اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ساعتِ دید …. پروفیسر اشفاق کلیم عباسی کی نئی تخلیق

befbd004 904e 41f0 a89d 030eabd3b7c7

cb5c123c 5c06 4855 a923 9f8d9a1edc15
جس طرح کتاب کا نام منفرد ہے اسی طرح کلامِ کلیم بھی ساعتِ دید کا متقاضی ہے۔ آج پروفیسر اشفاق کلیم (ترقی پسند ) کے پہلے اردو شعری مجموعے "ساعتِ دید” کی تقریبِ رونمائی و پذیرائی منعقد ہوئی۔ جس میں سیاسی سماجی و ادبی شخصیات نے بھی  شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

شعر اظہار کا ایک منفرد و اچھوتا ذریعہ ہے اور شعر کہنا بلاشبہ ہر کسی کے بس کی بات بھی نہیں ۔ بھارہ کہو سے مری تک گاڑی میں چند صفحات پلٹنے کا موقع ملا، محمد آصف مرزا صاحب کا لکھا دیباچہ پڑھا، اور چند اشعار جو نظر سے گزرے اور جنہوں نے لکھنے پر مجبور کیا۔ آپ کی نذر کرتا ہوں۔ اشفاق کلیم صاحب لکھتے ہیں :

√ یہ ہمیں کھل کے مسلماں نہیں ہونے دیتے
کعبہ دل میں جو اصنام سجائے ہوئے ہیں
√ یہ جو اشعار کی صورت میں نکل آتی ہیں
حسرتیں ہیں جنہیں ہم دل میں دبائے ہوئے ہیں

اس کے علاوہ سیاست کی تلخیاں، خیالات اور نظریات میں تصام، رائے میں ہٹ دھرمی یہ سب ثانوی بحثیں ہیں۔ شعر و ادب انسان کا شعوری وصف ہے جس میں محرومیوں کا اظہار سب کا سانجھا ہوتا ہے۔ بہرحال اپنے گرد حائل دائروں سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے، صرف سنانے کی نہیں، سننے کا حوصلہ بھی لازم ہے۔ چونکہ ادب کے ساتھ ساتھ پروفیسر اشفاق کلیم ایک سیاسی کارکن بھی ہیں تو اس امر
کو ملحوظ رکھ کر دیواریں کھینچنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ ان کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔

تمناؤں کی میلی پوٹلی میں
تمہاری یاد کے موتی بندھے ہیں

جب ترے غم کو نیند آ جائے
تیری یادوں کا روپ جاگتا ہے

حاصل عمر رائیگاں کی قسم
حاصل عمر رائیگاں تم ہو

ہماری نیند کوئی لے اڑا ہے
ہمارے خواب بے گھر ہو گئے ہیں

ہر ایک بات کے معانی وہ جان لیتی ہے
ہماری چپ کو مگر گفتگو نہیں آتی

اس طرح رکھی ترے میخانہ خالی کی لاج
رات بھر ہم بن پئیے ہی ہاو ہو کرتے رہے

ہم کلامی بڑی غنیمت ہے
کیا ضروری ہے ہم زباں ہونا

اہلِ ادب ہوں یا ادب نواز یہ کتاب ضرور پڑھیں۔ یقیناً آپ کو کہسار کی ایک علمی شخصیت سے روشناس ہونے پر فخر محسوس ہو گا۔ مجھے تو فخر ہے کہ کہسار کی دھرتی میں شعراء و ادیب برف کے گالوں کی طرح نمودار ہو رہے ہیں۔ میری دھرتی میں علم و ادب کا چلن عام ہو رہا ہے۔

#حمادسکندر


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481