تباہ کر دیا تھا۔ 1941 میں ان کو دل کا دورہ پڑا۔ ان کا وزن گھٹ کر صرف 100 پونڈ رہ گیا تھا۔ 1958 میں انہیں دل اور دماغ پر قابو نہیں رہ گیا تھا۔ لکھنؤٔ میں انہیں دو بار دل کا دورہ پڑا اور آکسیجن پر رکھے گئے۔ خواب آور دواؤں کے باوجود رات رات بھر نیند نہیں آتی تھی۔ 1960 میں ان کو اپنی موت کا یقین ہو گیا تھا اور لوگوں کو اپنی چیزیں بطور یادگار دینے لگے تھے۔

جگر ایسے شاعر ہیں جن کی غزل قدیم تغزّل اور بیسویں صدی کے وسط و اواخر کی رنگین نگاری کا خوبصورت امتزاج ہے۔ جگر شاعری میں اخلاقیات کا درس نہیں دیتے لیکن ان کی شاعری کا اخلاقی معیار بہت بلند ہے۔ وہ تغزّل کے پردہ میں انسانی خامیوں پر ضربیں لگاتے گزر جاتے ہیں۔ جگر نے قدیم اور جدید تمام شعراء کی فکر سے استفادہ کیا۔ وہ بہت زیادہ آزاد نہ سہی لیکن مکتبی معائب سخن کی زیادہ پروا نہیں کرتےتھے۔ وہ فکر اور غنائیت کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر قربان نہیں کرتے۔ ان کا کلام بے ساختگی اور آمد سے معمور ہے سرمستی اور دلفگاری، تاثر اور سرشاری ان کے کلام کی نمایاں خصوصیت ہے۔ ان کی زندگی اور ان کی شاعری میں مکمل مطابقت ہے محاکات کے اعتبار سے اکثر مقامات ایسے ملیں گے کہ مصور کے تمام کمالات ان کی تصویر کشی کے سامنے ہیچ نظر آئیں گے۔ جگر حسن و عشق کو مساویانہ درجہ دیتے ہیں ان کے نزدیک حسن اور عشق دونوں ایک دوسرے کا عکس ہیں۔ جگر نے تغزل کو معراج کمال تک پہنچا دیا اور یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔

کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
‏جب تک ہمارے پاس رہے، ہم نہیں رہے

‏ایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہے
‏اے عشق شادباش کہ تنہا ہمیں رہے

‏یارب کسی کے رازِ محبت کی خیر ہو
‏دستِ جنوں رہے نہ رہے، آستیں رہے

‏دردِ غمِ فراق کے یہ سخت مرحلے
‏حیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم، اتنے حسیں رہے

‏جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر
‏اے عشق ! ہم تو اب تیرے قابل نہیں رہے

‏مجھ کو نہیں قبول دو عالم کی وسعتیں
‏قسمت میں کوئے یار کی دو گز زمیں رہے

‏اللہ رے چشمِ یار کی معجز بیانیاں
‏ہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے

‏اس عشق کی تلافیء مافات دیکھنا
‏رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے

‏( جگر مراد آبادی)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481