اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

محسن نقوی کے وزیر بنانے پر پی ٹی آئی معترض کیوں؟

محسن نقوی 3سال کیلئے بلامقابلہ چیئرمین پی سی بی منتخب

پیر کے روز حلف اٹھانے والی وفاقی کابینہ میں زیادہ تر پرانے چہرے ہیں جو اس سے قبل بھی کئی مرتبہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں کابینہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ان میں خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا تنویر حسین، سینیٹر اسحاق ڈار، سینیٹر مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ، ریاض حسین پیرزادہ اور اویس لغاری شامل ہیں .

 

نئی کابینہ میں 18 وزرا کے علاوہ ایک وزیر مملکت شزا فاطمہ خواجہ کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اب تک کی کابینہ میں واحد خاتون رکن ہیں۔سابق نگران وزیراعلیٰ پنجاب اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن رضا نقوی اور محمد اورنگزیب پہلی مرتبہ وفاق کی سطح پر کابینہ کا حصہ بن رہے ہیں۔ان کے علاوہ سابق بیوروکریٹ احد چیمہ شہباز شریف کی گذشتہ حکومت میں بھی معاون خصوصی رہ چکے ہیں۔توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے مرحلے میں کابینہ میں مزید افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں اور اس کا حجم بڑھ جائے گا۔ تاہم موجودہ 18 رکنی وفاقی کابینہ میں چند ایسے افراد بھی شامل ہیں جو اس سے قبل وفاقی سطح پر کبھی کابینہ کا حصہ نہیں رہے.

بی بی سی کے مطابق جب وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے محسن نقوی کا نام تجویز کیا گیا تھا تو اُس وقت بھی اُن کے نام کو چند حلقوں کی جانب سے ’غیر متوقع‘ قرار دیا گیا تھا اور اس وقت خاص طور پر پاکستان تحریکِ انصاف نے ان کی نامزدگی پر اعتراض اٹھایا تھا۔اس وقت بھی پی ٹی آئی ان پر شدید معترض ہے اور ایک پارٹی رہنما کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کے ہوتے ہوئے حکومت سے کسی قسم کہ مذاکرات نہیں ہو سکتے.محسن نقوی کو صدر زرداری کی خصوصی قربت بھی حاصل ہے.واضح رہے کہ محسن نقوی کو وزارت داخلہ کا قلمدان دیا گیا ہے,اور اُن کے بارے میں عمومی تاثر ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ساتھ سختی سے پیش آئیں گے.

نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر ذمہ داریاں ختم کرنے سے قبل ہی محسن نقوی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا تھا۔نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر ان کے حوالے سے یہ تاثر قائم ہوا کہ انھوں نے بہت سے تعمیراتی پراجیکٹس غیر معمولی تیز رفتاری سے مکمل کرائے۔تاہم 2023 میں سیاست کا آغاز کرنے والے محسن نقوی کا اس سے قبل کوئی سیاسی پس منظر نہیں تھا۔وہ بنیادی طور پر صحافی ہیں جنھوں نے لاہور میں پہلی مرتبہ ایک مقامی ٹی وی چینل سٹی 42 کے نام سے قائم کیا تھا۔ اس کے بعد وہ میڈیا میں اپنے کاروبار کو بڑھاتے گئے اور انھوں نے 24 نیوز کے نام سے ایک نیشنل چینل کے علاوہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں ریجنل چینلز بنائے یا خرید لیے.پاکستان سے باہر لندن میں بھی ان کا ایک چینل سٹی 44 کے نام سے قائم ہے.

محسن نقوی کی طرح عالم خان کا تعلق بھی میڈیا سے ہے اور وہ ایک بڑے نیوز چینل سماع نیوز کے مالک ہیں.

 2018  تک عبدالعلیم خان سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے رہے ہیں.اُنہیں نجکاری کا قلمدان دیا گیا ہے.

ان کے بارے میں ن لیگ کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا تھا کہ وہ تحریک انصاف کی مالی طور پر کافی امداد کرتے ہیں۔

سنہ 2018 میں اُن کا نام پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر بھی سامنے آیا لیکن قرعہ فال عثمان بزدار کے نام نکلا۔

 عثمان بزدار کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد عبدالعلیم خان کو پنجاب کا سینیئر وزیر مقرر کیا گیا۔ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد ان کے عمران خان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے.

سینیئر وزیر ہوتے ہوئے بھی انھیں  نیب نے گرفتار کر لیا تھا۔  2022 میں علیم خان باقاعدہ طور پر اُس وقت کے ’فارورڈ بلاک‘ میں شامل ہو گئے جس میں جہانگیر ترین کی سرپرستی میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔

تاہم منحرف ارکان کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے پر علیم خان بھی دیگر ممبران کی طرح اپنی نشست کھو بیٹھے۔

صحافی اور تجزیہ نگار ماجد نظامی کہتے ہیں کہ اسی دور میں علیم خان نے لندن میں ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی۔

تاہم حالیہ عام انتخابات سے قبل علیم خان نے جہانگیر ترین کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی جماعت استحکام پاکستان پارٹی کی بنیاد رکھی اور اسی کے ٹکٹ پر انھوں نے الیکشن میں حصہ لیا۔ ن لیگ نے کئی نشستوں پر ان کی جماعت کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی۔ علیم خان کی لاہور سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی نشستیں ان میں شامل تھیں۔ وہ دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے۔

عالم خان نے نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر سنہ 2013 کے عام انتخابات، سنہ 2015 کے ضمنی انتخابات اور پھر سنہ 2018 میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر عام انتخابات میں حصہ لیا تاہم کامیابی انھیں صرف سنہ 2018 کے  الیکشن میں صوبائی  نشست پر ملی۔

کس کو کون سے وزارت ملی؟

وفاقی کابینہ  کے ارکان کے قلم دانوں کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے جس کے مطابق خواجہ محمد آصف وزیر دفاع ہوں گے، اس کے ساتھ دفاعی پیداوار اور ایوی ایشن کا اضافی چارج بھی انہیں دیا گیا ہے۔سنیٹر اسحاق ڈار کو وزارت خارجہ، محمد اورنگزیب کو وزارت خزانہ ۔ محسن نقوی کو وزارت داخلہ اور انسداد منشیات۔ سنیٹر اعظم نذیر تارڑ کو قانون، عطا اللہ تارڑ کو وزارت اطلاعات و نشریات، احسن اقبال منصوبہ بندی و ترقیات، امیر مقام کو سیفران کے ساتھ وزارت قومی ورثہ کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے.

اویس لغاری ریلوے، سابق وزیراعلی بلوچستان جام کمال کامرس، مسلم لیگ قائد کےسالک حسین کو اوورسیز پاکستانیز، ریاض حسین پیر زادہ ہاؤسنگ اور ورکس، رانا تنویرحسین کو صنعت و پیداوار، متحدہ کے خالد مقبول صدیقی کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، عبدالعلیم خان کو وزیر نجکاری بنایا گیا ہے جبکہ بورڈ آف انوسٹمنٹنٹ کا اضافی چارج بھی ان کے پاس ہوگا، قیصر احمد شیخ کو میری ٹائم افیئرز، احد چیمہ کو اقتصادی امور کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کا اضافی چارج ، مصدق ملک کو پٹرولیم اور توانائی کی وزارت کا قلمدان دیا گیا ہے۔

خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی شزا فاطمہ خواجہ کو وزیر مملکت کا درجہ دیا گیا ہے۔وہ اب تک کابینہ میں شامل واحد خاتون رکن ہیں۔یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی صبح وفاقی کابینہ کی تقرری کے لیے صدر مملکت آصف علی زرداری کو سمری بھیجی تھی جس کی منظوری کے بعد کابینہ ارکان نے حلف اٹھایا۔نگراں دور کی وزیر خزانہ شمشاد اختر کا نام کابینہ میں شامل نہیں۔  اس سے قبل  شمشاد اختر کو معاون خصوصی برائے خزانہ اور بلال اظہر کیانی کو ممکنہ طور پر وزیر مملکت برائے خزانہ بنائے جانے کی خبریں بھی زیر گردش میں تھیں ، لیکن حتمی فہرست میں ان کا نام بھی شامل نہیں ہے۔

اسی طرح نگران دور کے وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کو وزیر مملکت برائے خارجہ اور سابق سفیر طارق فاطمی کو معاون خصوصی بنائے جانے کی بھی اطلاعات تھیں جبکہ سردار یوسف کو وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا قلمدان سونپے جانے کا امکان تھا تاہم وفاقی کابینہ کے پہلے مرحلے کیلئے ان کے نام بھی شامل نہیں ہیں۔

 

علاوہ ازیں وفاقی کابینہ کی مشاورت کے مرحلے میں خرم دستگیر، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ، حنیف عباسی، طلال چوہدری ، عرفان صدیقی، نوشین افتخار اور انوشہ رحمان کے نام بھی سامنے آرہے تھے لیکن ان تمام افراد کے نام وزیر اعظم کی صدر کو بھیجی گئی فہرست میں نام شامل نہیں ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں مزید ارکان کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا جس سے کابینہ کے حجم میں اضافے کا امکان ہے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481