اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ان ہی کے ٹرسٹ سے نکال دیا گیا

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ان ہی کے ٹرسٹ سے نکال دیا گیا

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ٹرسٹ کو ہتھیانے اور فنڈز میں خورد برد کا انکشاف سامنے آگیا

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ان ہی کے ٹرسٹ سے نکال دیا گیا اور جعلی دستاویزات پر ٹرسٹ ڈیڈ رجسٹر بھی کرالی۔

اس حوالے سے عبدالقدیر خان کی بیٹی ڈاکٹر دینا نے بتایا کہ والد کے ٹرسٹ کو جعل سازوں سے بچانےکے لیے انہوں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا

لیکن انہیں انصاف نہ ملا اورالٹا مخالفین نے ان کی ذات پر کیچڑ بھی اچھالا۔

ڈاکٹر ڈینا خان کہتی ہیں کہ جعل سازی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعد انہیں امید ہےکہ عدالتیں انصاف فراہم کریں گی اور وہ اپنے والد کا خواب پورا کر سکیں گی.

واضح رہے کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بناکر ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔ان کا خواب تھا کہ لاہور میں عوام کے مفت علاج کے لیے ایک اسپتال بنائیں۔

اس حوالے سے انہوں نے ایک بورڈ آف ٹرسٹ بنایا تھا۔پھر بعض ممبران کو انہوں نے اپنی زندگی میں ہی ٹرسٹ سے نکال دیا تھا،تاہم ان کی وفات کے بعد ان افراد نے جعلسازی کرکے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ہی ٹرسٹ سے نکال دیا اور جعلی دستاویزات پر ٹرسٹ ڈیڈ رجسٹر بھی کرالی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بیٹی کی 2 سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر مبینہ جعل سازوں کے خلاف لاہور میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں ڈاکٹر دینا نے بتایا کہ والد کے ٹرسٹ کو جعلسازوں سے بچانے کے لیے انہوں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا،لیکن انہیں انصاف نہ ملا اور الٹا مخالفین نے ان کی ذات پر کیچڑ بھی اچھالا۔ ڈاکٹر دینا خان نے کہا کہ جعل سازی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعد انہیں امید ہے کہ عدالتیں انصاف فراہم کریں گی اور وہ اپنے والد کا خواب پورا کرسکیں گی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481