اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مانسہرہ میں نواز شریف کی شکست پر مہر لگ گئی

مانسہرہ میں نواز شریف کی شکست پر مہر لگ گئی

این اے 15 مانسہرہ انتخابی عذرداری کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا۔لیگی قائد میاں نوازشریف کی اپیل خارج۔ پی ٹی ائی کے حمایت یافتہ آزاد اُمیدوار شہزادہ گستاسپ خان کامیابقرار پائے ۔تفصیلات کے مطابق این اے 15 میں دوبارہ الیکشن کرانے کی درخواست مسترد کردی گئی۔شہزادہ گستاسپ خان کی کامیابی کا سرکاری نتیجہ آج جاری کیا جائے گا۔

آٹھ فروری کو شہزادہ گستاسپ خان نے این اے 15 سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو 25 ھزارسے زائد ووٹوں سے شکست دی تھی۔جس کے بعد فارم 45 کے بعد فارم 47 جاری ہونے سے قبل میاں نواز شریف کی جانب سے درخواست دائرکردی گئی تھی۔ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 2 رکنی کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 15 (مانسہرہ) عذرداری کیس کی سماعت گزشتہ روز کی تھی۔جس میں نواز شریف کے وکیل جہانگیر جدون نے بتایا کہ ہمیں آر او کے جواب کی کاپی کل شام کو ملی، ہمارا کیس اسی جواب پر ہے۔ الیکشن کمیشن کے ممبر سندھ نثار درانی کے استفسار پربتایا گیا کہ اس پر حکم امتناعی ہے۔
وکیل نے کہا کہ کامیاب امیدوار کا فتح کا مارجن 24 ہزار سے زائد ہے۔ ہمیں 123 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج نہیں ملے۔ ہمیں فارم 45 پریزائیڈنگ افسر نے نہیں دیے۔ ہمارا رزلٹ اگلی صبح 10 بجے تک بھی نہیں آیا تھا۔
الیکشن کمیشن کے ممبر پنجاب نے کہا کہ یہ جو آپ 10 بجے کی بات کر رہے، ایسے تو پورا ملک کھولنا پڑے گا۔ آپ 632 صفحات کے بجائے چیدہ چیدہ پوائنٹس بتائیں۔ ایسے تو ہمیں پورے صفحات پڑھنا پڑیں گے۔
وکیل نے بتایا کہ 15 پولنگ اسٹیشنز کے بیلٹ باکس کی سیلز موجود نہیں تھی۔ کچھ بیلیٹ باکس پر جزوی سیل لگی ہوئی تھی۔ ہمیں ابھی تک فارم 51 موصول نہیں ہوا۔ اس میں ہم دیکھیں کہ کون کونسے بیلٹ باکس کی سیل ٹوٹی ہوئی ہے۔ اس حلقے میں ریکارڈ ٹیمپر ہوا ہے۔ اس حلقے میں ڈسکہ سے زیادہ ٹیمپرنگ ہوئی ہے۔ وہاں پر آر او کے خلاف ایف آئی آر ہو چکی ہے۔ آر او بیمار ہوا، اسپتال گیا، وہاں سے غائب ہو گیا۔
وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ این اے 15 میں ووٹوں کی گنتی اگلی صبح 4 بجے تک بھی مکمل نہ ہوئی۔ این اے 15 میں 123 فارم 45 میں ردوبدل کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ممبر بابر حسن بھروانہ نے کہا کہ کیا وجہ ہوگی جو آپ کے پولنگ ایجنٹ کو فارم 45 نہیں دیے گئے؟ ، جس پر وکیل نے بتایا کہ ایک شخص کو جتوانے کے لیے ریاستی مشینری کا بےدریغ استعمال کیا گیا۔ الیکشن غیر آئینی، غیر قانونی اور انتخابی قوانین کے خلاف تھا۔
ممبر الیکشن کمیشن بابر حسن بھروانہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ پورے ملک کے الیکشن غیر آئینی، غیر قانونی اور دھاندلی زدہ تھے؟ ، جس پر وکیل نے کہا کہ میں صرف این اے 15 کے الیکشن میں بےضابطگیوں کی بات کر رہا ہوں۔
نواز شریف کے وکیل جہانگیر جدون نے این اے 15 مانسہرہ میں دوبارہ الیکشن کرانے کی درخواست کرتے ہوئے اپنے دلائل مکمل کیے۔
بعد ازاں وکیل بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ اگر تھیلوں کی سیلیں ٹوٹی تھیں تو تحقیقات کے لیے معاملہ ٹریبونل کو بھجوایا جائے۔ آر او کے خلاف درج ایف آئی آر کو شہادت کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔ الیکشن کمیشن عدالت ہے نہ ٹریبونل، شہادت ریکارڈ نہیں کرسکتا۔ 8 فروری رات ایک بجے تک الیکشن کے حوالے سے کوئی بڑی شکایات نہیں تھیں۔ نواز شریف این اے 15 میں 8 فروری کے الیکشن کے نتیجے میں ہارے ہیں۔ الیکشن کمیشن ٹریبونلز بنا چکا ہے، این اے 15 کا معاملہ ٹریبونل کو بھجوایا جائے۔گزشتہ روز فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا۔ آج ریٹرننگ آفیسر این اے 15 شہزادہ گستاسپ خان کا فارم 49 جاری کریں گے


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481