اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"حسینہِ جمہوریت "

e147c049 23b1 482d a89f 618777ef7210

ہم لیٹ نائٹ ایک تقریب سے گھر کی گلی میں پہنچنے ہی والے تھے” کورے” کی وجہ سے” تراڑھ ” تھی ہم قدم پُھوک پھوک کر رکھ رہے تھے مبادا کہیں
” کھلیاں چڈیاں ” نہ جا پڑیں. جیسے ہی گلی میں داخل ہوۓ تو کیا دیکھتے ہیں ایک حسینہ ِ جمہوریت مغربی لبادے میں سر کھلے ہماری گلی میں کھڑی ہے ہم نے لاخولہ پڑھ کر "نیواں نیواں ” ہوکر” لنگنے ” کی کوشش کی مگر” اوتری ” نے پیچھے سے آواز دے ماری.. انگریزی میں جس کا لب ِ لباب یہ تھا کہ” حاجی ہُنڑ انج کرہسیں ” ہم نے منہ پر انگل رکھ کر اُسے چپ ہونے کا کہا کہ گلی میں چار گھر انسانوں کے اور ایک گھر” رب دا "ہے رب کی تو خیر ہے

” لکھ گناہ میرا مالک ویکھے پردے پاون والا”
مگر ایک گھر ہمارا بھی ہے اور
ہک گناہ تریمت ویکھے، دیوے گھروں نکالا

سو ہم نے احتیاط کو ملحوظ ِ خاطر رکھا اور اُس الف اللہ حسینہ جمہوریت کو آہستگی سے ریاضت کدے میں بٹھا کر گھر کا جائزہ لیا شُکرِ خدا کے گھر والے "کہوڑے شوڑے ویچ وٹا” کر لمے "کھڑونکوں” (خراٹوں ) پر تھے ہم نے پانی کا جگ بھرا اور ریاضت کدے میں پہنچے ہم نے پا نی گلاس میں ڈالنا چاہا تو اُس افرنگن نے "کانڑیں اکھ ” سے اشارہ کیا کہ کیا سادہ پانی پلاؤ گے؟ ہم سمجھے "شروت منگنی ” مگر وہ کسی” ہور دھرک ” میں تھی.. بولی انگلش میں رم وھسکی ویراز؟ اب اتنی ماڑی موٹی انگلش تو ہم بھی گھسیٹ لیتے ہیں، یعنی وہ گنڈا پوری شہد کا کہہ رہی تھی.. ہم نے کہا او مائِی جمہوریت… آئی ایم نتھنگ ڈرینگ کُپی

پتہ نہیں وہ سمجھی کہ نہیں.. خیر ہم نے کالی پتی کے قہوے کا "ست” کیا، جو اُس نے نہ قبولا ،بولی تم لوگ جمہوری لوگ نہیں ہو نہ تمہیں جمہوریت کی الف ب آتی ہے تمارے رویے جمہوری نہیں تم انپڑھ لوگ ہو ..  ہم نے کہا” اوماسی چھری تلے ساہ کہن ” وہ "بولی سچ کوڑا ہوند اے ” ہم نے قہوہ کا سپ لیا اور کہا” قہوہ وی کوڑا ہوندا اے "وہ بولی.. جب سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ،جمہوریت نہیں تو یہاں جمہوریت کیسے ہو سکتی ہے، جہاں باپ کے بعد بیٹا، بیٹے کے بعد پوتا، پھر اُسکی اگلی سات نسلیں پارٹی صدر چیرمین ہوں تو جمہوریت کسی ؟
ہم شرمندہ ہونے لگے تھے کہ ہمیں ایک پرانا گھسا پٹہ نامقولہ یاد آیا
” پنج پکا تے چھیویں چوُڑے بن ” وہ بولی یہ کیا ہے ہم نے کہا محترمہ یہ انتقام ہے، جمہوریت جو لے رہی ہے. وہ بولی، تم نے ہمارے ملک کا وزٹ کیا ؟ ہم نے کہا یس یس، تو بولی وہاں تم سے زیادہ فیوڈل لاڈز تھے ،جو تمارے جیسے انسان نما حشرات الارض پر صدیوں حکومت کر کے گۓ مگر اپنے وطن پہنچ کر بندے دے پُتر بن گۓ. یہ جمہوریت کا حسن ہے. ہم نے دل میں کہا واقعی تم بھی تو خوبصورت ہو تمہارا جمہوری نظام بھی” سوہنڑاں ” ہے
وہ بولی یہ دل ہی دل میں کیا
” ٹھڑک چہاڑ "رہے ہو اُچا بولو ?

ہم سمجھ گئے یہ کوئی قلندر ٹائپ حسینہ ہے، جھوٹ پکڑا جاۓ گا، ہم نے کہا، میڈم آپ سچ کہتی ہیں مگر یہاں کا رواج ہی الگ ہے. یہاں جو جتنا بڑا بہروپیا ہے وہ اتنا بڑا جمہوریہ ہے، تو اُس نے نیلی آنکھیں نکال کر کہا "شٹ اپ جو جمہوریت کو بُرا کہا تو، تم لوگ پہلے ایجوکیٹڈ ہو جاؤ ،جمہوریت کو تب سمجھو گے، تمہاری بلا جانے تلہ گنگ کتنی ڈگری پر ہے.. ہم "بدرہک” گۓ کہ یہ خالص محاورے کہاں سے سیکھ کر آئی ہے.. ہم نے بات بدلی اور کہا میڈم ہم سے سیاسی بحث مکوا… تو بولی پھر کیا کروں؟ ہم نے کہا یہ بڑے لوگوں کے سوچنے کے کام ہیں ہمارا کام ماہیے شاہیے گانا ہے تو بولی یوآرسنگر ؟ ہم نے کہا "يس لٹل لٹل, تو بولی کچھ” سٹو ” ہم نے شرماکر کہا "پلاسٹاں ” تو وہ بولی کیا کہا ہم نے کہا باجے پر” "پلاسٹاں” کے نیچے زوجہ ماجدہ محوِ خواب ہیں اگر اُٹھ گئی تو” دوہاں دی خیر نینھ ”

بس ہم نے گیت کی استھائی شروع کی اور انترا کہنے ہی والے تھے کہ وہ اوتری ڈانس وڈانس ہونے لگی ہم سمجھ گۓ” کی بلاجفا” پی کر آئی ہے اب تو رولا "پیوے ہی پیوے ”
اوپری منزل پر کمنبر ہو تو نیچے والے کیسے سوئیں؟
عدن بابا نے اوپر جھانکا اور ہم سمجھ گۓ
"کم لگ گیا ” تھوڑی دیر بعد زوجہ ماجدہ کو لیتے ہوے عدن بابا سچل میاں آگۓ، آگے ہم خود می رقصم می رقصم تھے… زوجہ نے کہا یہ آپ کو کیا ہوگیا ہے؟ آدھی رات کو… ہم نے ویسے ہی کہہ دیا کل ہماری شوٹینگ ہے. بس رزا ایک دوسٹپ ریہرسل کے فرمارہے تھے… تب وہ بولی اللہ اللہ کریں ہمساۓ سوۓ  ہوئےہیں.. ہم نے کہا فکر ناٹ.. ساری قوم سوئی ہوئی ہے، ہمارا کوئی ٹھیکہ نہیں جگانے کا ،ہمیں مست ماحول میں جینے دو
ہم نے کمرے میں چاروں طرف دیکھا وہ فرنگی پھپھا کُٹن کہیں نظر نہیں آئی، جیسے کبھی جمہوریت نظر نہیں آئی.. بس ہم پسینہ خشک کر کے اپنے روم میں آگئے..


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481