اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

راشد عباسی کا خاکہ "منتظم”

1669864537498 2
  • راشد عباسی کا خاکہ "منتظم”

IMG 20240226 121452 3

پہاڑی تحریر: ڈاکٹر محمد صغیر

اردو ترجمہ: راشد عباسی

چھوٹا قد، مناسب جسامت، صاف رنگت، چھوٹی چھوٹی ڈاڑھی، سلیقے سے ترشے ہوئے بال، کاندھے کے ساتھ لٹکا بیگ، تیز تیز قدم اٹھاتا ادھر سے ادھر دوڑتا پھرتا ہے لیکن اس دوران ہر مہمان کے پاس جانا اور خوش اخلاقی سے ملنا اس کا وطیرہ ہے۔ بہ قول اس کے وہ "دادا” ہے لیکن دیکھنے میں وہ پوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے لیکن یہ سچ کچھ ہضم ہونے میں نہیں آتا۔

راشد عباسی کب سے میرا آشنا و شناسا ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ وہ جب مجھے پہلی بار ملا تھا تو ایسے لگتا تھا کہ ہم مدتوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ اس سے ملنے پر کسی اجنبیت کا شائبہ تک موجود نہیں تھا۔ آپ خود فیصلہ کریں ایسے شخص کو کوئی ناشناسا کہہ سکتا ہے؟… ہرگز نہیں۔

راشد عباسی کا خاندان قبیلہ کس علاقے سے تعلق رکھتا ہے مجھے اس کے بارے میں کچھ علم نہیں لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ وہ پنڈی اور مری کے بیچ میں محو سفر رہتا ہے اور اسی پہاڑی علاقے میں کسی پہاڑی کے سائے میں اس نے اب تک کی عمر بسر کر لی ہے اور باقی عمر بھی اسی روش پر چلتے ہوئے گزار دے گا۔ میری اور راشد عباسی کی پہلی بالمشافہ ملاقات شاید مادری زبانوں کے کسی میلے میں ہوئی تھی۔ تب بھی وہ تیز تیز قدم اٹھاتا بھاگ دوڑ میں مصروف تھا۔ تب بھی پہاڑی زبان کی بقا اور فروغ اس کا مسئلہ تھا۔ وہ میلے میں اپنی ماں بولی کی وجہ سے ہی آیا تھا۔ اس وقت وہ کسی ملٹائی نیشنل کمپنی میں بڑے انتظامی عہدے پر فائز تھا۔ اس سے پیشتر وہ سعودی عرب، مشرق وسطی کے کئی ممالک اور لیبیا میں انتظامی عہدوں پر کام کر چکا تھا۔ اسی تجربے نے اسے بندوبستی اور انتظامی فرد بنا دیا کہ وہ نہ چاہے تو بھی ہر ادبی میلے کی ہر تقریب کے منتظمین کے ہراول دستے میں شامل ہوتا ہے۔ اور سب کچھ اس خوش اسلوبی سے انجام دیتا ہے کہ اس کے بہترین منتظم ہونے کا ایقان ہو جاتا ہے۔

مادری زبانوں کے ادبی میلے میں وہ ہر سرگرمی میں پیش پیش ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر میلے کے بارے میں باقاعدہ ڈیزائن کر کے معلومات عام کرنا، ہال کے انتظامات، مہمانوں کا استقبال، سب کچھ وہ کرتا ہے بلکہ اسے کرنا پڑتا ہے کہ اس کے رفقائے کار کو اس پر بھروسہ ہے کہ وہ کر سکتا ہے۔ اکادمی ادبیات جائیں تو وہاں بھی راشد عباسی سے آپ کی ملاقات ہو جائے گی ۔ وہ آپ کو اپنے دوست معروف ناول نگار اور اکادمی ادبیات میں اردو کے ایڈیٹر جناب اختر رضا سلیمی سے ملوائے گا۔ وہاں یہ کسی کتاب کے ترجمے، کسی کی پروف ریڈنگ اور کسی کی کمپوزنگ کی بات کرے گا اور پھر کسی اور کام کے سر انجام دینے کو دوڑ پڑے گا۔

1669864537498 1پہاڑی زبان و ادب راشد عباسی کا حوالہ ہیں۔ میں اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس کار عظمی میں کب سے ہے لیکن مجھے اس کا علم ہے کہ آج کل اس سلسلے میں اس کا مرشد اشفاق کلیم عباسی ہے جو مری میں سکونت رکھتے ہیں یعنی وہ بھی پہاڑیے ہیں۔ اور انھیں بھی پہاڑی زبان و ثقافت سے محبت نہیں عشق ہے۔ اس لیے راشد عباسی سر تسلیم خم کیے اس کے ساتھ چلتا ہے اور وہ بھی اس کی سنتے مانتے ہیں۔ یہ دونوں مل کر پہاڑی زبان و ادب کے فروغ کے لیے بہت کچھ کر رہے ہیں۔ ایک اگر "نویں سویل” لکھتا ہے تو دوسرا "سولی ٹنگی لوء” لے کر منظر عام پر آ جاتا ہے۔ ایک اگر پہاڑی زبان و ادب کی تاریخ لکھتا ہے تو دوسرا ترجمے میں مصروف رہتا ہے۔ دونوں نے مل کر انجمن فروغ پہاڑی زبان بھی تشکیل دی اور سوشل میڈیا کو بھی موثر انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔

راشد عباسی پہاڑی نال زبان کا "یو فون کا ٹاور” ہے۔ ہر پہاڑی بولنے اور لکھنے والا اس کی طرف مڑ کر یہ کہتا ہوا پایا جاتا ہے کہ "تم ہی تو ہو”. کیونکہ جس کسی نے بھی کسی دوسرے سے رابطہ کرنا ہو اس کا وسیلہ راشد عباسی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پہاڑی لکھنے والے ہوں یا آزاد کشمیر کے گنے چنے احباب، پنڈی پشاور والے ہوں یا پوٹھوہار کے رہنے بسنے والے ۔۔۔ راشد عباسی سب کا دوست ہے اور سب سے رابطے میں رہتا ہے۔

"رنتن” راشد عباسی کے ہونے کی ایک اور دلیل اور پہاڑی زبان و ادب کے ساتھ اس کی سنجیدہ اور گہری محبت اور پیار کی نشانی ہے۔ رنتن اس علاقے میں پہاڑی زبان و ادب کا پہلا کتابی سلسلہ ہے جو بہت معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ وقیع ہے۔ مالی اور دیگر وسائل کی کمی کے باوجود راشد عباسی جس طرح اس کتابی سلسلے کی اشاعت کو جاری رکھے ہوئے ہے یہ اس کے بہترین منتظم ہونے کا ثبوت ہے۔

راشد عباسی پہاڑی کے علاوہ اردو ادب سے بھی گہری وابستگی رکھتا ہے اور اردو کا اچھا شاعر ہے۔ راشد عباسی ان لوگوں میں سے ہے جو لکھنے سے پہلے بہت پڑھنے پر یقین رکھتے ہیں بلکہ ہر وقت مطالعے میں غرق رہتے ہیں۔ اس کے کاندھے سے لٹکتے تھیلے میں جب بھی آپ دیکھیں دو چار کتابیں موجود پائیں گے۔ یہ بوجھ اس نے یوں ہی نہیں اٹھایا ہوتا بلکہ اس کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہے۔۔۔۔۔ پرانا شوق !۔ اردو شاعری کی بات چل نکلی ہے تو میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ راشد عباسی بہت خوب صورت اردو نظم لکھتا ہے۔ اردو ادب کے حوالے سے راشد عباسی ان لوگوں میں شامل ہے جو پروفیسر یوسف حسن مرحوم کو اپنا استاد اور رہبر مانتے ہیں۔ یہاں مجھے یہ بھی یاد آیا کہ راشد عباسی ترقی پسند سوچ کا حامل ہے (لیکن اس کی ترقی پسندی لکیر کی فقیر نہیں). راشد عباسی پہاڑی زبان کا شاعر بھی ہے، مترجم بھی اور مدیر بھی۔ وہ پہاڑی نظم بھی کمال کی لکھتا ہے۔ اس کی غزل اور قطعات بھی اپنے اندر بھرپور ادبی چاشنی رکھتے ہیں۔

شاعر، ادیب، مدیر، مترجم اور ناشر سے ہٹ کر راشد عباسی ایک بہترین منتظم بھی ہے۔ وہ ہر تقریب کو طریقے، سلیقے سے سر انجام دینے کا ہنر جانتا ہے اور ہر سرگرمی کو بہ طریق احسن نبھانے کے طریقے سے واقف ہے۔

راشد بہ ذات خود ایک فرد شیریں ہے۔ اس سے ایک بار ملنے والا بندہ ہمیشہ کے لیے اس کے حلقہ یاراں میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ حلیم ہے، نرم خو ہے اور مہمان نواز ہے۔ وہ اپنی استطاعت سے بڑھ کر دوستوں کا خیال رکھتا ہے اور ہر کسی کی خدمت کرتا ہے۔ یوں تو وہ سبھی احباب کا خیال رکھتا ہے لیکن میرے خیال میں وہ اشفاق کلیم عباسی کو گرو مانتا ہے اور چھوٹی سی کوئی بات ہو یا بڑے سے بڑا مسئلہ اشفاق کلیم عباسی کی رائے کو وہ حتمی مانتا ہے۔

راشد عباسی پہاڑی زبان و ادب کے لیے نہ صرف خود بہت وقیع کام کر رہا ہے بلکہ اور لوگوں کو بھی اس کار ناگزیر سے منسوب و مربوط کر رہا ہے۔ اس کی کاوش پیہم یقینا ایک دن رنگ لائے گی اور پہاڑی زبان کا ڈوبا ہوا سفینہ ایک بار پھر آب و تاب سے تیرنا شروع کرے گا۔ مجھے پوری امید اور یقین واثق ہے کہ پہاڑی زبان و ادب کے حوالے سے راشد عباسی کی جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی۔ کیوں کہ اس کی محنت، خلوص اور بھرپور لگن وہ عناصر ہیں جو پہاڑی زبان کے فروغ بہ ہر حال یقینی بناتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد صغیر، راولاکوٹ 

کتاب : لیکاں


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481