اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

 علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ منتخب

 علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ منتخب

 

آزادامیدوار علی امین گنڈاپورخیبر پختونخوا کے 22ویں وزیر اعلی منتخب ہوگئے ہیں۔

 

خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد شروع ہوا، نومنتخب سپیکر بابر سلیم سواتی خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس کی صدارت کی ، نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کروائی گئی۔

 

آزادامیدوار علی امین گنڈاپور 90 ووٹ لے کرکامیاب ہوئے ، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیےمجموعی طور پر 106 ووٹ ڈالے گئے۔

 

نئے وزیراعلیٰ کے لیے علی امین گنڈا پور کا مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عباد اللہ خان سے ہوا، علی امین گنڈا پور کے مدمقابل عباداللہ نے 16 ووٹ حاصل کیے۔

 

 

نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے اسمبلی میں اظہار خیال  کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا شکرگزار ہوں، انشااللہ امیدوں پر پورا اتروں گا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ آزاد حیثیت سے وزیراعلیٰ بنا ہوں، ہماری پارٹی اور لیڈر شپ سے جو زیادتی ہوئی وہ دنیا میں کہیں نہیں ہوئی، 17 سال سے رکن پی ٹی آئی ہوں۔

 

انہوں نے کہا کہ حقیقی آزادی ہماری ضرورت تھی ، ہے اور رہے گی، بانی پی ٹی آئی کوجعلی پرچوں میں جیل میں ڈالاگیاہے،  بانی پی ٹی آئی کا اوپن ،صاف اور شفاف ٹرائل ہونا چاہیے، ہماری پارٹی خواتین کے ساتھ جو ظلم ہوا اس کا ازالہ کیا جائے ، آپ اپنی اصلاح کریں،ہم انتقامی کارروائی نہیں چاہتے ، خیبر پختونخوا، یہ ملک ،ادارے اور ریاست ہماری ہے۔

 

نومنتخب وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونےکا بھی مطالبہ کردیا،  ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا نے کہا کہ  الیکشن شفاف نہیں ہوئے، الیکشن کمیشن کا کام شفاف انتخابات کرانا ہے۔

 

نومنتخب وزیراعلیٰ نے کہاکہ 9 مئی واقعے کی انکوائری ہونی چاہیئے، جس ایف آئی آر کا ثبوت نہیں وہ ختم ہونی چاہیے، چاہے وہ کسی کے بھی خلاف ہو، اگر ایک ہفتے کے اندر یہ ایف آئی آر ختم نہ کی گئی تو جس نے غلط ایف آئی آر کی ہے، اس کو میں اصلاح کا موقع دے رہا ہوں لیکن اصلاح کے لیے تیار نہیں ہے تو سزا کے لیے تیار ہوجائے۔

 

انہوں نے متنبہ کیا کہ ہم حق لینا بھی جانتے ہیں اور حق چھیننا بھی، قوم کومجبورنہ کیاجائے کہ وہ حق چھیننے کے لیے اپنی آواز اٹھائے، ریاست کافرض بنتاہےکہ وہ عوام کوان کا حق دیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481